سپریم کورٹ کے چند گھنٹوں میں مذاکرات اور نتیجے کے فیصلے سے کشیدگی بڑھ گئی وزیر داخلہ
بحران اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ ان کا حل کسی ایک جماعت کے پاس ممکن نہیں، سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا، رانا ثنا
(فوٹو فائل)
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کے معاملے پر چند گھنٹوں میں مذاکرات اور نتیجہ نکالنے کے فیصلے سے صورت حال دوبارہ تناؤ اور کشیدگی کی طرف گئی ہے۔
عید الفطر کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آئین کے مطابق تمام اسمبلیوں کے الیکشن اکٹھے، ایک ہی روز اور نگراں سیٹ اپ میں ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کا الیکشن پہلے ہوتا ہے اور یہاں ایک سیاسی حکومت معرض وجود میں آتی ہے تو جب عام انتخابات ہوں گے تو وہ سیاسی حکومت کیونکر اثر انداز نہیں ہوگی، خواہ وہ ہماری ہو یا کسی اور کی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر 146 نشستوں جو کہ کل 272 نشستوں کا 50 فی صد سے بھی زیادہ بنتا ہے، پر الیکشن ہو گئے تو وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوں گی یعنی پنجاب کی حکومت الیکشن ہونے سے پہلے الیکشن پول کیپچر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن کے نتائج کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا اور جو 74 برس سے پنجاب سے گلہ ہو رہا ہے، اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ چھوٹے صوبے اس پر اپنا سیاسی احتجاج بھی کریں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا کی مثالیں دی جاتی ہیں، بھارت کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ وہاں الیکشن ہو رہے ہیں، تو کیا وہاں کوئی نگراں حکومت ہوتی ہے؟ وہاں تو حکومت موجود ہوتی ہے اور اس کے باوجود الیکشن کمیشن اتنا مضبوط ہے کہ وہاں انتخابات ہو رہے ہوتے ہیں۔پاکستان میں جب آئینی ترامیم کی گئیں کہ نگراں سیٹ اپ کے تحت الیکشن ہوگا اور آئینی طور پر یہ ترامیم کی گئیں کہ الیکشن ایک ہی دن میں ہونا قرار پائے۔ یہ سب ہمارے آئین ہی میں درج ہے۔اگر 90 دن والی بات آئین میں درج ہے تو ایک ہی دن میں الیکشن کی بات بھی اسی آئین کا حصہ ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم عدلیہ کا بے پناہ احترام کرتے ہیں۔کوئی بھی معاشرہ، قوم یا ملک عدلیہ کے احترام اور عدلیہ کے معاملات میں انصاف کے تقاضوں کا متقاضی ہوتا ہے۔ عدلیہ کے انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے فیصلے کسی بھی ملک اور قوم کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر ہمیں افسوس ہے کہ اختلاف جو سیاسی طور پر اس ملک میں پھیلایا گیا یا اسے لایا گیا، اب بدقسمتی سے سپریم کورٹ میں بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں بھی 4 ججز ایک بات کہتے، 3ایک بات کہتے اور دونوں بضد ہیں کہ ہماری بات درست ہے۔ آٹھ سات کی تقسیم سامنے آئی ہے اور اس میں جو محترم معزز چیف جسٹس صاحب کے زیر سربراہی 3 رکنی بینچ ہے، اس کے فیصلے اتنے متنازع ہو چکے ہیں کہ اس پر سپریم کورٹ کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ باہر کی آوازیں تو اتنی سیریس نہیں مگر جب اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں تو یہ بہت سیریس مسئلہ ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ایسے فیصلے بھی ہو رہے ہیں جن کی قانونی اور آئینی بنیاد مستحکم نہیں ہے۔ آج تک کبھی یہ نہیں ہوا کہ پارلیمنٹ کوئی قانون بنائے اور قانون ابھی نوٹیفائی نہ ہو اسے اسٹے کردیا جائے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ابھی ایکٹ کا درجہ اختیار نہیں کیا تھا تو پہلے ہی اس کے خلاف اسٹے جاری کردیا گیا، جو کہ ہماری سوچ کے مطابق آئینی اور قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کی آئین اور قانون میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس بات کے امکانات تھے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور مل کر ملک کو درپیش مسائل کا حل کریں۔ ملک میں جاری آئینی، سیاسی اور معاشی بحران اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ ان کا حل کسی ایک جماعت کے پاس ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے سب کو ملک و قوم کی بہتری کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں ہو رہی تھیں مگر جو گزشتہ روز سماعت ہوئی ہے، اس میں 3 رکنی بینچ نے جس انداز سے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے ، وہ بذات خود ایک عجیب و غریب بات ہے کہ آپ تقریباً چودہ پندرہ کے قریب جماعتوں کو یہ کہیں کہ ایک بج رہا ہے اور آپ 4 بجے تک مذاکرات کریں، معاہدے تک پہنچیں اور ہمیں آکر بتا دیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایسا کہنے سے جو مذاکرات پچھلے دو چار دن سے ہو رہے تھے ، جس پر عمران خان بھی مجبور تھا کہ وہ کوئی گفتگو کرے اور اس نے کہا کہ میں اپنے نمائندے بھیجوں گا، اس کے باوجود کہ اس (عمران خان) کی فطرت نہ سیاست دانوں والی ہے، نہ جمہوری، وہ ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ میں اپنے مخالفین کے ساتھ گفتگو سے بہتر ہے میں مر جاؤں وہ اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے کا روادار نہیں رہا، اب اپوزیشن میں ہے تو حکومت کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔ لیکن کل جب انہوں نے عدالت عظمیٰ کا رویہ اور اس قسم کی بات دیکھی کہ فوری طور پر اگلے دو گھنٹوں میں مذاکرات اور معاہدہ کرکے آ جائیں تو پھر 14 مئی کی تاریخ تبدیل ہو سکتی ہے اور اگر آپ معاہدہ کرکے نہ آئیں تو کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو اس میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چند گھنٹوں میں مذاکرات اور نتیجے کے فیصلے سے گزشتہ 2 روز سے صورت حال دوبارہ تناؤ اور کشیدگی کی طرف گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے فوری طورپر جب دیکھا کہ انہیں صورت حال بہتر معلوم ہو رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم تو مذاکرات نہیں کریں گے ہم تو عدالت کے سامنے معاملات کو طے کریں گے۔
عید الفطر کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آئین کے مطابق تمام اسمبلیوں کے الیکشن اکٹھے، ایک ہی روز اور نگراں سیٹ اپ میں ہونے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کا الیکشن پہلے ہوتا ہے اور یہاں ایک سیاسی حکومت معرض وجود میں آتی ہے تو جب عام انتخابات ہوں گے تو وہ سیاسی حکومت کیونکر اثر انداز نہیں ہوگی، خواہ وہ ہماری ہو یا کسی اور کی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر 146 نشستوں جو کہ کل 272 نشستوں کا 50 فی صد سے بھی زیادہ بنتا ہے، پر الیکشن ہو گئے تو وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوں گی یعنی پنجاب کی حکومت الیکشن ہونے سے پہلے الیکشن پول کیپچر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن کے نتائج کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا اور جو 74 برس سے پنجاب سے گلہ ہو رہا ہے، اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ چھوٹے صوبے اس پر اپنا سیاسی احتجاج بھی کریں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا کی مثالیں دی جاتی ہیں، بھارت کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ وہاں الیکشن ہو رہے ہیں، تو کیا وہاں کوئی نگراں حکومت ہوتی ہے؟ وہاں تو حکومت موجود ہوتی ہے اور اس کے باوجود الیکشن کمیشن اتنا مضبوط ہے کہ وہاں انتخابات ہو رہے ہوتے ہیں۔پاکستان میں جب آئینی ترامیم کی گئیں کہ نگراں سیٹ اپ کے تحت الیکشن ہوگا اور آئینی طور پر یہ ترامیم کی گئیں کہ الیکشن ایک ہی دن میں ہونا قرار پائے۔ یہ سب ہمارے آئین ہی میں درج ہے۔اگر 90 دن والی بات آئین میں درج ہے تو ایک ہی دن میں الیکشن کی بات بھی اسی آئین کا حصہ ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم عدلیہ کا بے پناہ احترام کرتے ہیں۔کوئی بھی معاشرہ، قوم یا ملک عدلیہ کے احترام اور عدلیہ کے معاملات میں انصاف کے تقاضوں کا متقاضی ہوتا ہے۔ عدلیہ کے انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے فیصلے کسی بھی ملک اور قوم کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر ہمیں افسوس ہے کہ اختلاف جو سیاسی طور پر اس ملک میں پھیلایا گیا یا اسے لایا گیا، اب بدقسمتی سے سپریم کورٹ میں بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں بھی 4 ججز ایک بات کہتے، 3ایک بات کہتے اور دونوں بضد ہیں کہ ہماری بات درست ہے۔ آٹھ سات کی تقسیم سامنے آئی ہے اور اس میں جو محترم معزز چیف جسٹس صاحب کے زیر سربراہی 3 رکنی بینچ ہے، اس کے فیصلے اتنے متنازع ہو چکے ہیں کہ اس پر سپریم کورٹ کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ باہر کی آوازیں تو اتنی سیریس نہیں مگر جب اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں تو یہ بہت سیریس مسئلہ ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ایسے فیصلے بھی ہو رہے ہیں جن کی قانونی اور آئینی بنیاد مستحکم نہیں ہے۔ آج تک کبھی یہ نہیں ہوا کہ پارلیمنٹ کوئی قانون بنائے اور قانون ابھی نوٹیفائی نہ ہو اسے اسٹے کردیا جائے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ابھی ایکٹ کا درجہ اختیار نہیں کیا تھا تو پہلے ہی اس کے خلاف اسٹے جاری کردیا گیا، جو کہ ہماری سوچ کے مطابق آئینی اور قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کی آئین اور قانون میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس بات کے امکانات تھے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور مل کر ملک کو درپیش مسائل کا حل کریں۔ ملک میں جاری آئینی، سیاسی اور معاشی بحران اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ ان کا حل کسی ایک جماعت کے پاس ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے سب کو ملک و قوم کی بہتری کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں ہو رہی تھیں مگر جو گزشتہ روز سماعت ہوئی ہے، اس میں 3 رکنی بینچ نے جس انداز سے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے ، وہ بذات خود ایک عجیب و غریب بات ہے کہ آپ تقریباً چودہ پندرہ کے قریب جماعتوں کو یہ کہیں کہ ایک بج رہا ہے اور آپ 4 بجے تک مذاکرات کریں، معاہدے تک پہنچیں اور ہمیں آکر بتا دیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایسا کہنے سے جو مذاکرات پچھلے دو چار دن سے ہو رہے تھے ، جس پر عمران خان بھی مجبور تھا کہ وہ کوئی گفتگو کرے اور اس نے کہا کہ میں اپنے نمائندے بھیجوں گا، اس کے باوجود کہ اس (عمران خان) کی فطرت نہ سیاست دانوں والی ہے، نہ جمہوری، وہ ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ میں اپنے مخالفین کے ساتھ گفتگو سے بہتر ہے میں مر جاؤں وہ اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے کا روادار نہیں رہا، اب اپوزیشن میں ہے تو حکومت کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔ لیکن کل جب انہوں نے عدالت عظمیٰ کا رویہ اور اس قسم کی بات دیکھی کہ فوری طور پر اگلے دو گھنٹوں میں مذاکرات اور معاہدہ کرکے آ جائیں تو پھر 14 مئی کی تاریخ تبدیل ہو سکتی ہے اور اگر آپ معاہدہ کرکے نہ آئیں تو کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو اس میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چند گھنٹوں میں مذاکرات اور نتیجے کے فیصلے سے گزشتہ 2 روز سے صورت حال دوبارہ تناؤ اور کشیدگی کی طرف گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے فوری طورپر جب دیکھا کہ انہیں صورت حال بہتر معلوم ہو رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم تو مذاکرات نہیں کریں گے ہم تو عدالت کے سامنے معاملات کو طے کریں گے۔