معاشی ترقی کا خواب اور عوام
حکومت نے ملک میں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی متعارف کروا کر اقتصادی و معاشی شعبے کو تقویت دی ہے
حکومت نے ملک میں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی متعارف کروا کر اقتصادی و معاشی شعبے کو تقویت دی ہے فوٹو : پی پی آئی/فائل
وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے جمعرات کو موبائل کمپنیوں کو تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کے لائسنس فراہم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا پاکستان،5 جون 2013 کے پاکستان سے کہیں آگے نکل آیا ہے۔ کرپشن کے خاتمے، دہشتگردی کا مؤثر علاج اور پاکستان کا وقار بحال کرنے کے عمل کا آغاز ہوچکا ہے۔ چار سال بعد انشاء اللہ روشن، توانا، مستحکم، پروقار اور خوشحالی کی راہ پر گامزن پاکستان قوم کو دے سکیں گے، کئی سال سے زیرالتوأ تھری جی اور فور جی لائسنسوں کی شفاف نیلامی حکومت کی کامیابی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کا دن ہم149واں عالمی یوم مواصلات وانفارمیشن سوسائٹی کے طور پر منا رہے ہیں۔
حکومت نے ملک میں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی متعارف کروا کر اقتصادی و معاشی شعبے کو تقویت دی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آیندہ چند برسوں کے دوران اس ٹیکنالوجی سے وابستہ خدمات کے شعبے میں روز گار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے جہاں عوام جدید سہولیات سے مستفید ہوں گے وہیں ہر سال 260 روپے کے اضافی ٹیکس بھی خزانے میں جمع ہوں گے۔ حکومت کو تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی سے 90 کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی تھی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت ملکی معاشی شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے مثبت اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے وہیں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں اور حکومتی حلقے یہ دعوے کر رہے ہیں کہ 30ستمبر 2014 تک زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث بڑی صنعتوں کی رفتار میں 5.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کئی منصوبے شروع کر دیے گئے ہیں اور جلد ہی اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت اور چین کے درمیان پاکستان میں پہلی میٹرو ٹرین چلانے کے منصوبے کا معاہدہ طے پانا خوش آیند ہے۔ اس منصوبے پر 1.6 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کراچی لاہور موٹروے منصوبہ جلد شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
حکومت معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے لیکن یہ دعوے حقیقت کا روپ تب دھاریں گے جب عام آدمی اپنی زندگی میں خوش حالی کے اثرات محسوس کرے گا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن سسک سسک کر گزار رہا ہے۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ جیفری فرینکس بھی اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت افراط زر 9.2 فیصد ہے جو بہت زیادہ ہے، اسے 6 سے 7 فیصد کے درمیان لانا ہو گا۔ وہ بھی حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ترقی کے حکومتی دعوئوں کے باوجود توانائی کا بحران ماضی کی طرح جوں کا توں موجود ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث جہاں فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں وہیں نچلے طبقے کا روز گار بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ توانائی بحران کے اس تناظر میں معاشی بہتری کے مثبت اشاریے فی الحال دکھائی نہیں پڑ رہے۔ حکومت نے ڈالر کی قیمت کم کر کے ایک مثبت قدم ضرور اٹھایا تھا مگر معاشی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اس کمی کا فائدہ ایک خاص طبقے کو تو پہنچا مگر عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ڈالر اور پٹرول کی قیمت کم ہونے کے بعد روز مرہ اشیا کی قیمتیں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کمی ہونی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ غیر علانیہ مہنگائی کا گراف بدستور بلند ہوتا جا رہا اور غریب آدمی کے معاشی مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان کو معاشی مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا رخ درست سمت موڑنا ہو گا جس کا فائدہ عام آدمی کو بھی پہنچے۔ حکمران طبقے، بااثر سیاستدانوں، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو بھی اسی طرح ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جس طرح عام آدمی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ توانائی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے اور کوئی بھی حکومت راتوں رات بجلی کے بحران پر قابو نہیں پاسکتی۔ حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے متعدد منصوبے تو شروع کر دیے ہیں مگر وہ ابھی تک کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کا آغاز نہیں کر سکی۔
بجلی کے بحران اور مستقبل میں پیدا ہونے والی پانی کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ آبی ماہرین متعدد بار اس امر کی جانب توجہ دلا چکے ہیں کہ آیندہ چند برسوں میں پاکستان میں پانی کے بحران کا مسئلہ جنم لے سکتا ہے۔ معاشی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے ابھی تک اپنی معاشی پالیسی کے خدوخال واضح نہیں کیے' یہ یاد رکھنا چاہیے کہ واضح معاشی اور اقتصادی پالیسی کے بغیر ترقی کا عمل درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حکومت اگر ملک میں معاشی انقلاب لانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اقتصادی اور معاشی اہداف کا واضح اعلان کرنا ہو گا۔ حکومت کشکول توڑنے کے دعوئوں کے برعکس ماضی کی طرح غیر ملکی قرضوں کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم ایک بار پھر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک ترقی کی دوڑ میں عام آدمی کو شریک نہیں کیا جائے گا خوشحالی کے دعوے کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
حکومت نے ملک میں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی متعارف کروا کر اقتصادی و معاشی شعبے کو تقویت دی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آیندہ چند برسوں کے دوران اس ٹیکنالوجی سے وابستہ خدمات کے شعبے میں روز گار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے جہاں عوام جدید سہولیات سے مستفید ہوں گے وہیں ہر سال 260 روپے کے اضافی ٹیکس بھی خزانے میں جمع ہوں گے۔ حکومت کو تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی سے 90 کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی تھی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت ملکی معاشی شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے مثبت اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے وہیں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں اور حکومتی حلقے یہ دعوے کر رہے ہیں کہ 30ستمبر 2014 تک زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث بڑی صنعتوں کی رفتار میں 5.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کئی منصوبے شروع کر دیے گئے ہیں اور جلد ہی اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت اور چین کے درمیان پاکستان میں پہلی میٹرو ٹرین چلانے کے منصوبے کا معاہدہ طے پانا خوش آیند ہے۔ اس منصوبے پر 1.6 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کراچی لاہور موٹروے منصوبہ جلد شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
حکومت معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے لیکن یہ دعوے حقیقت کا روپ تب دھاریں گے جب عام آدمی اپنی زندگی میں خوش حالی کے اثرات محسوس کرے گا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن سسک سسک کر گزار رہا ہے۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ جیفری فرینکس بھی اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت افراط زر 9.2 فیصد ہے جو بہت زیادہ ہے، اسے 6 سے 7 فیصد کے درمیان لانا ہو گا۔ وہ بھی حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ترقی کے حکومتی دعوئوں کے باوجود توانائی کا بحران ماضی کی طرح جوں کا توں موجود ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث جہاں فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں وہیں نچلے طبقے کا روز گار بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ توانائی بحران کے اس تناظر میں معاشی بہتری کے مثبت اشاریے فی الحال دکھائی نہیں پڑ رہے۔ حکومت نے ڈالر کی قیمت کم کر کے ایک مثبت قدم ضرور اٹھایا تھا مگر معاشی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اس کمی کا فائدہ ایک خاص طبقے کو تو پہنچا مگر عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ڈالر اور پٹرول کی قیمت کم ہونے کے بعد روز مرہ اشیا کی قیمتیں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی کمی ہونی چاہیے تھی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ غیر علانیہ مہنگائی کا گراف بدستور بلند ہوتا جا رہا اور غریب آدمی کے معاشی مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
پاکستان کو معاشی مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا رخ درست سمت موڑنا ہو گا جس کا فائدہ عام آدمی کو بھی پہنچے۔ حکمران طبقے، بااثر سیاستدانوں، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو بھی اسی طرح ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جس طرح عام آدمی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ توانائی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے اور کوئی بھی حکومت راتوں رات بجلی کے بحران پر قابو نہیں پاسکتی۔ حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے متعدد منصوبے تو شروع کر دیے ہیں مگر وہ ابھی تک کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کا آغاز نہیں کر سکی۔
بجلی کے بحران اور مستقبل میں پیدا ہونے والی پانی کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ آبی ماہرین متعدد بار اس امر کی جانب توجہ دلا چکے ہیں کہ آیندہ چند برسوں میں پاکستان میں پانی کے بحران کا مسئلہ جنم لے سکتا ہے۔ معاشی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے ابھی تک اپنی معاشی پالیسی کے خدوخال واضح نہیں کیے' یہ یاد رکھنا چاہیے کہ واضح معاشی اور اقتصادی پالیسی کے بغیر ترقی کا عمل درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حکومت اگر ملک میں معاشی انقلاب لانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اقتصادی اور معاشی اہداف کا واضح اعلان کرنا ہو گا۔ حکومت کشکول توڑنے کے دعوئوں کے برعکس ماضی کی طرح غیر ملکی قرضوں کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم ایک بار پھر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک ترقی کی دوڑ میں عام آدمی کو شریک نہیں کیا جائے گا خوشحالی کے دعوے کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔