پاکستان سے ہاکی سیریز بھارت حکومتی اجازت کا منتظر

میچزکا شیڈول بنا لیا لیکن حتمی شکل دینے کیلیے اعلیٰ حکام کا گرین سگنل درکار ہو گا، نریندر بٹرا

میچزکا شیڈول بنا لیا لیکن حتمی شکل دینے کیلیے اعلیٰ حکام کا گرین سگنل درکار ہو گا، نریندر بٹرا۔ فوٹو: فائل

پاکستان سے ہاکی سیریزکیلیے بھارت اپنی حکومت کی اجازت کا منتظر ہے۔


سیکریٹری فیڈریشن نریندر بٹرا کے مطابق ہم نے میچزکا شیڈول تیارکر لیا لیکن دورے کو حتمی شکل دینے کیلیے اعلیٰ حکام کا گرین سگنل درکار ہے۔ نمائندہ ''ایکسپریس ٹریبیون'' فواد حسین سے فون پر بات چیت میں بٹرا نے بتایا کہ عام انتخابات کے بعد بننے والی نئی حکومت سے رابطہ کر کے دورے کی اجازت طلب کریں گے۔ یاد رہے کہ پاک بھارت ہاکی ٹیموں کے درمیان گذشتہ برس مارچ، اپریل میں بھی ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز طے پائی تھی، اس کیلیے نریندر بٹرا لاہور بھی آئے، انھوں نے نیشنل اسٹیڈیم میں سیریز کے معاہدے پر دستخط بھی کیے، بعد ازاں بھارتی حکومتی کی طرف سے سرد مہری کی وجہ سے یہ سیریز نہ ہو سکی۔اس صورتحال سے مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے دونوں فیڈریشنز نے ایک بار پھرنئے عزم اور ولولے کے ساتھ دو طرفہ سیریز کی بات چیت کا آغاز کیا، عہدیدارگذشتہ برس ملائیشیا میں شیڈول سلطان آف جوہر کپ کے دوران جوہر بارو میں ملے،اس دوران پی ایچ ایف حکام ہاکی انڈیاکو قائل کرنے میں کامیاب رہے کہ پہلے مرحلے میں بھارتی ٹیم پاک سرزمین کھیلنے کیلیے آئے۔

وطن واپسی پر پاکستانی حکام نے ہوم سیریز کا ممکنہ شیڈول بھارت بھجوایا جس کی منظوری تین روزقبل مل گئی، البتہ اس حوالے سے صدر پی ایچ ایف چوہدری اختر رسول اور سیکریٹری رانا مجاہد علی میں اختلاف موجود ہے، صدر پی ایچ ایف نے2 اپریل کو نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا کو بتایا کہ بھارتی ٹیم تین میچزکی سیریز میں حصہ لینے کیلیے20 جون کو آئے گی، پہلا میچ21 جون کو کراچی،دوسرا23 تاریخ کو فیصل آباد جبکہ تیسرا مقابلہ25 جون کو لاہور میں ہوگا۔ سیکریٹری فیڈریشن رانا مجاہد علی نے کہاکہ بھارتی ٹیم 30 جون کو پاکستان آئے گی اور سیریز کے میچز جولائی میں ہوں گے۔ یاد رہے کہ پاک بھارت ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر آخری سیریز 2006 میں ہوئی جس میں گرین شرٹس نے روایتی حریف کو زیر کیا تھا۔ دونوں ٹیمیں اس وقت عالمی رینکنگ میں بالترتیب آٹھویں اور نویں نمبر پر ہیں۔ ماضی کے عظیم کھلاڑی اس بات پر متفق ہیں کہ پاک بھارت ٹیموں کے درمیان مستقل بنیادوں پر دو طرفہ سیریز ہونی چاہیے، اس کے ذریعے سے نہ صرف خطے کی ہاکی کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے بلکہ کھوئے ہوئے عالمی اعزازات بھی حاصل کرنا ممکن ہوگا۔
Load Next Story