صرف نانی، خالہ اچھی۔۔۔

نادیہ فاطمہ رضوی  پير 5 مئ 2014
بچوں میں ننھیال، ددھیال کی تفریق پیدا نہ کریں۔ فوٹو: فائل

بچوں میں ننھیال، ددھیال کی تفریق پیدا نہ کریں۔ فوٹو: فائل

ہمارے معاشرے میں ساس بہو کا رشتہ ہمیشہ سے کھنچائو کا شکار رہا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں پر بھی پڑتا ہے۔ وہ جب اپنی ماں اور دادی کو جھگڑتا یا ماں کو دادی سے خائف دیکھیں گے، تو ان کی نفسیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اپنے سسرال سے نالاں ہونے کی وجہ سے بہت سی مائیں اپنے بچوں کو ان کی دادی، پھپھو اور چچا سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس انہیں ننھیالی رشتوں سے زیادہ قریب کیا جاتا ہے۔ بچے ددھیال اور ننھیال کی اس تفریق سے مبرا ہوتے ہیں۔ ان کی پرکھ صرف اور صرف پیار و محبت اور رویوں کی کسوٹی پر ہوتی ہے۔

جوں جوں وہ باشعور ہونے لگتے ہیں، تو اکثر مائیں ان کے کچے اذہان میں یہ بات ڈالنے لگتی ہیں کہ دادی اچھی نہیں، تمہیں ڈانٹتی ہیں یا پھپھو ہم سے پیار نہیں کرتیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی باتیں ان کے ذہن میں گھر کر جاتی ہیں اور پھر بڑے ہونے تک وہ اپنے ددھیال سے کھنچے کھنچے اور الگ تھلگ سے ہو جاتے ہیں۔ یوں بچے اپنے ان خونی رشتوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات مائیں بچوں کو اپنے سسرال والوں کے ناروا رویوں سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہیں، جس سے بچے خود ہی اپنی دادی پھوپھی سے بدظن ہو جاتے ہیں۔

اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو بعض گھرانوں میں بہو اور بھاوج کے بچوں کو وہ پیار و توجہ نہیں دی جاتی، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ اگر ساس اپنی بہو کو ناپسند کرتی ہے یا نند اپنی بھاوج سے نالاں ہے، تو وہ بچوں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ قطعاً بھول جاتے ہیں کہ یہ بچے بہو یا بھاوج اپنے میکے سے نہیں لے کر آئی، بلکہ ان کا اپنے بیٹے اور بھائی کی اولاد ہیں۔ اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں، تو زیادہ تر بچوں کا جھکائو اپنے ننھیال والوں کی طرف ہوتا ہے۔ دل چسپ بات ہے کہ بچوں کے روایتی گیتوں، کہانیوں اور کھیل کود میں بھی زیادہ تر ہمیں نانی اماں اور چندا ماما کا ہی تذکرہ ملتا ہے، ددھیال کا ذکر کم ہی رہا۔

اسی بنا پر مائیں اپنے بچوں کے رشتے سسرال میں کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ ان کا شکوہ ہوتا ہے کہ ’’میں نے جس آگ میں ساری عمر گزارا کیا، وہاں میں اپنی بیٹی کو کیوں جھونکوں؟‘‘ دوسری جانب پھوپھیاں اپنی بھتیجی کو گھر لانے سے بچتی ہیں ان کے بقول ’’جیسی ماں تھی، ویسی ہی بیٹی ہوگی!‘‘ ایسی صورت حال میں بعض اوقات بچے بہت زیادہ مشکل صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں۔۔۔ جب وہ کسی چچا زاد یا پھوپھی زاد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں، تو یہی بڑے ان کی راہ کی دیوار بن جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ اگر یہ شادی ہو بھی گئی تو ساس بہو بن کر پھر وہی کہانی دُہرائی جانے لگی۔ بہو کو اپنی پھوپھی، ماں کی ظالم نند دکھائی دی اور ساس صاحبہ کو بہو میں بھتیجی کے بہ جائے بھاوج نظر آئی، جس نے پہلے اس کے بھائی کو اپنی مٹھی میں کر لیا اور اب بیٹے کو!

ہمارے یہاں زیادہ تر گھرانے ایسے ہیں، جہاں ساس بہو اور نند بھاوج کے رشتوں کے درمیان تلخی و ترشی پائی جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے معاشرے میں انتشار و اضطراب کی ایک بڑی وجہ ان رشتوں کی تلخیاں ہیں، تو غلط نہ ہوگا۔ اگر ہم ان رشتوں میں مصلحت، حقیقت پسندی اوردرگزر سے کام لیں، تو بہت سے گمبھیر مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

بھولے بھالے بچے فقط محبت کے پیاسے ہوتے ہیں۔ بڑوں کی طرح کے منفی جذبات اور مفاد پرستی  ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔ اگر ہم ان شفاف ذہنوں کو بڑوں کی کدورتوں سے آلودہ کرنا شروع کر دیں، تو یہ نہایت غلط بات ہے۔ ایسا کرنا ان کی اچھی تربیت ہرگز نہیں۔ ہر ماں کے نزدیک اس کا ہر فعل بہتر ہی ہوتا ہے، لیکن کسی کے صحیح غلط کا فیصلہ اس مسئلے کا  فریق کیسے کر سکتا ہے۔ بعض جگہوں پر بہوئویں اپنی ساس، نندوں، دیورانی یا جٹھانیوں کے شدت پسند رویوں کے ردعمل میں بچوں کو ددھیال سے متنفر کرتی ہیں، کیوں کہ بھرے پرے سسرال میں اکیلی بہو کی نہیں چل پاتی، لہٰذا وہ ردعمل میں بچوں کو ددھیال سے پرے کرنے لگتی ہے۔

بعض بہوئوں کا موقف ہوتا ہے کہ ساس، نندیں ان سے تو کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتیں، جب کہ ان کے بچوں سے بڑی انسیت جتاتی ہیں۔ اس لیے وہ اپنے بچوں کو بھی ان سے دور کرنے لگتی ہیں۔

اگر آپ ایک ماں ہیں تو آپ یہ دیکھیں کہ آپ رشتوں میں جانب داری کا تو مظاہرہ کر کے بچے کے رشتوں کو تقسیم تو نہیں کر رہیں۔ دوسری طرف سے بھی اپنے رویوں کا محاسبہ کیا جائے۔ اگر ساس، بہو میں مثالی ہم آہنگی نہیں ہو پا رہی، تو کم سے کم وہ بچوں کو تو اس کھینچا تانی سے دور رکھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔