ہفتہ رفتہ ٹیکسٹائل ملز کی خریداری میں عدم دلچسپی روئی کی قیمتوں میں کمی
اسپاٹ ریٹ 6ہزار800روپے من تک مستحکم، مزید ملزبند ہونے کی اطلاعات، درآمد میں کمی کا امکان
اسپاٹ ریٹ 6ہزار800روپے من تک مستحکم، مزید ملزبند ہونے کی اطلاعات، درآمد میں کمی کا امکان۔ فوٹو: فائل
وفاقی بجٹ 2014-15 میںصنعتوں کیلیے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باوجود پنجاب میں ٹیکسٹائل ملز کو بجلی اور گیس کی کم مقدارمیں دستیابی، پیداواری عمل متاثر ہونے جیسے عوامل کے سبب گزشتہ ہفتے ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے روئی خریداری میں عدم دلچسپی کا رحجان غالب رہا۔
جس کے نتیجے میں پورے ہفتے روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان رہا لیکن اس کے برعکس امریکی ادا رہ برائے زراعت کی جانب سے منفی رپورٹس، امریکی کاٹن ایکسپورٹس بارے بھی انتہائی منفی اطلاعات کے باوجود نیو یارک کاٹن ایکس چینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان غالب رہا جس سے دنیا بھر کے ماہرین کے وہ اندازے بھی غلط ثابت ہو گئے جس میں نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں شدید مندی بارے پیش گوئیاں کی گئی تھیں۔
ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پنجاب کے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں گزشتہ کافی عرصے سے ٹیکسٹائل ملز توانائی کے بحران کے باعث شدید مشکلات سے دو چار تھیں جس کے باعث اب تک ایک سو سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں لیکن وفاقی بجٹ میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کے باعث اطلاعات کے مطابق مزید ٹیکسٹائل ملز کی بندش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس سے ہماری کاٹن ایکسپورٹس میں خاطر خواہ کمی بھی ہو سکتی ہے جس کا براہ راست نقصان کاشت کاروں کو ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے بعد سندھ میں بھی رواں سال کپاس کی کاشت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق سندھ بھر میں 16 لاکھ6ہزار150ایکڑ کپاس کی کاشت کے ہدف کے مقابلے میںچھ جون تک صرف 11لاکھ 9 ہزار 375 ایکڑ پر کپاس کاشت کی جا سکی تھی جس سے اس سال بھی سندھ میں کپاس کی کاشت کا ہدف حاصل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہاجبکہ اطلاعات کے مطابق ہمسایہ ملک بھارت میں 2013-14 کے دوران بھارتی تاریخ کی سب سے زیادہ کپاس کی پیداوار 3 کروڑ 88 لاکھ بیلز (170 kg) پیدا ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں جس کی بڑی وجہ ان ملکوں میں بر وقت، مثبت اور کسان و تاجر دوست حکومتی پالیسیاں ہیں جبکہ پاکستان میں زرعی مداخل اور صنعت کاروں پر بے تحاشہ ٹیکسز اور نان پروفیشنل رویے کے باعث ہماری زراعت اور صنعتیں روز بروز زوال پذیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے0.30سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 90.45 سینٹ فی پائونڈ،جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 2.20 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 86.98 سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ گئیں۔ بھارت میں روئی کی قیمتیں 140روپے فی کینڈی کمی کے بعد41 ہزار 146 روپے فی کینڈی تک گر گئیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6 ہزار800روپے فی من تک مستحکم رہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں نیا کاٹن جننگ سیزن14جون سے پنجاب کے شہر ہارون آباد مین شروع ہو چکا ہے جبکہ قبل ازیں اطلاعات آئی تھیں کہ رواں برس نیا کاٹن جننگ سیزن سندہ کے شہر شہداد پور سے شروع ہو گا لیکن اطلاعات کے مطابق سندھ کے ساحلی شہروں ٹھٹھ،بدین اور جھڈو وغیرہ میں جہاں کپاس کی چنائی شروع ہونی تھی وہ اب سمندری طوفان کے سبب کچھ عرصے کے لیے موخر ہونے سے جننگ سیزن بھی قدرے تاخیر سے شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق ہارون آباد میں بھی سندھ سے پھٹی خرید کر نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے کاٹن جنرز سے موخر ادائیگی پر خریدی گئی روئی کی ادائیگیاں نہ ہونے سے بعض کاٹن جنرز زبردست معاشی بحران کا شکار ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بعض ٹیکسٹائل ملز مالکان جنہوں نے کروڑوں روپے کاٹن جنرز کے ادا کرنے ہیں وہ ان ادائیگیوں میں انتہائی لیت و لعل سے کام لے رہے ہیںجبکہ وفاقی بجٹ 2014-15 میں آئل کیک(کھل بنولہ)پر5 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ملک بھر کے کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا کہ اس سے کپاس کی قیمتیں کم ہونے سے براہ راست اس سے کسانوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جس کے نتیجے میں پورے ہفتے روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان رہا لیکن اس کے برعکس امریکی ادا رہ برائے زراعت کی جانب سے منفی رپورٹس، امریکی کاٹن ایکسپورٹس بارے بھی انتہائی منفی اطلاعات کے باوجود نیو یارک کاٹن ایکس چینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان غالب رہا جس سے دنیا بھر کے ماہرین کے وہ اندازے بھی غلط ثابت ہو گئے جس میں نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں شدید مندی بارے پیش گوئیاں کی گئی تھیں۔
ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پنجاب کے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں گزشتہ کافی عرصے سے ٹیکسٹائل ملز توانائی کے بحران کے باعث شدید مشکلات سے دو چار تھیں جس کے باعث اب تک ایک سو سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں لیکن وفاقی بجٹ میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کے باعث اطلاعات کے مطابق مزید ٹیکسٹائل ملز کی بندش کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس سے ہماری کاٹن ایکسپورٹس میں خاطر خواہ کمی بھی ہو سکتی ہے جس کا براہ راست نقصان کاشت کاروں کو ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے بعد سندھ میں بھی رواں سال کپاس کی کاشت میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق سندھ بھر میں 16 لاکھ6ہزار150ایکڑ کپاس کی کاشت کے ہدف کے مقابلے میںچھ جون تک صرف 11لاکھ 9 ہزار 375 ایکڑ پر کپاس کاشت کی جا سکی تھی جس سے اس سال بھی سندھ میں کپاس کی کاشت کا ہدف حاصل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہاجبکہ اطلاعات کے مطابق ہمسایہ ملک بھارت میں 2013-14 کے دوران بھارتی تاریخ کی سب سے زیادہ کپاس کی پیداوار 3 کروڑ 88 لاکھ بیلز (170 kg) پیدا ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں جس کی بڑی وجہ ان ملکوں میں بر وقت، مثبت اور کسان و تاجر دوست حکومتی پالیسیاں ہیں جبکہ پاکستان میں زرعی مداخل اور صنعت کاروں پر بے تحاشہ ٹیکسز اور نان پروفیشنل رویے کے باعث ہماری زراعت اور صنعتیں روز بروز زوال پذیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے0.30سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 90.45 سینٹ فی پائونڈ،جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 2.20 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 86.98 سینٹ فی پائونڈ تک پہنچ گئیں۔ بھارت میں روئی کی قیمتیں 140روپے فی کینڈی کمی کے بعد41 ہزار 146 روپے فی کینڈی تک گر گئیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6 ہزار800روپے فی من تک مستحکم رہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں نیا کاٹن جننگ سیزن14جون سے پنجاب کے شہر ہارون آباد مین شروع ہو چکا ہے جبکہ قبل ازیں اطلاعات آئی تھیں کہ رواں برس نیا کاٹن جننگ سیزن سندہ کے شہر شہداد پور سے شروع ہو گا لیکن اطلاعات کے مطابق سندھ کے ساحلی شہروں ٹھٹھ،بدین اور جھڈو وغیرہ میں جہاں کپاس کی چنائی شروع ہونی تھی وہ اب سمندری طوفان کے سبب کچھ عرصے کے لیے موخر ہونے سے جننگ سیزن بھی قدرے تاخیر سے شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق ہارون آباد میں بھی سندھ سے پھٹی خرید کر نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے کاٹن جنرز سے موخر ادائیگی پر خریدی گئی روئی کی ادائیگیاں نہ ہونے سے بعض کاٹن جنرز زبردست معاشی بحران کا شکار ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بعض ٹیکسٹائل ملز مالکان جنہوں نے کروڑوں روپے کاٹن جنرز کے ادا کرنے ہیں وہ ان ادائیگیوں میں انتہائی لیت و لعل سے کام لے رہے ہیںجبکہ وفاقی بجٹ 2014-15 میں آئل کیک(کھل بنولہ)پر5 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ملک بھر کے کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا کہ اس سے کپاس کی قیمتیں کم ہونے سے براہ راست اس سے کسانوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔