’’اساں شِکرا یار بنایا‘‘
امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سوویت یونین کو اپنے مشروب پلا پلا کر ختم کیا ہے...
Abdulqhasan@hotmail.com
جاتی بارشوں نے مڑ کر دیکھا اور کچھ زیادہ ہی دیکھ لیا۔ زیادہ دیر تک بارش برستی رہی اور اس کے ساتھ اولے بھی پڑتے رہے۔ کمزور چھتوں والے مکانوں اور کٹائی کے قریب فصلوں نے اس جاتی بارش کو کچھ زیادہ ہی محسوس کیا۔ غریب لوگ کمزور چھتوں تلے دب گئے اور نئی فصل کے منتظر اپنی بھیگی ہوئی فصل کو دیکھتے ہی رہ گئے۔ اب دھوپ ہو گی، گرمی لگے گی اور گندم کے بھیگے پودے سوکھیں گے تو پھر دراتیاں باہر نکلیں گی اور ایک نئی دنیا آباد ہو گی۔ یہ ایسی دنیا ہے جو ہر برس قدرت کی مہربانی کی محتاج ہوتی ہے۔
میں نے گاؤں فون کیا تو پتہ چلا کہ ہمارے سرد علاقے میں گندم ابھی تک سبز ہے، کچی ہے اس لیے وہ بارش برداشت کر گئی ہے بلکہ ہو سکتا ہے یہ بارش اس کے لیے ایک نعمت بن جائے لیکن ہر فصل ہر لمحے قدرت کی مہربانی دیکھ کر ہی جیتی ہے، جوان ہوتی ہے اور اپنے بڑھاپے کو پہنچتی ہے تب وہ کاٹ لی جاتی ہے اور کھلیان کی زینت بن جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں تو ایسا بھی ہوتا رہا کہ بارش بروقت نہ ہوئی اور فصل بارش کے وصال کے انتظار میں سوکھ گئی اور یوں بارانی گندم کا سال مر گیا۔ بہرکیف وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اس سال بھی بروقت بارش نہ ہوئی۔ گندم ادھ موئی ہو گئی، کاشتکاروں نے صبر شکر کر لیا لیکن پھر بارش شروع ہوئی اور گندم کے جتنے پودے ابھی زندہ تھے ان میں نئی جان آ گئی۔ قدرت اگر مہربان رہی تو شاید کھانے کو کچھ مل جائے۔ لگتا ہے گندم بیچنے کے زمانے اب گزر گئے ہیں۔
غنیمت ہے اگر کچھ کھانے کو مل جائے اور کھاد اور گندے پانی کی پلی ہوئی گندم سے نجات مل جائے۔ کھانے کو خالص گندم مل جائے تو اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔ جب یہ گندم ملتی ہے تو میں ڈبل روٹی کھانی بند کر دیتا ہوں اور اس کی جگہ چپاتی چلتی ہے خالص گندم کی چپاتی جو مکھن سے چپڑی جاتی ہے۔ اسے ہی چپڑیاں اور دو دو بھی کہتے ہیں۔ زندگی کے نئے اطوار نے تو ہمارے محاورے ہی بدل دیے ہیں۔ امریکا نے انسانی غذا کے نئے نمونے ایجاد کیے ہیں جو بنے بنائے بند شکل میں ملتے ہیں۔ ٹوسٹ اور کسی گوشت کے کباب جن کے ساتھ بوتلیں بھی دی جاتی ہیں اور آپ ایک فون کر دیں سب کچھ گھر کے دروازے پر پہنچ جائے گا۔
آپ بچ کر نہیں جا سکتے۔ بچوں کے لیے سب سے بڑی رشوت یہی جنک فوڈ ہوتی ہے جس کو پا کر وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ ہمارے بچے اسی امریکی ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سوویت یونین کو اپنے مشروب پلا پلا کر ختم کیا ہے۔ ہم روسیوں کو افغانستان میں اپنا خون پلاتے رہے اور امریکی ماسکو میں کولا پلاتے رہے اور روسی مارے گئے۔ بات تو بارش اور گندم سے شروع ہوئی تھی۔ گندم کے اس دانے نے کیا کیا ہر انسان اس کے فساد کو جانتا ہے اور ہم اسی فساد کے لیے ہر سال مر مر کر جیتے ہیں اور اسی کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔
ان دعاؤں کے لیے ہمارا میدان بڑا وسیع ہے۔ کسی ایک بحران کے لیے ہماری دعائیں ختم نہیں ہوتیں کہ کوئی دوسرا بحران سر نکال لیتا ہے۔ ایک بحران ہمارے گلے پڑا ہوا ہے، یہ ہے طالبان کا بحران۔ ہم نے پہلے تو اس بحران کی پرورش کی، اس کو جوان کیا اور جب وہ ظاہر ہے کہ ہمارے گلے پڑ گیا تو ہم چیخنے چلانے لگے۔ مجھے پنجابی کے چند شعر یاد آ رہے ہیں، شیوکمار بٹالوی نام کے ایک 31 سالہ نوجوان کے ہیں جو بھارت چلا گیا۔
مائے نی مائے میں اک شکرا یار بنایا
اوہدے سر تے قلغی اوہدے پیراں چہ جھانجر
اوہ جوگ چگیندا آیا
اک اوہدے روپ دی دھپ نکھری، دوجا مینگھاں دا ترسایہ
تیجا اس دا رنگ گلابی کسی گوری ماں دا جایا
چوری گتھاں تے اوہ کھاندا ناہیں تے اساں
دل دا ماس کھوایا
شاعری کا ترجمہ ممکن نہیں ہوتا۔ بہرحال( میری ماں میری ماں میں نے اک شکرا یار بنایا۔ اس کے سر پر قلغی ہے اور پیروں میں جھانجھر، وہ کچھ دانا دنکا کھاتا آیا۔ ایک تو وہ دھوپ کی طرح چمکدار دوسرا کسی حسن کا ترسایا تیسرا اس کا رنگ گلابی جیسے کسی گوری ماں کا بیٹا ہے۔ میں اسے چوری کھلاؤں تو وہ کھاتا نہیں ہم نے پھر اسے دل کا گوشت کھلایا)
ہم بھی اپنے محبوب طالبان کو تو اب دل کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ وہ ہماری کوئی مانیں نہ مانیں ہم ان کی ہر بات مانتے ہیں۔ ہم نے کسی تخت پر بٹھا دیا ہے اور وہ اب حکم چلاتے ہیں۔ ان کا صاف صاف مطالبہ یہ ہے کہ جہاں وہ ہیں وہ ٹکڑا (فی الحال) انھیں دے دیا جائے۔ وہ اپنی طرز اور پسند کا اسلام رائج کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے آج کے قائد سوات کے سابق قائد تھے اور ہم ان کو جانتے ہیں وہ کسی صورت بھی ہمارے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ ان کے مطالبات واضح اور برملا ہیں۔ وہ منافق لوگ نہیں ہیں اور صاف صاف بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں اور وہ کیوں ہٹیں، ہم نے ان کو جن بلندیوں پر چڑھا دیا ہے ان سے وہ اترنے پر تیار نہیں ہیں۔
سچ ہے کہ جہانبانی ایک مشکل ترین فن ہے جس میں اپنے جیسے انسانوں سے ہر قسم کا معاملہ کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے شروع میں معاملہ غلط کیا اور حالات کا صحیح جائزہ نہیں لیا۔ افغانستان کا پس منظر ہمارے سامنے تھا جہاں خدا تک کے منکروں کے خلاف طویل جنگ لڑی گئی اور اس جنگ میں شامل لوگوں کا ایک خاص مزاج بن گیا۔ اب ہم مذاکرات کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ عرض کر دیا تھا کہ یہ مذاکرات کسی حال میں بھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کی ناکامی بالکل واضح ہے۔ اب آپ کسی غیر یقینی موسم اور مذاکرات کو دیکھتے جایئے۔ اللہ کے حوالے۔
میں نے گاؤں فون کیا تو پتہ چلا کہ ہمارے سرد علاقے میں گندم ابھی تک سبز ہے، کچی ہے اس لیے وہ بارش برداشت کر گئی ہے بلکہ ہو سکتا ہے یہ بارش اس کے لیے ایک نعمت بن جائے لیکن ہر فصل ہر لمحے قدرت کی مہربانی دیکھ کر ہی جیتی ہے، جوان ہوتی ہے اور اپنے بڑھاپے کو پہنچتی ہے تب وہ کاٹ لی جاتی ہے اور کھلیان کی زینت بن جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں تو ایسا بھی ہوتا رہا کہ بارش بروقت نہ ہوئی اور فصل بارش کے وصال کے انتظار میں سوکھ گئی اور یوں بارانی گندم کا سال مر گیا۔ بہرکیف وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اس سال بھی بروقت بارش نہ ہوئی۔ گندم ادھ موئی ہو گئی، کاشتکاروں نے صبر شکر کر لیا لیکن پھر بارش شروع ہوئی اور گندم کے جتنے پودے ابھی زندہ تھے ان میں نئی جان آ گئی۔ قدرت اگر مہربان رہی تو شاید کھانے کو کچھ مل جائے۔ لگتا ہے گندم بیچنے کے زمانے اب گزر گئے ہیں۔
غنیمت ہے اگر کچھ کھانے کو مل جائے اور کھاد اور گندے پانی کی پلی ہوئی گندم سے نجات مل جائے۔ کھانے کو خالص گندم مل جائے تو اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔ جب یہ گندم ملتی ہے تو میں ڈبل روٹی کھانی بند کر دیتا ہوں اور اس کی جگہ چپاتی چلتی ہے خالص گندم کی چپاتی جو مکھن سے چپڑی جاتی ہے۔ اسے ہی چپڑیاں اور دو دو بھی کہتے ہیں۔ زندگی کے نئے اطوار نے تو ہمارے محاورے ہی بدل دیے ہیں۔ امریکا نے انسانی غذا کے نئے نمونے ایجاد کیے ہیں جو بنے بنائے بند شکل میں ملتے ہیں۔ ٹوسٹ اور کسی گوشت کے کباب جن کے ساتھ بوتلیں بھی دی جاتی ہیں اور آپ ایک فون کر دیں سب کچھ گھر کے دروازے پر پہنچ جائے گا۔
آپ بچ کر نہیں جا سکتے۔ بچوں کے لیے سب سے بڑی رشوت یہی جنک فوڈ ہوتی ہے جس کو پا کر وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ ہمارے بچے اسی امریکی ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سوویت یونین کو اپنے مشروب پلا پلا کر ختم کیا ہے۔ ہم روسیوں کو افغانستان میں اپنا خون پلاتے رہے اور امریکی ماسکو میں کولا پلاتے رہے اور روسی مارے گئے۔ بات تو بارش اور گندم سے شروع ہوئی تھی۔ گندم کے اس دانے نے کیا کیا ہر انسان اس کے فساد کو جانتا ہے اور ہم اسی فساد کے لیے ہر سال مر مر کر جیتے ہیں اور اسی کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔
ان دعاؤں کے لیے ہمارا میدان بڑا وسیع ہے۔ کسی ایک بحران کے لیے ہماری دعائیں ختم نہیں ہوتیں کہ کوئی دوسرا بحران سر نکال لیتا ہے۔ ایک بحران ہمارے گلے پڑا ہوا ہے، یہ ہے طالبان کا بحران۔ ہم نے پہلے تو اس بحران کی پرورش کی، اس کو جوان کیا اور جب وہ ظاہر ہے کہ ہمارے گلے پڑ گیا تو ہم چیخنے چلانے لگے۔ مجھے پنجابی کے چند شعر یاد آ رہے ہیں، شیوکمار بٹالوی نام کے ایک 31 سالہ نوجوان کے ہیں جو بھارت چلا گیا۔
مائے نی مائے میں اک شکرا یار بنایا
اوہدے سر تے قلغی اوہدے پیراں چہ جھانجر
اوہ جوگ چگیندا آیا
اک اوہدے روپ دی دھپ نکھری، دوجا مینگھاں دا ترسایہ
تیجا اس دا رنگ گلابی کسی گوری ماں دا جایا
چوری گتھاں تے اوہ کھاندا ناہیں تے اساں
دل دا ماس کھوایا
شاعری کا ترجمہ ممکن نہیں ہوتا۔ بہرحال( میری ماں میری ماں میں نے اک شکرا یار بنایا۔ اس کے سر پر قلغی ہے اور پیروں میں جھانجھر، وہ کچھ دانا دنکا کھاتا آیا۔ ایک تو وہ دھوپ کی طرح چمکدار دوسرا کسی حسن کا ترسایا تیسرا اس کا رنگ گلابی جیسے کسی گوری ماں کا بیٹا ہے۔ میں اسے چوری کھلاؤں تو وہ کھاتا نہیں ہم نے پھر اسے دل کا گوشت کھلایا)
ہم بھی اپنے محبوب طالبان کو تو اب دل کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ وہ ہماری کوئی مانیں نہ مانیں ہم ان کی ہر بات مانتے ہیں۔ ہم نے کسی تخت پر بٹھا دیا ہے اور وہ اب حکم چلاتے ہیں۔ ان کا صاف صاف مطالبہ یہ ہے کہ جہاں وہ ہیں وہ ٹکڑا (فی الحال) انھیں دے دیا جائے۔ وہ اپنی طرز اور پسند کا اسلام رائج کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے آج کے قائد سوات کے سابق قائد تھے اور ہم ان کو جانتے ہیں وہ کسی صورت بھی ہمارے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ ان کے مطالبات واضح اور برملا ہیں۔ وہ منافق لوگ نہیں ہیں اور صاف صاف بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں اور وہ کیوں ہٹیں، ہم نے ان کو جن بلندیوں پر چڑھا دیا ہے ان سے وہ اترنے پر تیار نہیں ہیں۔
سچ ہے کہ جہانبانی ایک مشکل ترین فن ہے جس میں اپنے جیسے انسانوں سے ہر قسم کا معاملہ کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے شروع میں معاملہ غلط کیا اور حالات کا صحیح جائزہ نہیں لیا۔ افغانستان کا پس منظر ہمارے سامنے تھا جہاں خدا تک کے منکروں کے خلاف طویل جنگ لڑی گئی اور اس جنگ میں شامل لوگوں کا ایک خاص مزاج بن گیا۔ اب ہم مذاکرات کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ عرض کر دیا تھا کہ یہ مذاکرات کسی حال میں بھی کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کی ناکامی بالکل واضح ہے۔ اب آپ کسی غیر یقینی موسم اور مذاکرات کو دیکھتے جایئے۔ اللہ کے حوالے۔