مفاد عامہ کیخلاف فیصلوں پر بھارت میں ملک گیر ہڑتال
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے،ایل پی جی پرسبسڈی میں کمی پرہڑتال کی کال اپوزیشن نے دی تھی،مارکیٹیں، اسکول،دفاتربند
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے،ایل پی جی پرسبسڈی میںکمی پرہڑتال کی کال اپوزیشن نے دی تھی،مارکیٹیں، اسکول،دفاتربنداورپہیہ جام رہا. فوٹو فائل
KARACHI:
بھارت میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے، گھریلو استعمال کی گیس پر سبسڈی کم کرنے اور ریٹیل بازار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت کیخلاف جمعرات کو اپوزیشن کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کی گئی۔
ہڑتال کا سب سے زیادہ اثرکولکتہ ،بنگلوراورچنائے میں ہوا جہاں مارکیٹیں،اسکول ،دفاتربند اورپہیہ جام رہا۔بہت سے مقامات پراحتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جن میں وزیراعظم من موہن سنگھ کے پتلے جلائے گئے۔کئی ریاستوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے دھرنے دیے اور مظاہرے کیے۔ ہڑتال کی وجہ سے کئی مقامات پر ریل سروس بھی متاثر ہوئی۔ مظاہرین نے دھرنے دیکرسڑکیں بھی بلاک رکھیں۔کچھ جگہوں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے لیکن کسی بڑی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔وسطی بھارت میں ہڑتال جزوی رہی،ممبئی میں ہڑتال جزوی رہی،دہلی میں بھی بہت سی مارکیٹیں کھلی رہیں۔ بہار میں جگہ جگہ سڑکوں پر پہیہ جام تھا اور ٹرینوں کو روکا گیا۔
اپوزیشن کا کہناہے کہ حکومت بھارتی عوام کے بجائے امریکاکے صدر بارک اوباما اوروزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کوخوش کرنے کیلیے زیادہ فکر مند ہے۔بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے کہا، 'امریکی کمپنی وال مارٹ کاجتنا کاروبارہے، ہمارے ملک میں کل ریٹیل بازار کا اتنا کاروبارہے لیکن وال مارٹ بیس لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرتاہے لیکن بھارت کے ریٹیل بازار سے پانچ کروڑ لوگ روزی روٹی کماتے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ چین کو پچھلے دروازے سے بھارت میں داخل ہونے دینے کی سازش کا حصہ ہے۔ وزیر خزانہ پی چندم برم نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلیے اصلاحات کا پروگرام جاری رہے گا۔
بھارت میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے، گھریلو استعمال کی گیس پر سبسڈی کم کرنے اور ریٹیل بازار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت کیخلاف جمعرات کو اپوزیشن کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کی گئی۔
ہڑتال کا سب سے زیادہ اثرکولکتہ ،بنگلوراورچنائے میں ہوا جہاں مارکیٹیں،اسکول ،دفاتربند اورپہیہ جام رہا۔بہت سے مقامات پراحتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جن میں وزیراعظم من موہن سنگھ کے پتلے جلائے گئے۔کئی ریاستوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے دھرنے دیے اور مظاہرے کیے۔ ہڑتال کی وجہ سے کئی مقامات پر ریل سروس بھی متاثر ہوئی۔ مظاہرین نے دھرنے دیکرسڑکیں بھی بلاک رکھیں۔کچھ جگہوں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے لیکن کسی بڑی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔وسطی بھارت میں ہڑتال جزوی رہی،ممبئی میں ہڑتال جزوی رہی،دہلی میں بھی بہت سی مارکیٹیں کھلی رہیں۔ بہار میں جگہ جگہ سڑکوں پر پہیہ جام تھا اور ٹرینوں کو روکا گیا۔
اپوزیشن کا کہناہے کہ حکومت بھارتی عوام کے بجائے امریکاکے صدر بارک اوباما اوروزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کوخوش کرنے کیلیے زیادہ فکر مند ہے۔بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے کہا، 'امریکی کمپنی وال مارٹ کاجتنا کاروبارہے، ہمارے ملک میں کل ریٹیل بازار کا اتنا کاروبارہے لیکن وال مارٹ بیس لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرتاہے لیکن بھارت کے ریٹیل بازار سے پانچ کروڑ لوگ روزی روٹی کماتے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ یہ سب کچھ چین کو پچھلے دروازے سے بھارت میں داخل ہونے دینے کی سازش کا حصہ ہے۔ وزیر خزانہ پی چندم برم نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کیلیے اصلاحات کا پروگرام جاری رہے گا۔