ٹویٹر نے باضابطہ طور پر تھرڈ پارٹی کلائنٹس اور ایپس بند کردیں
ایک ہفتے قبل اس کا اعلان کیا ہے کہ اس پلیٹ فارم سے وابستہ تمام تیسرے فریق کے سافٹ ویئر اب کام نہیں کریں گے
ٹویٹر نے ٹویٹ بوٹ اور ٹویٹریفک سمیت اپنے پلیٹ فارم سے جڑنے والی کئی ایپ سے رابطہ توڑ لیا ہے۔ فوٹو: فائل
ٹویٹر نے ایک ہفتے قبل اس کا عندیہ دیا تھا اور اب باضابطہ طور پر ایپ سے جڑی 'تھرڈپارٹی ایپس' اور سافٹ ویئر کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں، ٹویٹر سے جڑنے والی تمام ایپس اور سافٹ ویئر شامل ہیں۔
ان میں ٹویٹ بوٹس بھی شامل ہیں جو ٹویٹر سے جڑ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح نئے فرمان کے تحت ٹویٹر اے پی آئی قسم کے پروگرام بھی بے عمل ہوجائیں گے۔ اس بات کی خبر ٹیکنالوجی کی مشہور ویب سائٹ نے دی ہیں جن میں دی ورج اور اینڈگیجٹ نمایاں ہے۔
جمعرات کو ٹویٹر نے اپنے آفیشل بیان میں 'ٹویٹر ایپلی کیشنز' کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مطلب، کنزیومر مصنوعات، سروس، ایپلی کیشن، ویب سائٹ اور دیگر متبادل سروس بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل 12 جنوری کو ٹویٹر نے ٹویٹ بوٹ اور ٹویٹریفک کو پہلے ہی کام سے روک دیا ہے اور وہ ٹویٹر پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ پھر 17 جنوری کو ایک اور اعلان میں اے پی آئی قوانین بدلنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
تاہم تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر اور ایپس بنانے والی کمپنیوں نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ٹویٹر کا یہ اعلان غیرواضح ہے اور ان کی ایپ برسوں سے کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ 16 برس سے اے پی آئی میں ترمیم اور قوانین کی پابندی کررہے ہیں اور بھی کریں گے۔
ان میں ٹویٹ بوٹس بھی شامل ہیں جو ٹویٹر سے جڑ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ اسی طرح نئے فرمان کے تحت ٹویٹر اے پی آئی قسم کے پروگرام بھی بے عمل ہوجائیں گے۔ اس بات کی خبر ٹیکنالوجی کی مشہور ویب سائٹ نے دی ہیں جن میں دی ورج اور اینڈگیجٹ نمایاں ہے۔
جمعرات کو ٹویٹر نے اپنے آفیشل بیان میں 'ٹویٹر ایپلی کیشنز' کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مطلب، کنزیومر مصنوعات، سروس، ایپلی کیشن، ویب سائٹ اور دیگر متبادل سروس بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل 12 جنوری کو ٹویٹر نے ٹویٹ بوٹ اور ٹویٹریفک کو پہلے ہی کام سے روک دیا ہے اور وہ ٹویٹر پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ پھر 17 جنوری کو ایک اور اعلان میں اے پی آئی قوانین بدلنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
تاہم تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر اور ایپس بنانے والی کمپنیوں نے اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ٹویٹر کا یہ اعلان غیرواضح ہے اور ان کی ایپ برسوں سے کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ 16 برس سے اے پی آئی میں ترمیم اور قوانین کی پابندی کررہے ہیں اور بھی کریں گے۔