ایس ایچ او کا عہدہ نہ ہونے سے بھتہ خوری ختم ہوجائیگی آئی جی

جرائم میں غیر قانونی سموں کی وجہ سے اضافہ ہوا، ایف پی سی سی آئی میں خطاب

پولیس کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، 3 ارب مانگنے پر ایک ارب دیا جاتا ہے،اقبال محمود۔ فوٹو: فائل

انسپکٹرجنرل سندھ پولیس اقبال محمود نے کہا ہے کہ جرائم میں اضافہ غیر قانونی سموں کی وجہ سے ہے، پولیس سے ایس ایچ او کا عہدہ ختم کردیا جائے تو تجاوزات، بھتہ خوری سمیت بیشتر مسائل حل ہوجائیں گے۔


پولیس کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، 3 ارب مانگنے پر ایک ارب دیا جاتا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت(ایف پی سی سی آئی)کے دورے کے موقع پر تاجروصنعتکاروں سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو میں کیا،اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر ذکریا عثمان، گلزارفیروزاور تاجروںو صنعتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی،آئی جی نے بتایا کہ کراچی میں صحافی پر جہاں حملہ ہوا وہاں سے سی سی ٹی وی کیمرہ کچھ دور تھا جو لوڈ شیڈنگ کے باعث کام نہیں کررہا تھا، صحافی پر حملے کے مقدمے میں پیش رفت ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ چوہدری اسلم اورصحافی پر حملے سمیت متعدد واقعات کی تفتیش کے موبائل نمبرز ٹریس کیے گئے تو وہ سم کسی اور کے نام نکلی،انھوں نے کہاکہ کہ غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ سمیں جرائم کی سب سے بڑی وجہ ہیں، مسئلے کو وزیر اعظم کے سامنے بھی رکھا مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، ڈیڑھ لاکھ سموں کو چیک کیاگیا ہے، آئی جی سندھ اقبال محمود نے کہا کہ فنڈز اور نفری کی قلت کے باعث پولیس کو سخت مشکلات کا سامنا ہے مگر کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں، اقبال محمود نے کہا کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ پولیس مکمل ٹھیک نہیں ہے، تاجروں نے آئی جی سندھ کے سامنے شکایتوں کے انبار لگا دیے۔
Load Next Story