امریکی فضائی کمپنیوں کا اسرائیل کیلئے پروازیں معطل رکھنے کا فیصلہ
ڈیلٹا ائیر لائنز نے 31 اکتوبر اور امریکنز ایئرلائن نے آئندہ برس 29 مارچ تک پروازیں نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے
ڈیلٹا ائیر لائنز نے 31 اکتوبر اور امریکنز ایئرلائن نے آئندہ برس 29 مارچ تک پروازیں نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے
امریکا کی فضائی کمپنی ڈیلٹا ایئر لائنز نے اپنی اسرائیل جانے والی پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیلٹا ائیر لائن کمپنی نے اسرائیل کے لیے پروازوں کی معطلی میں 31 اکتوبر تک توسیع کردی جب کہ ایک اور فضائی کمپنی امریکنز ایئرلائنز نے آئندہ برس 29 مارچ تک کوئی بھی پرواز اسرائیل نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ توسیع اس وقت کی گئی ہے جب ایران نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بدلے میں اسرائیل پر حملے کے دھمکیاں دی ہوئی ہیں۔ حماس اور حزب اللہ بھی انتقامی کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔
امریکا سمیت مغربی ممالک نے بھی ایران اور حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی وقت اسرائیل پر فضائی حملے سے خبردار کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو چوکنا رہنے اور لبنان سمیت حساس شہروں کے سفر سے منع کیا ہے۔
یاد رہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو گزشتہ ماہ کے آخری دن تہران کے ایک حساس مہمان خانے میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ نو منتخب ایرانی صدر کی تقرین حلف برداری سے واپس آئے تھے۔
ایران، حماس اور حزب اللہ نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی جب کہ اسرائیل نے اس الزام کی نا تو تردید کی اور نہ ہی تصدیق کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیلٹا ائیر لائن کمپنی نے اسرائیل کے لیے پروازوں کی معطلی میں 31 اکتوبر تک توسیع کردی جب کہ ایک اور فضائی کمپنی امریکنز ایئرلائنز نے آئندہ برس 29 مارچ تک کوئی بھی پرواز اسرائیل نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ توسیع اس وقت کی گئی ہے جب ایران نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بدلے میں اسرائیل پر حملے کے دھمکیاں دی ہوئی ہیں۔ حماس اور حزب اللہ بھی انتقامی کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔
امریکا سمیت مغربی ممالک نے بھی ایران اور حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی وقت اسرائیل پر فضائی حملے سے خبردار کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو چوکنا رہنے اور لبنان سمیت حساس شہروں کے سفر سے منع کیا ہے۔
یاد رہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو گزشتہ ماہ کے آخری دن تہران کے ایک حساس مہمان خانے میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ نو منتخب ایرانی صدر کی تقرین حلف برداری سے واپس آئے تھے۔
ایران، حماس اور حزب اللہ نے اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہوئے بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی جب کہ اسرائیل نے اس الزام کی نا تو تردید کی اور نہ ہی تصدیق کی ہے۔