کراچی میں ڈیڑھ لاکھ شناختی کارڈ چوری کیس کا فیصلہ 18 سال بعد سنا دیا گیا

گزشتہ 18 سال سے جاری اس مقدمے میں ملوث 3 ملزمان کا انتقال جب کہ 2 ملزم ناقابل علاج مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

عدالت نے ملزمان کے خلاف ناکافی ثبوت کی بنا پر تمام افراد کو باعزت بری کردیا۔۔ فوٹو:فائل

انسداد بدعنوانی کی عدالت نے 18 سال بعد ڈیڑھ لاکھ شناختی کارڈ چوری کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔


ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں انسداد بدعنوانی کی عدالت کے جج محمد عظیم نے ڈیڑھ لاکھ شناختی کارڈ چوری کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کے خلاف ثبوت کو ناکافی قرار دیتےہوئے تمام افراد کو باعزت بری کردیا۔ مقدمے میں نامزد ملزمان میجر ریٹائرڈ پرویز فضل، میجر ریٹائرڈ ولایت اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے افسران ملک سکندر اعوان، بن شیر ملک جان محمد اور ملک محمد حیات پر الزام تھا کہ انہوں نے ڈیڑھ لاکھ شناختی تیاری کے بعد چوری کرلئے۔

عدالت کی جانب سے شناختی کارڈ چوری کے مقدمے کا فیصلہ رواں سال فروری کو محفوظ کیا گیا تھا، گزشتہ 18 سال سے جاری اس مقدمے میں ملوث 3 ملزمان کا انتقال جب کہ 2 ملزم ناقابل علاج مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
Load Next Story