جنرل عبدالفتح السیسی مصر کے صدارتی انتخابات میں کامیاب
السیسی کے واحد مد مقابل بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے امیدوار حمدیِن صباحی کو 5 فیصد سے بھی کم ووٹ پڑے
انتخابات کا ٹرن آؤٹ 44 فیصد کے قریب رہا جبکہ حتمی تنائج کا اعلان 5 جون کو کیا جائے گا۔ فوٹو؛ فائل
مصر کے سابق فوجی سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی انتخابات میں کامیابی کے ملک کے نئے صدر ہوں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مصر میں 3 روز تک جاری رہنے والے صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری تنائج کے مطابق جنرل عبدالفتح السیسی 90 فیصد ووٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد عبدالفتح السیسی کے حامیوں کی بڑی تعداد تحریر اسکوائر پر جمع ہوگئی اور سابق فوجی سربراہ کی جیت کی خوشی میں جشن منایا اور چراغاں کیا۔ السیسی کے واحد مد مقابل بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے امیدوار حمدیِن صباحی کو 5 فیصد سے بھی کم ووٹ پڑے جب کہ انتخابات کا ٹرن آؤٹ 44 فیصد کے قریب رہا۔ حتمی تنائج کا اعلان 5 جون کو کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ معزول سیاسی حکمراں جماعت اخوان المسلمون سمیت متعدد جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جب کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس کے علاوہ ایک لاکھ 82 ہزار فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ جنرل عبدالفتح السیسی نے گزشتہ برس مصر کے پہلے آئینی صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پرقبضہ کرلیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مصر میں 3 روز تک جاری رہنے والے صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری تنائج کے مطابق جنرل عبدالفتح السیسی 90 فیصد ووٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد عبدالفتح السیسی کے حامیوں کی بڑی تعداد تحریر اسکوائر پر جمع ہوگئی اور سابق فوجی سربراہ کی جیت کی خوشی میں جشن منایا اور چراغاں کیا۔ السیسی کے واحد مد مقابل بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے امیدوار حمدیِن صباحی کو 5 فیصد سے بھی کم ووٹ پڑے جب کہ انتخابات کا ٹرن آؤٹ 44 فیصد کے قریب رہا۔ حتمی تنائج کا اعلان 5 جون کو کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ معزول سیاسی حکمراں جماعت اخوان المسلمون سمیت متعدد جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جب کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس کے علاوہ ایک لاکھ 82 ہزار فوجی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ جنرل عبدالفتح السیسی نے گزشتہ برس مصر کے پہلے آئینی صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پرقبضہ کرلیا تھا۔