سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی کے بھائی کو گرفتارکرلیا گیا
امیرحیدر خان ہوتی کے بھائی غزن خان ہوتی پرالزام ہے کہ انہوں نے اسلحہ خریداری اسکینڈل میں بھاری رقم کمیشن کے طور پر لی
عدالت نے امیر غزن خان ہوتی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا فوٹو:ایکسپریس نیوز
اسلحہ اسکینڈل کیس میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی کے بھائی غزن خان ہوتی کو ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہونے پر گرفتار کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مظہر عالم میاں خیل کی سربراہی میں اسلحہ اسکینڈل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے امیر غزن خان ہوتی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جس کے بعد نیب نے انہیں حراست میں لے لیا جب کہ عدالت نے سابق آئی جی ملک نوید اور امیرغزن ہوتی کے برادر نسبتی رضاعلی خان کی بھی درخواست ضامنت مسترد کردی۔
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی کے بھائی غزن خان ہوتی پرالزام ہے کہ انہوں نے اسلحہ خریداری اسکینڈل میں 19 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بھاری رقم کمیشن کے طور پر لی۔ عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران غزن ہوتی کی عبوری ضمانت میں 15 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے نیب کو تاحکم ثانی ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مظہر عالم میاں خیل کی سربراہی میں اسلحہ اسکینڈل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے امیر غزن خان ہوتی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جس کے بعد نیب نے انہیں حراست میں لے لیا جب کہ عدالت نے سابق آئی جی ملک نوید اور امیرغزن ہوتی کے برادر نسبتی رضاعلی خان کی بھی درخواست ضامنت مسترد کردی۔
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی کے بھائی غزن خان ہوتی پرالزام ہے کہ انہوں نے اسلحہ خریداری اسکینڈل میں 19 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بھاری رقم کمیشن کے طور پر لی۔ عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران غزن ہوتی کی عبوری ضمانت میں 15 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے نیب کو تاحکم ثانی ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔