انسانی حقوق کی بد تر صورتحال

قبائلی علاقوں میں آباد سکھ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر سراپا احتجاج ہیں...

tauceeph@gmail.com

انسانی حقوق کا تحفظ ریاستی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں ، خواتین ، صحافیوں اور پسماندہ طبقے کے حالات خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن HRCPکے سیکریٹری جنرل اور انسانی حقوق کی تحریک کو متحرک کرنے والے رہنما آئی اے رحمن نے گزشتہ سال انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں عدم برداشت اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات سے اقلیتیں صحافی، خواتین ، بچے براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ 350 صفحات پر مشتمل ہے۔

اس رپورٹ میں بنیادی حقوق ،انفرادی فرد، معاشرے کے مظلوم طبقات مثلاََ خواتین ، بچوں، اقلیتوں اور مہاجرین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے علاوہ تعلیم، صحت، عدلیہ، میڈیا اور دوسرے شعبوں سے متعلق صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ مذہبی آزادیوں کے عنوان سے شایع ہونے والے باب میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات میں 687افراد جاں بحق ہوئے۔سات احمدیوں کو نشانہ بنایا۔ عیسائیوں کی مذہبی عبادت گاہوں اور ان کی آبادیوں پر حملے کیے گئے اور 39افراد کو متنازعہ قوانیں کے تحت گرفتار کیا گیا ۔ گرفتار ہونے والوں میں مسلمان، عیسائی ، ہندو شامل ہیں ۔ رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ پاکستان اب بھی صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

گزشتہ سال 11صحافی اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے قتل کیے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ مگر صحافیوں پر حملہ کرنے والا کوئی فرد گرفتار نہ ہوسکا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 45کے قریب خود کش حملے ہوئے جن میں 694افراد جاں بحق ہوئے اس طرح بلو چستان میں ہزارہ برادری کے 200افراد فرقہ ورانہ بنیادوں پر بم کے حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کیا گیا ، پورے ملک میں پولیس کے ہونے والے مقابلوں میں 500مشتبہ ملزمان ہلاک ہوئے ۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری رہا ۔ 129لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملک کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے ڈرون طیاروں کے حملوں میں قبائلی علاقوں میں 131 افراد جاں بحق ہوئے۔ انسانی حقوق کی بالادستی کا براہ راست تعلق ریاست سے ہے ۔ ریاست انسانی حقو ق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے اور انسانی حقوق پامال کرنے والے عناصر کا محاسبہ کرتی ہے۔خیبر پختونخواہ میں عیسائی، سکھ، سندھ اور بلوچستان میں ہندو برادری، پنجاب میں عیسائی سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں ، اقلیتوں کی شکایات براہ راست حکومت سے متعلق ہیں ۔ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اقلیتی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار اقلیتوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات میں جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پولیس حکام اپنی رپورٹوں میں بنیادی حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں ، اگر پولیس اپنے فرائض غیر جانبداری سے انجام دے تو اقلیتوں کو جھوٹے مقدمات سے نجات مل سکتی ہے۔

قبائلی علاقوں میں آباد سکھ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر سراپا احتجاج ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے پاکستان کے علاقے میں رہتے تھے اور ہمیشہ رہنا چاہتے ہیں وہ باہر سے آکر آباد نہیں ہوئے ۔ اس بناء پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں آباد ہندو اپنی لڑکیوں کے اغواء اور زبردستی تبدیلی مذہب ، اغواء برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو حکومتی اداروں کی کارکردگی سے منسلک کرتے ہیں۔ ان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سندھ کی حکومت اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کی زبردست حامی ہے مگر پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے اور ایم پی ایز اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی سرپرستی کرتے ہیں۔


سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بھی اقلیتوں کے خراب حالات کا نوٹس لیا۔ رپورٹ میں صحافیوں کی صورتحال پر خاص طورپر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ گزشتہ سال 11صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک کردیے گئے اور متعدد زخمی ہوئے مگر ان صحافیوں پر حملہ کرنے والے گرفتا رنہیں ہوئے ، دہشت گردی کی جنگ کے پاکستان میں داخل ہونے کے ساتھ ہی صحافیوں کے تحفظ کی صورتحال خرا ب تر ہوتی جارہی ہے ، اب تک ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد150تک پہنچ گئی ہے۔ آزادی صحافت پر کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں میں بتایا جاتاہے کہ صحافیوں پر حملوں میں ریاستی اور غیر ریاستی کردار بھی ملوث ہوتے ہیں۔

وزیرستان کے صحافی ہدایت اللہ اور اسلام آباد کے صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم ہوئے تھے ۔ ہدایت اللہ کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی مگر سلیم شہزاد کمیشن رپورٹ کا خاصا چرچا ہوامگر اس رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اب تک کراچی کے صحافی ولی بابر قتل کیس کے ملزمان کو سزا ہوئی ، اس سے پہلے امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کیس کے ملوث افراد کو سزا ہوئی تھی، باقی کسی صحافی کے قاتلوں کو سزا نہیں ہوئی۔ یہ رپورٹ صرف 2013کے واقعات کے بارے میں تھی مگر 2014کے پہلے 4مہینے صحافیوں کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہیں۔

ادھر سیاسی کارکنوں کے گمشدہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ سے ایک طالب علم زاہد بلوچ لاپتہ ہوگئے۔ وہ طالب علموں کی تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئر مین ہیں ۔ بی ایس او کے کارکنان اپنے چیئرمین کے لاپتہ ہونے پر احتجاج کررہے ہیں ۔ کراچی میں بی ایس او کے رہنمالطیف جوہر بلوچ نے پریس کلب کے سامنے اپنے رہنماکی رہائی کے لیے تادم مرگ بھوک ہڑتال کررکھی ہے ۔ ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بڑھ گیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ اس رپورٹ میں ایک اہم انکشاف پولیس مقابلوں کے حوالے سے ہے۔ رپورٹ میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی طرف خصوصی طور پر توجہ دلائی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جو ملزمان خود کو قانون کے حوالے نہیں کرتے وہ پولیس مقابلوں میں مارے جاتے ہیں۔ اگر پولیس اہلکار اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے میں دیر کرتے ہیں تو وہ شہید ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کی اس صورتحال میں پولیس اہلکاروں کی مسلسل شہادت المیہ ہے۔ صورتحال کتنی سنگین ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ڈی آئی جی کے رینک سے لے کر سپاہی تک پولیس مقابلوں ، ٹارگٹ کلنگ اور خود کش دھماکوں کا شکار ہوتے ہیں مگر اس صورتحال میں کسی ملزم کو بھی عدالتی فیصلے سے قبل ہلاکت تشویشناک مسئلہ ہے ، پولیس حکام وکلاء جرائم کے سدباب کے ماہرین ججوں کو اس صورتحال کا حل تلاش کرناچاہتے ہیں پھر پولیس مقابلے کی نہ صرف محکمانہ انکوائری بلکہ سیشن جج کی تحقیقات اور صوبے کے چیف جسٹس کو اس تحقیقات کی توثیق یا کوئی طریقہ طے ہوتا ہے تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔ اس رپورٹ میں خواتین اور بچوں کے حالات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔

ملک میں دیہی علاقوں خاص طور پر بالائی سندھ سرائیکی بیلٹ اور بلوچستان میں خواتین پرمجرمانہ حملوں کاروکاری پسند کی شادی لڑکی اور لڑکے اغواء قتل کی واراتوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں بھی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ خواتین اور بچوں کی تحفظ کے لیے گزشتہ دور حکومت میں کئی بہتر قوانین نافذ ہوئے مگر خاندان کی سطح تک آگہی نہ ہونے کی بناء پر ان قوانین کے خاطر خواہ نتائج نہ نکل سکے ۔ معاشرے میں آگہی کے لیے تعلیمی اداروں کے نصاب میں تبدیلی سے لے کر میڈیا کے پروگراموں اور اعلیٰ سطح پر قوانین کے نفاذ کو یقینی بنا کر خواتین اور بچوں کو تحفظ دیا جاسکتا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی یہ رپورٹ ذہنوں کو جھنجھوڑنے کے لیے ہے۔ اس پورٹ کی ہرسطح پر بحث ومباحثے سے ہی انسانی حقوق کے بارے میں آگہی کا عمل تیز تر ہوسکتا ہے۔
Load Next Story