کراچی میں غیر قانونی ڈبہ پٹرول پمپوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

کسٹمز ہاؤس میں اہم اجلاس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں انٹرایجنسی ٹاسک فورس کی کارروائیاں، 32ڈبہ پٹرول پمپ مسمار


Ehtisham Mufti May 08, 2014
غیرقانونی پمپ شہر میں یومیہ 30 تا35 لاکھ لیٹر اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل اورپٹرول فروخت کررہے ہیں،ذرائع۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

ایران سے اسمگل ہونے والے پٹرولیم مصنوعات کے فروخت کنندہ ڈبہ پٹرول پمپوں کی بڑھتی ہوئی شکایات کے باعث انٹرایجنسی ٹاسک فورس نے کراچی اور شہرسے باہرغیرقانونی پٹرول پمپس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا اور بدھ کو مختلف علاقوں میں 32ڈبہ پٹرول پمپ مسمار کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ غیرقانونی پٹرول پمپ منگھوپیر، بلدیہ، کورنگی، اورنگی، ملیر اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کر کے مسمار کیے گئے، اس ضمن میں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں بالخصوص شہر کے داخلی وخارجی راستوں پر قائم ان غیرقانونی پمپوں کے ذریعے یومیہ 30 تا35 لاکھ لیٹر اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل اور پٹرول فروخت کیا جاتا ہے اور انہی غیرقانونی ڈبہ پمپوں کا سپلائی شدہ ایرانی پٹرول خوردہ سطح پر شہر کے علاقوں نیوکراچی، سرجانی ٹائون، یوسف گوٹھ، منگھوپیر، سلطان آباد، لانڈھی، بنارس کالونی، اورنگی ٹائون، کورنگی، اسٹیل ٹائون، اتحاد ٹائون، سفورا گوٹھ سمیت دیگر علاقوں میں قانونی پٹرولیم مصنوعات سے 10 تا15 فیصد کم نرخوں پر فروخت کیا جارہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ کسٹمز ہائوس کراچی میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب ان ڈبہ پٹرول پمپوں کا مکمل صفایا کیا جائے گا اور بعدازاں کراچی اور شہر سے باہر جانے والے داخلی وخارجی راستوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ بھی کی جائے گی، اجلاس میں ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ پریونٹیو، پاکستان رینجرز، سندھ پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس، کوسٹ گارڈاورمیری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے افسران بھی موجودتھے جس میں ایڈیشنل کلکٹرہیڈکواٹرشفقت علی خان نیازی، میجرجنرل رینجرز رضوان، ایڈیشنل آئی جی پولیس شاہدحیات سمیت دیگر ایجنسیوں کے افسران بھی شامل تھے۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ سپرہائی وے، نیشنل ہائی وے اورناردرن بائی پاس پر قائم غیرقانونی پمپس کو مسمارکیاجائیگا تاہم پہلے مرحلے میں 5 تا6ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جن میں مذکورہ تمام ایجنسیوںکے اہلکار شامل ہونگے، ساتھ ساتھ ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ پریونٹیوکا شعبہ اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن (اے ایس او) مذکورہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر گہرے سمندرمیں بھی اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں کرے گا۔

مقبول خبریں