اکتوبرتادسمبرمویشیوں میں وبائی امراض پھیلنے کاخطرہ
مالکان اپنے جانوروںکوقریبی ویٹرنری مراکزسے حفاظتی ٹیکے لگوائیں،ڈائریکٹراینیمل ہسبنڈری
مالکان اپنے جانوروںکوقریبی ویٹرنری مراکزسے حفاظتی ٹیکے لگوائیں،ڈائریکٹراینیمل ہسبنڈری . فائل فوٹو
ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری سندھ نے صوبے بھرمیں سال کے آخری3ماہ اکتوبرسے دسمبر تک مختلف مویشیوں میں وبائی امراض پھیلنے کاخطرہ ظاہر کرتے ہوئے مویشی مالکان کومشورہ دیاہے کہ وہ فوری طور پراپنے جانوروںکووبائی امراض سے بچانے کیلیے اسپتالوں یاقریبی ویٹرنری مراکزسے حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔
ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق گائے اوربھینس کو (Haemorrhagic Septicemia) کی بیماری لگ سکتی ہے جن کی علامتیں یہ ہیں کہ ان کوتیزبخار اورسانس لینے میں تکلیف شامل ہیں،اس کے علاوہ گائے اوربھینس کے گلے پر سوجن یامنہ سے رال بہے گی،یہ بیماری سندھ میں پھیل سکتی ہے۔
ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری نے مزید کہاہے کہ گائے اوربھینس میں ایک اور بیماری(Entero Toxaemia) بھی جنم لے سکتی ہے جوکہ خاص طورپرکراچی،حیدرآباد،تھرپارکر، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، لاڑکانہ،قمبر شہدادکوٹ،جیکب آباد اورکشمور کندھ کوٹ کے علاقوں میں ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ چھوٹے جانوروں مثلاً بکری اوربھیڑوں میں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔
ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق گائے اوربھینس کو (Haemorrhagic Septicemia) کی بیماری لگ سکتی ہے جن کی علامتیں یہ ہیں کہ ان کوتیزبخار اورسانس لینے میں تکلیف شامل ہیں،اس کے علاوہ گائے اوربھینس کے گلے پر سوجن یامنہ سے رال بہے گی،یہ بیماری سندھ میں پھیل سکتی ہے۔
ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری نے مزید کہاہے کہ گائے اوربھینس میں ایک اور بیماری(Entero Toxaemia) بھی جنم لے سکتی ہے جوکہ خاص طورپرکراچی،حیدرآباد،تھرپارکر، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، لاڑکانہ،قمبر شہدادکوٹ،جیکب آباد اورکشمور کندھ کوٹ کے علاقوں میں ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ چھوٹے جانوروں مثلاً بکری اوربھیڑوں میں بھی یہ بیماری پھیل سکتی ہے۔