ایک ہی علاج وہ بھی خلاف قانون
تحقیق کی ابتدا خاندانی اور نسلی بنیادوں پر کرنی چاہیے چنانچہ اس اصول کے مطابق جب ہم نے پاکستان کو...
یہ بات تو پرانے زمانے کے حکیم لقمان سے لے کر موجودہ دور کے ڈاکٹر لقمہ آن تک سارے لوگ جانتے ہیں کہ قبض ''ام الامراض'' ہے۔ یہ ان سب حکما و اطباء میں سے کسی نے نہیں بتائی ہے کہ ''ابو الامراض'' کون ہے۔ آخر جب ماں ہے تو باپ بھی ہونا چاہیے کیونکہ اگر بچہ انڈے سے بھی پیدا ہو تو کسی نہ کسی مرد کواس کا ذمے دار ہونا چاہیے، خیر یہ تو محض ہماری دماغی ٹیڑھ سے پیدا ہونے والا ایک غیر متعلقہ سوال تھا ورنہ ہمیں کیا؟ اصل میں ہماری الجھن ایک اور ہے۔
جب دنیا میں سب زیادہ مردہ اور نیم زندہ نیم مردہ چیزوں کی مائیں ہیں تو مسمی پاکستان کو یہ جو ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو ایک اعشاریہ ایک امراض لاحق ہیں ان کی ماں کون ہے کیونکہ بن باپ پیدائش تو سمجھ میں آجاتی ہے لیکن بن ماں کی ولادت نہ کسی نے سنی ہے نہ دیکھی ہے نہ پڑھی ہے نہ سوچی ہے کہ ایک بچے کے لیے ماں کی کوکھ یا دودھ کا ہونا ضروری ہے کیونکہ آج کل تو یہ کام ٹیوب اور بوتل سے بھی ہو جاتا ہے بلکہ ماں کی اصل ضرورت اس ''دعا'' کے لیے ہوتی ہے جس کے بغیر بے چارے بچے کو جنت کی ہوا لگ ہی نہیں سکتی، سنا ہے ماں کے قدموں تلے جنت بھی ہوتی ہے لیکن جنت کی ضرورت کسی اور کو ہو تو ہو پاکستانیوں کو بالکل نہیں ہے کیونکہ یہاں لیڈر لوگ جو نہ جانے کس چیز کے ''ام یااب'' ہیں پورے ملک ہی کو جنت بنا چکے ہیں۔ ماؤں کے قدموں تلے بھی اور باپوں کے سر کے اوپر بھی۔
تابہ دامن نہ نشیند زنسمیت گردے
سیل خیز از نظرم ربگزرے نیست کہ نیست
ترجمہ : اس خیال سے کہ کہیں تیرے دامن پر ہوا سے گرد نہ پڑے میں نے تمام ریگزاروں کو اپنے آنسوؤں سے چھڑکا ہوا ہے، ہاں تو بات ہورہی ہے ان امراض کی جو اس وقت پاکستان کو لاحق ہیں لیکن ٹھہریئے کہیں آپ یہ تو نہیں سوچ رہے ہیں کہ ایک طرف تو ہم پاکستان کو جنت بتا رہے ہیں اور دوسری طرف مریض ہزار امراض ۔۔۔ تو یہ ہماری غلطی ہے، اصل میں پاکستان دو ہیں۔ ایک وہ جو برسز زمین آباد ہے اور جس میں کالانعام رہتے ہیں اور دوسرا وہ جو حکمرانوں، رہنماؤں، رہبروں اور خادموں کے بیانات میں آباد ہے اور شاید دائم آباد رہے گا۔
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہیں تو کوئی ہم سا ہو گا
اور ہم اس وقت اس پاکستان کی بات کر رہے ہیں جسے اس کی آبادی سے بھی کم از کم دگنی تعداد میں امراض لاحق ہیں اور یہ تو بڑی نامناسب بات ہے کہ امراض تو ہوں اور ان کی ماں نہ ہو اور یہی فکر ہمیں کھائے جارہی ہے کیونکہ دنیا کے تمام اطباء حکماء اور ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو جائے علاج فضول ہے یعنی بقول سونم کپور پرابلم کی جڑتک جائیں باقی سب بھول جائیں اور آج اس جڑ کو ہم کھود کر رہیں گے کہ آخر یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے بلکہ
دھواں بنا کے ہوا میں اڑا دیا مجھ کو
میں جل رہا تھا یہ کس نے بجھا دیا مجھ کو
اور یہ تو خیر بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ تحقیق و تفتیش کا مادہ ہمارے اندر کوٹ کوٹ کر اور پھوٹ پھوٹ کر بھرا ہوا ہے، پھوٹ پھوٹ کر بھرا ہوا پشتو اکیڈمی سے بھرا ہوا ہے کیونکہ وہاں کے در و دیوار میں سے تحقیق ہمیشہ پھوٹ پھوٹ کر بہتی ہے اور کوٹ کوٹ کر بھرنے والا تحقیق کا مادہ ہم نے ان اداروں سے رشوت دے کر بھرایا ہے جن کو آج کی جدید اصطلاح میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کہا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے، ایک دن ہم نے ایک دانائے راز سے پوچھا کہ آخر ان اداروںکا سیدھا سیدھا نام کیوں نہیں لیا جاتا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں کہا جاتا ہے تو اس نے ہمیں اس بیوی کا قصہ سنایا جس کے شوہر کا نام رحمت اللہ تھا اور نماز کے پڑھنے کے بعد سلام پھیرتے ہوئے ''بچوں کے ابا'' کویاد کرتی تھی۔
یہ تو خیر بیج میں خواہ مخواہ قانون نافذ کرنے والے بچوں کے اباؤں کا ذکرآیا کہ ہم نے ان سے بھی تحقیق کے معاملے میں اچھا خاصا کسب فیض کیا ہے، اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ ایک دن جب ہم ایسے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھوٹ کر گھر آئے اور ہم نے سامنے ایک غیر مرد کو دیکھا تو غصہ آنے کے بجائے ہم نے تحقیق سے کام لیا اور اس کا فائدہ بھی اسی وقت معلوم ہوا ورنہ خواہ مخواہ گھر کا ایک قیمتی آئینہ توڑ چکے ہوتے، صرف تحقیق کی وجہ سے ہم نے جان لیا کہ وہ کوئی غیر مرد نہیں بلکہ خود ہم ہی آئینے کے اندر گھسے ہوئے تھے۔ خیر تو ہم نے آج تہیہ کیا ہوا کہ اپنی تحقیق کا ٹٹو اس وقت تک دوڑاتے رہیں گے جب تک پاکستان کے ''ام الامراض'' کا پتہ نہ چلے۔
تحقیق و تفتیش کے ان دونوں خانوادوں سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ تحقیق کی ابتدا خاندانی اور نسلی بنیادوں پر کرنی چاہیے چنانچہ اس اصول کے مطابق جب ہم نے پاکستان کو لاحق امراض خبیثہ کی کھوج شروع کی کہ اس مریض یعنی مسمی پاکستان کو لاحق تقریباً سارے ہی امراض نسلی اور خاندانی ہیں باقی جو چھوٹے موٹے وقتی اور موسمی قسم کے امراض ہیں وہ چنداں خطرناک اور جاں لیوا نہیں ہیں وہ تو محض چند دنوں کے لیے آجاتے ہیں، جراثیم کچھ عرصے کے لیے جلوہ کثرت اولاد دکھا جاتے ہیں لیکن پھر موسم کی تبدیلی کے ساتھ اچھے ہو جاتے ہیں، اصل امراض تو اس کم نصیب کے وہ ہیں جن کو نہ صرف خبیثہ کہا جاتا ہے بلکہ مزمنہ پیچیدہ اور ضدی امراض کے ذیل میں بھی آتے ہیں اور جن کی وجہ سے بے چارے مریض کی حالت وہ ہو گئی ہے جس کو دیکھ کر معالج بھی دوا کے بجائے صرف یہ دعا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ
مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
ان خطرناک امراض کے بارے میں اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ کم بخت گوری چمڑے والے فرنگی سوداگر اپنے ساتھ لائے تھے پھر خود تو چلے گئے لیکن ان امراض کے جراثیم یہاں چھوڑ گئے جو پنپتے پنپتے اس سرزمین کی رگ رگ اور نس نس میں اتر گئے اور اب ایسے اور اتنے اتر چکے ہیں کہ علاج کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ کسی دن یہ نوبت آسکتی ہے کہ
رگوں میں زہر کے نشتر اتر گئے چپ چاپ
ہم اہل درد جہاں سے گزر گئے چپ چاپ
جن جن مقامات پر وہ فرنگی بوزنہ زادے ان امراض کے ڈپو کھول کر گئے تھے وہ تو ظاہر تھے لیکن وہ کم بخت ان میں یہ صلاحیت بھی پیدا کر گئے کہ وقت حالات اور موسم کی مناسبت سے رنگ بدل لیتے ہیں، بنیادی طور پر ان جراثیم کا رنگ تو سبز ہوتا ہے لیکن بعد میں جب یہ خوب طاقت ور ہو گئے توتقریباً ہر رنگ کے ہونے لگے، سرخ سبز نیلے چتکبرے مٹیالے ہر طرح کے جراثیم ان میں دیکھے گئے اور یہی وجہ ہے کہ ان کا قلع قمع کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے، معالجین آخر کریں بھی تو کیا کریں کہ وہ ایک رنگ اور نسل کے جرائم کے لیے دوا ایجاد کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے دوسرا رنگ اختیار کر لیتے ہیں'بات اگر یہاں تک ہوتی تو پھر بھی ٹھیک تھی کوئی نہ کوئی معالج اس کا علاج دریافت کر لیتا لیکن طویل عرصے کے خاندانی اور نسلی صلاحیتوں کی وجہ سے یہ اتنے ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ ہر نئی دوا کو بھی اپنی مدافعت کا ہتھیار بنا لیتے ہیں۔
تقریباً ساٹھ ستر سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ان جراثیم کی بیخ کنی کے لیے جمہوریت نام کی دوا ایجاد کی گئی، ایجاد کرنے والوں نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے اور امید تھی کہ ان امراض خبیثہ سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا لیکن نہ جانے کیوں کیسے اور کس طرح یہ کم بخت اس میں بھی گھس گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس تیر بہدف دوا جمہوریت کو سب سے بڑے مرض میں تبدیل کر دیا گیا چنانچہ تازہ صورت حال یہ ہے کہ یہ دوا ہی سب سے بڑے اور تباہ کن مرض کی صورت میں مسلط ہو چکی ہے چنانچہ اکثر معالجین اب اس ملک کو دنیا کے سب سے بڑے ''جمہوری سنڈ روم'' کی نظر سے دیکھتی ہے اور یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ سنڈ روم کا علاج ایک اور صرف ایک ہی ہوتا ہے جسے بدقسمتی سے خلاف قانون قرار دیا جا چکا ہے۔