سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بلائی گئی اے پی سی کا سپریم کورٹ کے ججز پرمشتمل کمیشن بنانے کا مطالبہ
وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور سانحے میں مبینہ طور پر ملوث وزرا کو مستعفی ہوں۔ اعلامیہ فوٹو؛ ایکسپریس نیوز
عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل آزاد کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور میں منعقدہ اے پی سی میں 40 سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتوں کے وفود نے شرکت کی مسلم لیگ (ق) کی جانب سے چوہدری شجاعت حسین، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی ، متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے وفد کی قیادت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر طاہرالقادری نے اے پی سی میں شریک تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اے پی سی کا مقصد حکومت وک گرانا نہیں بلکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جاں بحق ہونے والے کارکنوں کو انصاف دلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہمارے 14 کارکن جاں بحق اور 125 زخمی ہوئے جبکہ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ 17 جون کو ماڈل ٹاؤن میں ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کیا گیا، پنجاب پولیس نے رات کو سوئے ہوئے لوگوں پر حملہ کیا اور آپریشن کے آخری 2 گھنٹے میں سیدھی گولیاں چلائی گئیں جس میں 2 خواتین اور 6 مرد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے وقت ہمارے کارکن نہتے تھے اگر ادارہ منہاج القرآن میں اسلحہ تھا تو میڈیا کو کیوں نہیں دکھایا گیا۔
اے پی سی میں شریک دیگر جماعتوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جبکہ مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ماڈل ٹاؤن آپریشن میں ملوث تمام حکومتی مشینری کو برطرف کرتے ہوئے اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا جائے اور واقعے کی ایف آئی آر منہاج القرآن کی طرف سے درج کی جائے، اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 3 سینئر ججز پر مشتمل کمیشن کو اختیار دیا جائے کہ وہ وزیراعظم کو بھی طلب کر سکے جبکہ وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور سانحے میں مبینہ طور پر ملوث وزرا مستعفی ہوں اگر وہ خود مستعفی نہیں ہوتے تو صدر مملکت انہیں برطرف کردیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹرطاہرالقادری کی رہائش گاہ کے باہر سے تجاوزات ہٹانے کی غرض سے 17 جون کو آپریشن کے دوران پولیس اور تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔