عالمی جرائم ٹریبیونل میں حسینہ واجد سمیت 9 افراد پر نسل کشی کا مقدمہ

نویں جماعت کے طالبعلم کے قتل میں شیخ حسینہ کے علاوہ وزرا اور اعلیٰ پولیس افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے

شیخ حسینہ کے علاوہ وزرا اور اعلیٰ پولیس افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت کے دیگر 8 اہم افراد کے خلاف رواں برس 15 جولائی سے 5 اگست کے درمیان انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزام کے تحت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کی تحقیقاتی ایجنسی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بین الاقوامی جرائم ٹریبونل میں مقدمے کی درخواست سپریم کورٹ کے وکیل غازی ایم ایچ تنیم نے طالب علم سائم احمد کے والد کی طرف سے آج جمع کرائی۔

درخواست گزار کے بیٹے سائم احمد کو 5 اگست کو حسینہ واجد کے خلاف مظاہرے میں پولیس کی گولی لگی تھی اور طالب علم 2 روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے تھے۔

مقدمے میں شیخ حسینہ واجد کے علاوہ سابق وزراء عبیدالقادر اور اسد الزماں خان کمال، سابق وزرائے مملکت جنید احمد پالک اور محمد علی عرفات، سابق انسپکٹر جنرل پولیس چودھری عبداللہ المامون، ڈی بی کے سابق سربراہ ہارون رشید؛ سابق ڈی ایم پی کمشنر حبیب الرحمان اور سابق ڈائریکٹر جنرل راب ہارون الرشید کو نامزد کیا گیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : ملک میں احتجاج کے نام پر تباہی کا رقص کیا گیا؛ شیخ حسینہ


مقدمے میں ان افراد کے علاوہ حکمراں جماعت عوامی لیگ اور اس کی بغل بچہ اور حامی تنظیموں جوبو لیگ، چھاتر لیگ اور دیگر کو بھی بطور جماعت نامزد کیا گیا ہے۔

انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عطاء الرحمان نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف شکایت درج کر لی ہے اور کیس کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر میں جمع کرائیں گے۔

خیال رہے کہ یہ مقدمہ اس وقت درج کیا گیا جب عبوری حکومت کے مشیر قانون آصف نذر نے اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی جرائم ٹربیونل طلبا احتجاجی تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے مقدمے کی سماعت کرے گی۔

شیخ حسینہ واجد کے خلاف بنگلادیش میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک طلبا تحریک چلتی رہی جسے کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا جس میں 400 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

مارے جانے والوں میں طلبا، عوام، پولیس اہلکار اور مختلف جماعتوں کے کارکنان شامل تھے۔ عوامی دباؤ پر حسینہ واجد مستعفی ہوکر بھارت پہنچیں اور تاحال وہیں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

 
Load Next Story