ٹیکسٹائل سیکٹر مالی بحران کا شکار لاکھوں اسپنڈلز اور 15 فیصد لومز بند

رواں مالی سال کے اختتام پرٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 50 فیصد کی نمایاں کمی کے خدشات ہیں

آئندہ ڈیڑھ سے 2 ماہ میں برآمدی آرڈرز میں15سے 20فیصد تک کمی کاخدشہ ہے جس سے برآمدات میں2سے 3ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

توانائی کے بدترین بحران، ڈالرکی قدر میں کمی اور30 ارب روپے سے زائدکے پھنسے ہوئے سیلزٹیکس ریفنڈزکے باعث مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید بحران سے دوچار ہوگئی ہے اورگزشتہ 2ماہ میں 10 فیصد اسپینڈلز بند ہوچکے ہیں۔

یہ بات آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین یاسین صدیق نے بدھ کو اپٹما ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری لاگت میں نمایاں اضافے اور عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل نہ رہنے کی وجہ سے رواں مالی سال کے اختتام پرٹیکسٹائل سیکٹر کے منافع میں 50 فیصد کی نمایاں کمی کے خدشات ہیں جس سے بیشترٹیکسٹائل ملوں کی بندش کا عمل بھی شروع ہو جائے گا، حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بچانے اور جی ایس پی پلس سے استفادے کے لیے ریفنڈز کی فوری ادائیگی کرے، ٹیکسٹائل سیکٹر کو کم از کم 4 ماہ کے لیے ری بیٹ دیا جائے، انڈسٹری کو خصوصی مراعاتی پیکیج کے تحت ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت مہیا کی جائے، بنیادی شرح سود میں کم از کم 2فیصد کی کمی کی جائے اور ملک بھر میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بجلی اور گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

انھوں نے بتایاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مالی پوزیشن 30ارب روپے سے زائد ریفنڈز نہ دینے جانے کی وجہ سے کمزور ہوگئی ہے جبکہ بجلی اور گیس کی قلت کے باعث متبادل مہنگے ذرائع سے انڈسٹری چلانے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، ان مشکلات کی وجہ سے انڈسٹری بندہورہی ہے اور مجموعی طور پر1کروڑ20 لاکھ اسپنڈلز میںاب تک ملک بھر میں 9لاکھ 72 ہزار اسپنڈلز بند ہوچکی ہیں جبکہ 15فیصد سے زائد لومز بھی بندہوگئی ہیں جبکہ غیر ملکی آرڈرز میں کمی آرہی ہے اور آئندہ ڈیڑھ سے 2 ماہ میں برآمدی آرڈرز میں15سے 20فیصد تک کمی کاخدشہ ہے جس سے برآمدات میں2سے 3ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے۔


انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال رہی اور حکومت نے فوری طور پر اس جانب توجہ دے کر عملی اقدام نہ کیے تومزید انڈسٹری بندہونے کا خدشہ ہے جس سے ملک میں بے روزگاری کا طوفان آجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد بھارتی حکومت نے اپنی انڈسٹری کواس کے منفی اثرات سے بچانے کیلیے 40 فیصد اضافی مراعات دی ہیں لیکن پاکستان میں حکومت کی جانب سے انڈسٹری کو سپورٹ کرنے کی جانب بالکل توجہ نہیں دی جارہی۔

انڈسٹری کی مشکلات برقرار رہنے کی صورت میں ملک میں ٹیکسٹائل پیداوارکم ہونے کا خدشہ ہے جس سے برآمدات میں کمی آئے گی، اس صورتحال میں آئندہ سیزن میںکپاس کی کھپت میں خاصی کمی واقع ہوسکتی ہے اور خام کاٹن کی برآمد میںاضافہ ہو گا جو ملک کے لیے بہت نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس جانب توجہ دے کر نہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بچانے کی کوشش کرے بلکہ جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور ملکی برآمدات کو بڑھانے کی کوشش کرے جس سے زرمبادلہ بڑھے گا جو ملک میں معاشی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بزنس رپورٹر
Load Next Story