تیسری آواز

کسی صحافی پر یہ پہلی واردات ہے جس کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی ملزموں کی نشاندہی کر دی گئی تھی

Abdulqhasan@hotmail.com

پاکستان کے وزیر اعظم اور پاکستان کے سپہ سالار کی پرجوش ملاقات ہوئی اور دونوں نے آزادیٔ رائے کے حق کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیا۔ اس ملاقات اور اس بات میں کوئی خبر نہیں تھی سوائے ایک خاص خبر کے کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو سیلوٹ نہیں کیا تھا۔

پہلے کہا گیا کہ چیف نے ٹوپی نہیں پہن رکھی تھی لیکن تصویر نے اسے غلط کر دیا اور یوں سیلوٹ نہ کرنے کی فوجی وجہ بھی کام نہ کر سکی اور صرف کسی باہمی تلخی کا تاثر سامنے آیا لیکن ہمارے ایک مدت سے بے اعتمادی کے حالات میں دو بڑے پاکستانیوں کی ملاقات بھی خبر بن گئی اور ساتھ ہی یہ بھی غیر ضروری اعتراف کیا گیا کہ آز ادیٔ رائے ہر شہری کا حق ہے۔ 66 برسوں کی آزادی میں بھی ہم یہ بنیادی باتیں حتمی طور پر طے نہیں کر سکے۔ ہم نے اگر کچھ کیا ہے تو وہ کرپشن ہے یعنی دوسروں کی حق تلفی ہے۔ ایک دوسرے کی چھینا جھپٹی اور ہر دوسرے پاکستانی کا حق مارنا ہے۔

چلیے یہ تو جو کچھ ہوا سو ہوا یہ بات اس سے زیادہ المناک ہے کہ اس وسیع خرابی کو روکنے کی کوئی صورت اختیار نہیں کی گئی۔ کسی سیاسی جماعت یا گروہ نے اس قومی خرابی پر قابو پانے کی کوشش نہیں کی اور ہماری منتخب حکومت نے بھی جو اب کئی ماہ کے عرصے پر مشتمل ہے ابھی تک اس طرف کوئی پیش رفت نہیں کی۔ کسی خرابی پر قابو میں نے یا آپ نے نہیں بااختیار حکومتوں نے پانا ہوتا ہے اس کام کے وسائل صرف ان کے پاس ہیں اسی لیے عوام ہر روز انتظار کرتے ہیں کہ کتنے غلط کار پکڑے گئے۔ یہ ایک بڑے ہی تعجب کی بات ہے کہ چھوٹی بچیوں کی بے عزتی کی جاتی ہے اور خبروں میں کئی ملزم پکڑے بھی جاتے ہیں مگر وہ کہاں جاتے ہیں ان کی سزا کا ذکر کیوں نہیں ہوتا۔ کیا ہم دے دلا کر بچ جاتے ہیں یا پولیس والوں کو ان پر رحم آ جاتا ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ یہ خاتون جو خودسوزی کرنے کی دھمکی دے رہی ہے یہ جھوٹی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ عدالت نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا کہ کیا کوئی جھوٹ موٹ میں ہی اپنے آپ کو آگ لگا سکتا ہے۔ ایسے حالات کے باوجود اگر ملک کے دو بڑے پرجوش انداز میں ہاتھ ملا سکتے ہیں تو یہ ان کی ہمت ہے۔


ان دنوں ملک میں ایک نیا ہنگامہ برپا ہے اور خوب رونق لگی ہوئی ہے۔ ایک صحافی کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا مگر وہ بچ گیا۔ یہ ایسی پہلی واردات ہے جس کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی ملزموں کی نشاندہی کر دی گئی تھی اور ملزم بھی ہماشما نہیں بہت ہی اونچے لوگ اور جرنیل۔ ایسے لوگوں کو تو کوئی بہت بڑی طاقت ہی نامزد کر سکتی ہے اور کسی اتنی بڑی طاقت کے ساتھ گٹھ جوڑ کسی بڑی ہی طاقت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ پہلی بار معلوم ہوا کہ ہم اخبار نویس بھی اتنا اونچا ہاتھ مار سکتے ہیں۔ حامد میر عقلمند انسان نہیں ہے۔ چھ میں سے کوئی گولی کسی خطرناک نازک جگہ پر بھی لگ سکتی تھی اور اس طرح ساری ایڈونچر ختم ہو سکتی تھی لیکن قدرت نے ایسا ساتھ دیا کہ ایک ایک گولی جیسے ہاتھ سے پکڑ کر جسم کے کسی محفوظ مقام پر رکھ دی اور مضروب یا مقتول بخیریت رہا۔ ہمیں اپنے دوست کی خیریت مطلوب ہے کوئی چھوٹی بڑی خبر مطلوب نہیں ہے۔ خبر تو سقوط ڈھاکہ کی بھی آ گئی تھی جو ہم برداشت کر گئے بلکہ پی گئے اور اس کے بدلے میں ہم نے بچے کھچے پاکستان کی حکومت قبول کر لی۔

ان دنوں ایک بات جو ایک بار پھر ابھر کر سامنے آ رہی ہے وہ ہے فوج کے ساتھ عوام کا تعلق اور محبت کا رشتہ۔ موجودہ حادثے میں ایک فریق فوج کو بنایا گیا ہے اس لیے فوج کا ذکر مسلسل آ رہا ہے۔ مدعی پارٹی نے تو فوج کو ملزم بنا دیا ہے اور اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ عوام اگرچہ فوج کو ہر لحاظ سے بے گناہ قرار دے رہے ہیں اور یہی بڑی عدالت ہے لیکن اظہار رائے کی جو صورتیں اور ذرائع موجود ہیں وہ سب فوج کو بے گناہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ صورت حال تب ہے جب فوج نے عوام کے ساتھ کئی بار سخت سلوک کیا ہے لیکن عوام سب کچھ بھول کر فوج کا دم بھر رہے ہیں اور اس کے ساتھ محبت ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ فوج ہی ہے جس نے ہمیں اپنے ہوشیار اور ہر دم تیار دشمن سے بچانا ہے۔

ہم پاکستانیوں نے اپنی حفاظت کا بہت سامان جمع کر رکھا ہے اور بڑا ہی موثر سامان بھی لیکن اصل فیصلہ جس میدان جنگ میں ہوتا ہے اس میں سپاہی کا کردار ہی فیصلہ کن ہوتا ہے اور ہمارے سپاہی شہسوار ایک لازوال جذبے سے سرشار ہیں اور رہتے ہیں۔ ان سپاہیوں سے ہم محبت نہ کریں تو کیا کریں۔ ملک کے ساتھ ہماری سپاہ کی محبت جس طرح لازوال ہے ۔ ہماری پوری تاریخ جہاد اور فوج کی تاریخ ہے ہم اپنی اس شاندار تاریخ سے الگ نہیں ہو سکتے بلکہ اس تاریخ کے محافظ ہیں۔ ہمارے لازوال ہیرو حضرت خالد بن ولیدؓ اور صلاح الدین ایوبی جیسے لوگ ہیں ان کے ذکر اور کارناموں سے ہم اپنے دلوں میں حرارت پاتے ہیں جو ہمیں کسی بھی میدان میں زندہ رکھتی ہے۔

ہمارے سیاسی رہنماؤں میں عمران خان ایسا ہے جس نے تڑپ کر کہا ہے کہ جیو نے آٹھ گھنٹے تک آئی ایس آئی کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ تو دشمن بھی نہیں کرتا۔ حکومت نے بھی کسی وجہ سے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ ہم اور فوج سب حالت جنگ میں ہیں اور ہمیں اس حالت میں ہمارے اپنوں نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ اس قوم کو یاد رہے گا۔ عمران خان کے انتہائی برہم جذبات کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ قوم تک پہنچ چکے ہیں۔ شکر ہے کہ یہ تیسری آواز عوام اور فوج کے حق میں بلند ہوئی ہے۔ خدا کرے یہ تیسری آواز سلامت رہے۔
Load Next Story