اعصابی تناؤ ٹروٹ کرکٹ میدانوں سے پھر دور چلے گئے
سوفیصد فٹ نہیں، مکمل علاج کے بعد کھیل میں واپسی اختیار کروں گا، بیٹسمین
سوفیصد فٹ نہیں، مکمل علاج کے بعد کھیل میں واپسی اختیار کروں گا، بیٹسمین۔ فوٹو: فائل
جوناتھن ٹروٹ دوبارہ کرکٹ میدانوں کو فوری طور پر چھوڑکرجانے پر مجبور ہوگئے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ( ای سی بی ) اعلامیے کے مطابق بیٹسمین فوری طور پر اپنی تمام کرکٹ سرگرمیوں کو روک رہے ہیں، وہ رواں برس کے اوائل میں انگلش ٹیم کے دورئہ آسٹریلیا کو بھی ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آگئے تھے، جس کے بعد اگلے چار ماہ تک وہ کھیل سے لاتعلق رہے تھے، اس وقت انھیں اعصابی دبائو کا شکار بتایاگیاتھا، تاہم بورڈ کا کہنا ہے کہ انھیں دوبارہ اسی نوعیت کے مسائل درپیش آئے ہیں، وہ بدھ کو سسیکس کیخلاف اپنی کائونٹی ورکشائر کی نمائندگی کررہے تھے، ای سی بی اور ورکشائر کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ ٹروٹ کو اعصابی تنائو سے نجات پانے کیلیے ابھی مزید علاج کی ضرورت ہے اور ان کی طویل المدتی ری ہیبلی ٹیشن پروگرام ہوگا۔
خود جوناتھن ٹروٹ نے اپنی کرکٹ سے دوری اختیار کرنے پر بیان میں کہا ہے کہ مجھے امید تھی کہ میں ورکشائر کے ساتھ بھرپور انداز میں کرکٹ میں واپسی اختیار کروں گا، لیکن اپنے پہلے میچ سے ہی مجھے شدید مایوسی ہوئی، میں نے محسوس کیا کہ مجھے دوبارہ وہی مسائل درپیش آرہے ہیں جن کا سامنا مجھے آسٹریلیا میں کرنا پڑا تھا، ایسے میں کرکٹ کو جاری رکھنا میرے لیے خود اپنے اور ساتھی پلیئرز کے ساتھ منصفانہ بات نہیں ہے، میں سوفیصد فٹ ہونے پر دوبارہ میدانوں کا رخ کروں گا، کیونکہ اعلی سطح پر آپ کو سوفیصد ہی درکار ہوتا ہے، بدقسمتی سے ابھی میرے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں مکمل بحالی حاصل کرنے تک کرکٹ کی تمام سرگرمیوں سے دور جارہا ہوں، آئندہ ہفتے 33ویں سالگرہ منانے والے ٹروٹ گذشتہ ایشز ٹور میں برسبین ٹیسٹ کے بعد وطن واپسی پر مجبور ہوگئے تھے،اس کے بعد انھوں نے چار ماہ ماہرنفسیات اور ای سی بی کی میڈیکل ٹیم کے ہمراہ گزارنے کے بعد اپنے کیریئر کو ازسرنو شروع کرنا چاہا تھا، جنوبی افریقی نژاد بیٹسمین ورکشائر کیلیے کھیلے گئے اولین میچ میں 37 اور26 رنز اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، انھوں نے مجموعی طور پر انگلینڈ کیلیے 49 ٹیسٹ میچز میں46.45 کی اوسط سے3763 رنز اسکور کیے ہیں، جس میں 9 سنچریاں اور18 نصف سنچریاں شامل ہیں، ان کی سب سے بڑی اننگز لارڈز میں بنگلہ دیش کیخلاف 2010 میں 226 رنز کی صورت بنائے تھے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ( ای سی بی ) اعلامیے کے مطابق بیٹسمین فوری طور پر اپنی تمام کرکٹ سرگرمیوں کو روک رہے ہیں، وہ رواں برس کے اوائل میں انگلش ٹیم کے دورئہ آسٹریلیا کو بھی ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آگئے تھے، جس کے بعد اگلے چار ماہ تک وہ کھیل سے لاتعلق رہے تھے، اس وقت انھیں اعصابی دبائو کا شکار بتایاگیاتھا، تاہم بورڈ کا کہنا ہے کہ انھیں دوبارہ اسی نوعیت کے مسائل درپیش آئے ہیں، وہ بدھ کو سسیکس کیخلاف اپنی کائونٹی ورکشائر کی نمائندگی کررہے تھے، ای سی بی اور ورکشائر کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ ٹروٹ کو اعصابی تنائو سے نجات پانے کیلیے ابھی مزید علاج کی ضرورت ہے اور ان کی طویل المدتی ری ہیبلی ٹیشن پروگرام ہوگا۔
خود جوناتھن ٹروٹ نے اپنی کرکٹ سے دوری اختیار کرنے پر بیان میں کہا ہے کہ مجھے امید تھی کہ میں ورکشائر کے ساتھ بھرپور انداز میں کرکٹ میں واپسی اختیار کروں گا، لیکن اپنے پہلے میچ سے ہی مجھے شدید مایوسی ہوئی، میں نے محسوس کیا کہ مجھے دوبارہ وہی مسائل درپیش آرہے ہیں جن کا سامنا مجھے آسٹریلیا میں کرنا پڑا تھا، ایسے میں کرکٹ کو جاری رکھنا میرے لیے خود اپنے اور ساتھی پلیئرز کے ساتھ منصفانہ بات نہیں ہے، میں سوفیصد فٹ ہونے پر دوبارہ میدانوں کا رخ کروں گا، کیونکہ اعلی سطح پر آپ کو سوفیصد ہی درکار ہوتا ہے، بدقسمتی سے ابھی میرے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں مکمل بحالی حاصل کرنے تک کرکٹ کی تمام سرگرمیوں سے دور جارہا ہوں، آئندہ ہفتے 33ویں سالگرہ منانے والے ٹروٹ گذشتہ ایشز ٹور میں برسبین ٹیسٹ کے بعد وطن واپسی پر مجبور ہوگئے تھے،اس کے بعد انھوں نے چار ماہ ماہرنفسیات اور ای سی بی کی میڈیکل ٹیم کے ہمراہ گزارنے کے بعد اپنے کیریئر کو ازسرنو شروع کرنا چاہا تھا، جنوبی افریقی نژاد بیٹسمین ورکشائر کیلیے کھیلے گئے اولین میچ میں 37 اور26 رنز اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، انھوں نے مجموعی طور پر انگلینڈ کیلیے 49 ٹیسٹ میچز میں46.45 کی اوسط سے3763 رنز اسکور کیے ہیں، جس میں 9 سنچریاں اور18 نصف سنچریاں شامل ہیں، ان کی سب سے بڑی اننگز لارڈز میں بنگلہ دیش کیخلاف 2010 میں 226 رنز کی صورت بنائے تھے۔