برطانیہ میں الطاف حسین اور دیگر رہنماؤں کو حراساں کیا جارہا ہے ایم کیو ایم
برطانوی حکومت کی جانب سے الطاف حسین کو پاکستان کی خدمت اور ملک کوبچانے سے روکا جارہا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
الطاف حسین نے 25 سال کی عمر میں کھڑے ہو کر اس ملک کے سرمایہ کاروں اور جاگیرداروں کے خلاف اپنی جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا، حیدر عباس رضوی فوٹو: ایم کیوایم
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ برطانیہ میں جاری پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کے باوجود الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کو حراساں کیا جارہا ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لئے کراچی تبت سینٹر پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لئے آج اس ریلی میں لاکھوں افراد نے شرکت کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، ہم نے ماضی میں بھی ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے لیکن وہ کالے انگریزوں کے لئے تھے جب کہ آج کی یہ ریلی گورے انگیریزوں کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قیام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسی تاریخ کو اس شاہراہ پر خالق دینا ہال میں مولانا محمد علی جو ہر کے خلاف ظلم اور نااںصافی پر مبنی مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور وہ مقدمہ قائم کرکے پاکستان بنانے کے عمل میں رکاوٹ ڈالی گئی تھی لیکن اس مقدمے کے کچھ عرصے بعد اسی روڈ پر عوامی عدالت سجائی گئی تھی جس میں آزادی کی راہ میں رکاوٹ کو دور کیا اور آزادی حاصل کی، آج الطاف حسین پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہیں تو انہیں یہ کردار ادا کرنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بچانے کے عمل سے دور کیا جارہا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ لندن میں ایم کیو ایم کے بینک اکاؤنٹس بند کئے جارہے ہیں جس پر آج یہ عوامی عدالت لگی ہے اور اس لاکھوں افراد کی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ناانصافی پاکستان میں ہو یا برطانیہ میں ہم اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف پرامن آئینی اور جمہوری جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اس کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ اس موقع پر فاروق ستار نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمروں سے سوال کیا کہ اگرمتحدہ قومی مومنٹ تمام پولیس تحقیقات میں تعاون کررہی ہے تو الطاف حسین اور رہنما کو حراساں کیوں کیا جارہا ہے انہیں پاکستان کو بچانے اور اپنے ملک کی خدمت سے کیوں روکا جارہا ہے؟ جب کہ ابھی تک تو کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہوا، نہ کوئی جرم ثابت ہوا اور نہ ہی کسی عدالت نے کوئی فیصلہ دیا تو پھر الطاف حسین کے بینک اکاؤنٹ کیوں بند کئے جارہے ہیں؟۔ ایم کیو ایم منی لانڈرنگ کے کیس میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے اور ہم نے اس سلسلے میں ایک ایک پائی کا حساب جمع کرادیا ہے تو اس کے باوجوجد الطاف حسین اور ایم کیو ایم بینک اکاؤنٹس کیوں بند کئے جارہے ہیں؟
الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما حیدرعباس رضوی کا کہنا تھا کہ الطاف حسین سے سچی محبت کے اظہار کے لئے لاکھوں افراد کا اجتماع یہ بات ثابت کررہا ہے کہ الطاف حسین کے علاوہ پاکستان میں کوئی اور سیاسی رہنما ایسا نہیں ہے جس کے لئے کارکن مر مٹنے اور اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہوں۔ الطاف حسین نے ہم جیسے بے زمینوں اور گم ناموں کو ایک شناخت دی، ہمیں کوئی جانتا تھا نہ کوئی مانتا اور کوئی تسلیم بھی نہیں کرتا تھا لیکن الطاف حسین کی وجہ سے ہمیں ایک شںاخت ملی۔
حیدرعباس رضوی نے کہا کہ 25 برس کی عمر میں الطاف حسین کا وژن اس ملک کے تمام لیڈروں سے بہت بڑا تھا، انہوں نے چھوٹی سی عمر میں کھڑے ہو کر اس ملک کے سرمایہ کاروں اور جاگیرداروں کے خلاف اپنی جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا۔ الطاف حسین اس ملک کی 95 فیصد خاموش اکثریت کے ترجمان اور ان کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اج تک کسی میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ طالبان اور دہشت گردوں جو پاک فوج کے جوانوں اور جرنیلوں کی گردنیں کاٹ کر فٹبال کھیلنے والوں کے خلاف آواز اٹھاتا، سب لوگ ڈرتے تھے اور خوف کے مارے چھپے بیٹھے تھے لیکن اس صورتحال میں دنیا کے سب سے بڑے حق پرست رہنما الطاف حسین نے آواز بلند کی۔
اس سے قبل ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ الطاف حسین ایک سوچ اور ایک فکر ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتی انہوں نے اس ملک میں حقیقی پاکستان کے لیے آواز اٹھائی، الطاف حسین ملک میں انقلاب لانےکا سوچ نہیں رہے بلکہ وہ انقلاب لاچکے ہیں پاکستان ایک آزاد ملک ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا اور الطاف حسین اس کی قیادت کریں گے جب کہ ایم کیو ایم کے خلاف کی جانے والی تمام سازشیں ناکام ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج کوئی میٹر وبس بناکر پاکستان کو بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میڑو بس چلا کر پاکستان کی خدمت نہیں کی جا سکتی۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لئے کراچی تبت سینٹر پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لئے آج اس ریلی میں لاکھوں افراد نے شرکت کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، ہم نے ماضی میں بھی ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے لیکن وہ کالے انگریزوں کے لئے تھے جب کہ آج کی یہ ریلی گورے انگیریزوں کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قیام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسی تاریخ کو اس شاہراہ پر خالق دینا ہال میں مولانا محمد علی جو ہر کے خلاف ظلم اور نااںصافی پر مبنی مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور وہ مقدمہ قائم کرکے پاکستان بنانے کے عمل میں رکاوٹ ڈالی گئی تھی لیکن اس مقدمے کے کچھ عرصے بعد اسی روڈ پر عوامی عدالت سجائی گئی تھی جس میں آزادی کی راہ میں رکاوٹ کو دور کیا اور آزادی حاصل کی، آج الطاف حسین پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہیں تو انہیں یہ کردار ادا کرنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بچانے کے عمل سے دور کیا جارہا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ لندن میں ایم کیو ایم کے بینک اکاؤنٹس بند کئے جارہے ہیں جس پر آج یہ عوامی عدالت لگی ہے اور اس لاکھوں افراد کی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ناانصافی پاکستان میں ہو یا برطانیہ میں ہم اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف پرامن آئینی اور جمہوری جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اس کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ اس موقع پر فاروق ستار نے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمروں سے سوال کیا کہ اگرمتحدہ قومی مومنٹ تمام پولیس تحقیقات میں تعاون کررہی ہے تو الطاف حسین اور رہنما کو حراساں کیوں کیا جارہا ہے انہیں پاکستان کو بچانے اور اپنے ملک کی خدمت سے کیوں روکا جارہا ہے؟ جب کہ ابھی تک تو کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہوا، نہ کوئی جرم ثابت ہوا اور نہ ہی کسی عدالت نے کوئی فیصلہ دیا تو پھر الطاف حسین کے بینک اکاؤنٹ کیوں بند کئے جارہے ہیں؟۔ ایم کیو ایم منی لانڈرنگ کے کیس میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے اور ہم نے اس سلسلے میں ایک ایک پائی کا حساب جمع کرادیا ہے تو اس کے باوجوجد الطاف حسین اور ایم کیو ایم بینک اکاؤنٹس کیوں بند کئے جارہے ہیں؟
الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما حیدرعباس رضوی کا کہنا تھا کہ الطاف حسین سے سچی محبت کے اظہار کے لئے لاکھوں افراد کا اجتماع یہ بات ثابت کررہا ہے کہ الطاف حسین کے علاوہ پاکستان میں کوئی اور سیاسی رہنما ایسا نہیں ہے جس کے لئے کارکن مر مٹنے اور اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہوں۔ الطاف حسین نے ہم جیسے بے زمینوں اور گم ناموں کو ایک شناخت دی، ہمیں کوئی جانتا تھا نہ کوئی مانتا اور کوئی تسلیم بھی نہیں کرتا تھا لیکن الطاف حسین کی وجہ سے ہمیں ایک شںاخت ملی۔
حیدرعباس رضوی نے کہا کہ 25 برس کی عمر میں الطاف حسین کا وژن اس ملک کے تمام لیڈروں سے بہت بڑا تھا، انہوں نے چھوٹی سی عمر میں کھڑے ہو کر اس ملک کے سرمایہ کاروں اور جاگیرداروں کے خلاف اپنی جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا۔ الطاف حسین اس ملک کی 95 فیصد خاموش اکثریت کے ترجمان اور ان کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اج تک کسی میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ طالبان اور دہشت گردوں جو پاک فوج کے جوانوں اور جرنیلوں کی گردنیں کاٹ کر فٹبال کھیلنے والوں کے خلاف آواز اٹھاتا، سب لوگ ڈرتے تھے اور خوف کے مارے چھپے بیٹھے تھے لیکن اس صورتحال میں دنیا کے سب سے بڑے حق پرست رہنما الطاف حسین نے آواز بلند کی۔
اس سے قبل ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ الطاف حسین ایک سوچ اور ایک فکر ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتی انہوں نے اس ملک میں حقیقی پاکستان کے لیے آواز اٹھائی، الطاف حسین ملک میں انقلاب لانےکا سوچ نہیں رہے بلکہ وہ انقلاب لاچکے ہیں پاکستان ایک آزاد ملک ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا اور الطاف حسین اس کی قیادت کریں گے جب کہ ایم کیو ایم کے خلاف کی جانے والی تمام سازشیں ناکام ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج کوئی میٹر وبس بناکر پاکستان کو بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میڑو بس چلا کر پاکستان کی خدمت نہیں کی جا سکتی۔