سیاسی بے روزگاروں کو پیغام

جمہوریت کو قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا ہواورشب خون مارنے والے گھات لگائے بیٹھے ہوں توفرینڈلی اپوزیشن ہی کی جانی چاہیے


Zahida Hina April 20, 2014
[email protected]

وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان کے سابق صدر جناب آصف علی زرداری کے درمیان بہتر سیاسی تعلقات کا عمل مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان حالیہ ملاقات کئی حوالوں سے اہم قرار دی جا سکتی ہے۔ ان دو قومی رہنمائوں میں جب بھی کوئی ملاقات ہوتی ہے جس کی گرم جوشی تصویروں میں صاف نظر آ رہی ہو تو ذرائع ابلاغ اس پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں ۔ سیاسی جماعتیں، تجزیہ کار اور دانشور، ملاقات کے اندر پوشیدہ رموز و حقائق کو تلاش کرنے لگتے ہیں۔ حالیہ ملاقات کے بعد بھی کچھ ایسی فضا پیدا ہوئی ہے۔

میاں نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری پاکستان کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہیں۔ یہ جماعتیں کئی دہائیوں تک ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہی ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کی حکومتوں کو ماضی میں ماورائے آئین اقدام یا بدنام زمانہ 58 (2) B کے ذریعے جب بھی ختم کیا گیا تو اقتدار سے باہر رہنے والی جماعت نے اس عمل کا خیر مقدم کیا۔ 1988ء سے لے کر 1999ء تک یہ کھیل جاری رہا۔ سیاسی موقع پرستی کے اس رویے نے دونوں جماعتوں کی سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی اصل ذمے دار یہی دو سیاسی جماعتیں ہیں۔

2005ء میں صورت حال بدلنا شروع ہوئی۔ میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں جن کے نتیجے میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے۔ میں بار بار اس امر پر اصرار کرتی ہوں کہ ان وژنری سیاستدانوں نے اگر میثاق جمہوریت پر اتفاق نہ کیا ہوتا تو ملک میں جمہوریت ابھی بحال نہ ہو پاتی اور شاید ہمیں اس کے لیے دس پندرہ سال مزید انتظار کرنا پڑتا۔ میں اس حقیقت کے پس منظر میں، میثاق جمہوریت کو پاکستان کے آئین کے بعد دوسری سب سے اہم قومی سیاسی دستاویز تصور کرتی ہوں۔ میثاق جمہوریت کا دل کھول کر مذاق اڑایا گیا۔ ان میں وہ سیاستدان اور سیاسی تجزیہ نگار بھی شامل تھے جو آج کل ٹیلی وژن پر ہونے والے سیاسی مباحثوں میں حکومت اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے طرح طرح کے مفروضے ایجاد کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی درست ہے کہ کچھ لوگ ایمانداری سے یہ سمجھتے رہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب نواز شریف نے ذاتی اقتدار کے لیے ایک دوسرے سے مفاہمت کی تھی اور جب ملک سے آمریت ختم ہو گی تو یہ دونوں جماعتیں پھر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہو جائیں گی اور میثاق جمہوریت تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔ محترمہ بھٹو جب تک حیات تھیں، دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات بہت گرم جوش رہے۔ محترمہ نے شہادت سے قبل آخری فون نواز شریف کی خیریت دریافت کرنے کے لیے کیا اور محترمہ کی شہادت کے بعد نواز شریف سب سے پہلے اسپتال پہنچنے والوں میں شامل تھے۔ ان کی اشک بار آنکھیں آج بھی سیاسی کارکنوں کی اداس یادوں میں محفوظ ہیں۔

2008ء کے عام انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون جاری رہا اور حکومت سازی کا مرحلہ بخوبی طے پا گیا۔ ان جماعتوں میں موجود کچھ عقابوں نے حالات خراب کرنے کی کوششیں ضرور کیں جنھیں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے بروقت ناکام بنا دیا۔ جمہوریت کے استحکام کے لیے ان دونوں رہنمائوں نے جس دانش مندی اور سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کیا اس کا تصور بھی کوئی تجزیہ نگار نہیں کر سکتا تھا۔ سیاسی کارکن، تجزیہ نگاروں سے اس لیے زیادہ اہم اور سیانے ہوتے ہیں کہ وہ سیاسی تاریخ رقم کرتے ہیں اور تجزیہ نگار محض اندازے لگاتے ہیں جو کبھی درست اور کبھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے نواز شریف کو فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے دیے لیکن ان طعنوں سے ان کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

جمہوریت جب مستحکم ہو رہی ہو، اُسے قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا ہو اور شب خون مارنے والے گھات لگائے بیٹھے ہوں تو ایسی صورت میں 'فرینڈلی اپوزیشن' ہی کی جانی چاہیے۔ ماضی میں ہمیشہ نام نہاد 'حقیقی اپوزیشن' کے نام پر حکومت کو نہیں بلکہ جمہوریت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں جمہوری جدوجہد سے آگاہ لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جمہوریت کے قیام کے لیے پاکستان کے لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ لفظ 'لاکھوں' کا استعمال بعض قارئین کو مبالغہ آمیز محسوس ہو گا لیکن ذرا یاد کیجیے کہ کیا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کے عمل میں لاکھوں پاکستانی جان سے نہیں گزر گئے؟ ان پاکستانیوں کا مقصد پاکستان کو توڑنا اور ایک نیا ملک بنانا نہیں تھا۔ وہ جمہوریت چاہتے تھے تا کہ اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ملک کے اقتدار میں اپنی جائز نمائندگی حاصل کرسکیں۔

تحریک پاکستان میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں نے سب سے زیادہ پُرجوش اور فعال کردار بھی اسی مقصد کے لیے ادا کیا تھا۔ پہلے جنرل ایوب خان نے مشرقی پاکستان سے امتیازی سلوک روا رکھا اور بعد ازاں جنرل یحییٰ خان نے اقتدار منتخب پارلیمنٹ کو منتقل نہیں کیا جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔ اسی پس منظر میں ملک کی بقا کے لیے نہایت ضروری ہے کہ جب تک جمہوریت مکمل طور پر مستحکم نہ ہو جائے اس وقت تک فرینڈلی اپوزیشن اور دانش مندانہ سیاست کی جائے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سیاسی بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے جس میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے اس پر دونوں جماعتیں آج بھی عمل پیرا ہیں۔

حالیہ نواز ، زرداری ملاقات پاکستان کی سیاسی قوتوں کی ذہنی بلوغت کی ایک روشن علامت ہے۔ وہ لوگ جو معاملات کی نزاکت سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے موجود، سیاسی مفاہمت کو ''مُک مُکا اور پہلی باری، دوسری باری'' کا نام دیا کرتے تھے۔ اب ان کے رویوں میں بھی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ زیادہ تر سیاسی جماعتیں جمہوریت کے تحفظ کے لیے یک زبان ہیں۔ امید ہے کہ وہ حزب اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان بہتر تعلقات کو، کوئی اور نام دینے میں احتیاط سے کام لیں گی۔

اس وقت پاکستان میں ایسے عناصر اور افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے جو ملک میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے سبب، سیاسی طور پر بے روزگار اور بے اختیار ہو چکے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے مزاج کی تلخی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جمہوریت کا تسلسل جاری رہتا ہے تو چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے رہے سہے امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔ ملک کے حالات مجموعی طور پر بہتر ہیں، معیشت بحالی کی طرف گامزن ہے، پاکستان عالمی تنہائی سے باہر نکل رہا ہے، صوبائی حکومتیں آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہیں، وفاق کی طرف سے صوبائی حکومتوں کے امور میں کوئی مداخلت نہیں ہو رہی، عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے، حکومتیں عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کر رہی ہیں۔ میڈیا اپنی آزادی کا کس قدر زیادہ استعمال کر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور میڈیا کے بے پناہ متحرک ہونے کے باوجود کرپشن کا کوئی بڑا اسکینڈل سامنے نہیں آیا ہے۔

مذکورہ بالا صورت حال جمہوریت مخالف عناصر کو جلد از جلد کچھ کر گزرنے پر اکسا رہی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ اداروں کے درمیان محاذ آرائی پیدا کر کے حالات کو اتنا خراب کر دیا جائے کہ ریاست میں بریک ڈائون کی کیفیت پیدا ہو جائے اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا کوئی بہانہ بن سکے۔ ان عناصر کی جانب سے ایسی کوششیں ماضی میں بھی کی جاتی رہی تھیں۔ پیپلز پارٹی کی منتخب جمہوری حکومت جب 10 سال کے طویل وقفے کے بعد اقتدار میں آئی تھی تو اسے مخلوط حکومت بنا کر اپنے اتحادیوں کو اقتدار میں شریک کرنا پڑا تھا۔ فوجی آمریت کے بعد جمہوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی چونکہ ایک غیر تحریری مفاہمت کے ذریعے عمل میں آئی تھی لہٰذا وفاقی حکومت کو بعض اہم معاملات میں مکمل خود مختاری کے ساتھ فیصلے کرنے میں مسائل کا سامنا تھا ۔ سیاسی اتحادیوں اور غیر سیاسی حلقوں کی طرف سے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت مسلسل دبائو میں رہتی تھی۔

ان نامساعد حالات کے باوجود بھی جمہوریت کو ختم کرنے کی کوئی خواہش یا سازش کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اس حوالے سے پاکستان کے عوام، جمہوری قوتوں، سول سوسائٹی اور عدلیہ کا کردار بہت نمایاں رہا۔ یہ وہ مرحلہ تھا کہ اگر آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان جمہوری عمل کے تسلسل کے حوالے سے خاموش مفاہمت نہ ہوتی تو حالات قطعاً مختلف ہوتے۔ اس ضمن میں سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے بھی ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے اداروں کو باہم متصادم کرانے کی ہر کوشش کو فہم و تدبر سے ناکام بنا دیا تھا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نواز شریف زرداری ملاقات اور کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے حالیہ اجلاس کے بعد جمہوریت مخالف عناصر تک یہ پیغام پہنچ گیا ہے کہ سیاسی قوتیں اور پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اور ان کے سربراہ اس امر پر متفق ہیں کہ پاکستان کا مستقبل صرف جمہوریت میں مضمر ہے لہٰذا آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے سب کو جمہوریت کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں