سنکیانگ دہشت گردی …9 افراد کو سزائے موت
چینی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ سنکیانگ میں کچھ مسلح گروہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں...
چینی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ سنکیانگ میں کچھ مسلح گروہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں. فوٹو؛ ویبو ڈاٹ کام/ فائل
مسلم آبادی کی اکثریت والے چینی صوبے سنکیانگ جہاں کچھ عرصہ قبل دہشت گردی کے ایک ہولناک واقعے سے متعدد افراد ہلاکت کا شکار بن گئے تھے' چینی حکومت نے سرعت سے کارروائی کرتے ہوئے 9 افراد کو دہشتگردی اور تخریب کاری کے الزامات میں سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے چین کے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنکیانگ میں بہت ساری عدالتوں میں بیک وقت کارروائی شروع ہوئی جس میں 81 مشتبہ افراد کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی گئیں۔ سنکیانگ جو مذہبی تفریق کے باعث مسائل کا شکار ہے وہاں پر دہشت گرد دھماکے کے بعد مقامی انتظامیہ نے زبردست کریک ڈائون کر کے بہت سے مشتبہ افراد گرفتار کر لیے تھے۔
انھی میں سے جن پر جرم ثابت ہو رہا ہے عدالتیں انھیں سزا دے رہی ہیں' موت کی سزا فی الحال ابھی صرف 9افراد کو ملی ہے۔ چینی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ سنکیانگ میں کچھ مسلح گروہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ ادھر چین کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چین اس علاقہ میں دہشت گردی کے خطرات کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ علاقے کی مسلم آبادی کو جس ناروا سختی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے لیے جواز پیدا کر سکے۔ سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں جمعرات کے دن 29 مزید افراد کو دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت چین نے استغاثہ تیار کرنے والے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ 29 افراد کے خلاف 24 گھنٹے کے اندر اندر چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کر دیا جائے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ سنکیانگ کا چینی صوبہ پاکستان کی سرحد کے قریب ترین ہے اور چین کے لیے پاکستان تک رسائی کے لیے بھی یہ آسان ترین راستہ ہے تاہم عالمی سامراج یہ پسند نہیں کرتا کہ چین اس راستے سے افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی وسیع مارکیٹ تک رسائی حاصل کرے۔ لہٰذا صوبہ سنکیانگ میں تخریب کاری اور دہشتگردی کی وارداتوں کو اس تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے' بہر حال چینی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی بھی اقدام کرتے ہوئے اس بات کی پوری تحقیقات کرے کہ اصل ملزم ہی سزا پا سکیں کیونکہ جلد بازی کی کارروائی میں بے گناہوں کو سزا ملنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔
انھی میں سے جن پر جرم ثابت ہو رہا ہے عدالتیں انھیں سزا دے رہی ہیں' موت کی سزا فی الحال ابھی صرف 9افراد کو ملی ہے۔ چینی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ سنکیانگ میں کچھ مسلح گروہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ ادھر چین کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چین اس علاقہ میں دہشت گردی کے خطرات کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ علاقے کی مسلم آبادی کو جس ناروا سختی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے لیے جواز پیدا کر سکے۔ سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں جمعرات کے دن 29 مزید افراد کو دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت چین نے استغاثہ تیار کرنے والے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ 29 افراد کے خلاف 24 گھنٹے کے اندر اندر چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کر دیا جائے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ سنکیانگ کا چینی صوبہ پاکستان کی سرحد کے قریب ترین ہے اور چین کے لیے پاکستان تک رسائی کے لیے بھی یہ آسان ترین راستہ ہے تاہم عالمی سامراج یہ پسند نہیں کرتا کہ چین اس راستے سے افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی وسیع مارکیٹ تک رسائی حاصل کرے۔ لہٰذا صوبہ سنکیانگ میں تخریب کاری اور دہشتگردی کی وارداتوں کو اس تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے' بہر حال چینی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی بھی اقدام کرتے ہوئے اس بات کی پوری تحقیقات کرے کہ اصل ملزم ہی سزا پا سکیں کیونکہ جلد بازی کی کارروائی میں بے گناہوں کو سزا ملنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔