رات کو دیر تک جاگنا شریانوں کی بندش کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے
سوئیڈن کی ایک جامعہ میں کی جانے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے 50 سے 64 برس کے درمیان 771 افراد کا جائزہ لیا
ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں میں شریانوں کے بند ہونے کے خطرات صبح جلدی اٹھنے والوں کے مقابلے میں دگنے ہوتے ہیں۔
خون کی شریانیں چکنائی جمع ہونے کے سبب بند ہوتی ہیں اور اس کیفیت کا سامنا عموماً بلند فشار خون اور کولیسٹرول کے مسائل کا شکار بوڑھے افراد کو کرنا پڑتا ہے۔ جس سے ان کے دل کے دورے یا فالج کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
سوئیڈن کی یونیورسٹی آف گوتھنبرگ میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے 50 سے 64 برس کے درمیان 771 افراد کا جائزہ لیا۔ مطالعے میں انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ کیفیت رات کو دیر سے سونے والوں میں کیا اثرات رکھتی تھی۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو بالیقین رات کو دیر تک جاگنے والے تھے ان کے خون کی شریانوں کے بند ہونے خطرات صبح جلدی اٹھنے والوں کی نسبت 90 فی صد زیادہ تھے۔
تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ بالخصوص دن کے اوقات میں فعال ہونے کے بجائے رات کو دیر تک جاگنا ممکنہ طور پر ہمارے جسم کی قدرتی گھڑی کے خلاف کام کر سکتا ہے۔
مطالعے میں وقت کی اس عدم مطابقت کا تعلق بلند فشار خون اور سوزش سے دیکھا گیا جو شریانوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ان کو بند کر سکتا ہے۔شریانوں میں جمع ہونے والی چکنائی ان کو سخت کرتے ہوئے ان کے پھٹنے کا سبب بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں خون کے لوتھڑے دل کے دورے یا فالج کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاہم، رات کو دیر تک جاگنے والے عموماً غیر صحت مند طرزِ زندگی رکھتے ہیں جیسے کہ نامناسب کھانا، جو شریانوں کی بندش کے خطرات اضافہ کر سکتی ہے۔
خون کی شریانیں چکنائی جمع ہونے کے سبب بند ہوتی ہیں اور اس کیفیت کا سامنا عموماً بلند فشار خون اور کولیسٹرول کے مسائل کا شکار بوڑھے افراد کو کرنا پڑتا ہے۔ جس سے ان کے دل کے دورے یا فالج کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
سوئیڈن کی یونیورسٹی آف گوتھنبرگ میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے 50 سے 64 برس کے درمیان 771 افراد کا جائزہ لیا۔ مطالعے میں انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ کیفیت رات کو دیر سے سونے والوں میں کیا اثرات رکھتی تھی۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو بالیقین رات کو دیر تک جاگنے والے تھے ان کے خون کی شریانوں کے بند ہونے خطرات صبح جلدی اٹھنے والوں کی نسبت 90 فی صد زیادہ تھے۔
تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ بالخصوص دن کے اوقات میں فعال ہونے کے بجائے رات کو دیر تک جاگنا ممکنہ طور پر ہمارے جسم کی قدرتی گھڑی کے خلاف کام کر سکتا ہے۔
مطالعے میں وقت کی اس عدم مطابقت کا تعلق بلند فشار خون اور سوزش سے دیکھا گیا جو شریانوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ان کو بند کر سکتا ہے۔شریانوں میں جمع ہونے والی چکنائی ان کو سخت کرتے ہوئے ان کے پھٹنے کا سبب بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں خون کے لوتھڑے دل کے دورے یا فالج کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاہم، رات کو دیر تک جاگنے والے عموماً غیر صحت مند طرزِ زندگی رکھتے ہیں جیسے کہ نامناسب کھانا، جو شریانوں کی بندش کے خطرات اضافہ کر سکتی ہے۔