سعید جہاں گرد کی داستان
ان کی زندگی کے 50برس سفرمیں گزرے ۔
zahedahina@gmail.com
ان کی زندگی کے 50برس سفرمیں گزرے ۔ غیر منقسم ہندوستان کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے نازوں کے پالے بیٹے کے بارے میں کوئی یہ کیوں تصور کرتا کہ وہ ڈھنگ سے پڑھ کر نہیں دے گا جب کہ بڑے بھائی پڑھ لکھ کر اچھے عہدوں پر فائز ہوچکے تھے۔ یہ 40 کی دہائی کا وہ زمانہ تھا جب یوپی اور بہار میں مسلم لیگ کا جادو چل چکا تھا۔سیاست نے گھروں میں تقسیم کے بیج بودیے تھے۔ باپ کانگریسی سیاست میں یقین رکھتے تھے۔ ان کے حلقۂ احباب میں پنڈت نہرو سمیت چوٹی کے کانگریسی سیاست دان شامل تھے۔
صاحبزادے کا یہ عالم کہ 8 برس کی عمر میں جب رفیع احمد قدوائی' ان کے گھر مہمان ہوئے تو انھوں نے قدوائی صاحب سے ہاتھ ملانے سے یہ کہہ کر انکارکردیا کہ یہ صاحب کانگریسی ہیں' میں ان سے ہاتھ نہیں ملاسکتا۔ چند برس بعد قدوائی صاحب جب دوسرے کانگریسی رہنمائوں کے ساتھ گرفتار ہو کر بریلی سینٹرل جیل میں رکھے گئے تو انھوں نے اپنے عزیز دوست کو پیغام بھجوایا کہ وہ جیل کا نہیں' ان کے خاص باورچی عزیز ابا کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھائیں گے۔کھانا روزانہ بریلی سینٹرل جیل بھجوایا جاتا اور وہ صرف قدوائی صاحب کے لیے نہیں درجن بھر دوسرے کانگریسی قیدیوں کے لیے بھی ہوتا۔
کھانا پہنچانے کی ذمے داری اسی نوجوان کی تھی جو چند برس پہلے کانگریسی قدوائی سے ہاتھ ملانے کا روادار نہیں ہوا تھا۔ یہ لڑکا جس کا نام سعید حسن خان تھا' اس نے اپنا سیاسی قبلہ تبدیل نہیں کیا تھا لیکن جیل کھانا پہنچا نا اس کی قدیم خاندانی روایات کا ایک جزو تھا۔ ان ہی دنوں جب مشہور اور جید دیو بندی عالم مولانا حسین احمد مدنی بریلی میں جلسے سے خطاب کررہے تھے تو چند پُر جوش مسلم لیگیوں نے سعید خان کے سپرد غلاظت سے بھرا مٹی کا ایک کوزہ کیا کہ اسے مولانا پر اچھال دو۔
مولانا مدنی کا قصور یہ تھا کہ وہ قوم پرست تھے اور کانگریس سے وابستہ تھے۔ سعید حسن نے نہایت تابعداری سے وہ کوزہ اسٹیج پر موجود مولانا پر اچھال دیا۔ ان کا نشانہ چوک گیا اور مولانا محفوظ رہے۔ اپنی کم عمری کے ان دو ناخوشگوار واقعات پر 80 برس سے زیادہ کی زندگی گزارنے والے سعید حسن خان کو آج بھی گہری ندامت ہے اور اس کا اظہار انھوں نے اپنی خود نوشت Across the Seas میں کیا ہے۔
یہ ایک نوجوان جہاں گرد کی داستان ہے جو باپ اور گھر سے ناتا توڑ کر پاکستان کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ راستہ میں ریل کی پٹریوں کے کنارے مذہبی جنون میں ہلاک کیے جانے والوں کی لاشیں دیکھتا جاتا ہے اور لٹے پٹے مسافروں کے وہ قافلے جو ایک دوسرے سے مخالف سمت میں رواں ہیں۔ لاہورپہنچ کر ان کی زندگی میں پطرس بخاری داخل ہوتے ہیں جو گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ہیں اور ان کی خراب تعلیمی سند کے باوجود انھیں کالج میں داخل کرلیتے ہیں۔
سعید حسن شہر کی سیر کرنے کے لیے ایک سائیکل خرید لیتے ہیں۔ اور اس کے بعد سے آج تک وہ سفر میں ہیں۔ سمندر کا سفر 1961 میں کراچی کی بندرگاہ سے شروع ہوتا ہے۔جہاز پر ان کی ملاقات مسز نذر سجاد حیدر اور قرۃ العین حیدر سے ہوتی ہے۔وہ بھی اسی جہاز سے لندن جارہی ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جسے قرۃ العین حیدر نے پاکستانی شہریت ترک کرنے اور دوبارہ ہندوستانی شہریت اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد کیا تھا۔ اس فیصلے کا سبب ان کا شہرۂ آفاق ناول 'آگ کا دریا' تھاجس نے پاکستان میں ہنگامہ مچا دیا تھا۔
1961 میںشروع ہونے والے اس سفر کا آج تک انت نہیں ہوا۔اور سعید صاحب ابھی تک سفر میں ہیں۔ ان کے یہ سفر انگلستان سے یورپ' جاپان ' ویتنام اور دنیا کے مختلف شہروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے بھائی چونکہ کراچی میں رہے' اسی لیے وہ بار بار پلٹ کر اس شہر میں آئے جہاں ہائوسنگ سوسائٹی میں بنا ہوا ایک وسیع گھر ان کے لیے جائے پناہ ہے۔ اس گھر کے دروازے ان کی موجودگی اور غیر موجودگی میں بھی ان کے دوستوں کے لیے کھلے ہوئے رہتے ہیں۔ دنیا کے کئی براعظموں سے آنے والی خواتین اور مرد دنوں اور ہفتوں اس گھر میں ٹھہرتے ہیں۔ ان کے اسی گھر کے بارے میں بی بی سی کے ڈیوڈ پیج کا کہنا ہے کہ یہ بریلی انٹرکانٹی نینٹل ہے۔
بریلی کے سعید حسن خان اپنے قریبی حلقۂ احباب میں' نو اب صاحب' کہلاتے ہیں۔ زندگی بھی انھوں نے نوابوں جیسی گزاری۔ نہ کبھی ملازمت کی اور نہ شادی کے جھمیلے میں پڑے۔ کبھی بھی روپوں کی ضرورت ہوئی تو والد کو تار بھیجا اور اس مشکل سے نکل گئے۔ پہلے والد اور پھر بھائی ان کے حصے کی خاندانی جائیداد کا حصہ انھیں لندن یا ویانا بھیجتے رہے۔ اگر کبھی ہاتھ تنگ ہوا تو یہ فوراً کان پر رکھ کر قلم نکلے اور انگلستان اور امریکا کے کسی اخبار کے لیے مضامین لکھ دیے۔ لندن میں ایک برٹش ڈاکومینٹری فلم Jewel of the Crown بنی تو اس کے لیے وہ مشیر رہے اور تحریری طور پر بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ انھوں نے لکھنے لکھانے کا آغاز 'پاکستان ٹائمز' سے کیا تھا۔ اب موڈ ہو تو 'ڈان' کے لیے کرٹ جیکبسن کے ساتھ شراکت میں لکھتے ہیں۔
شہرۂ آفاق' بھوانی جنکشن' کی فلم بندی ہونے والی تھی اس میں ایک مظاہرے کے مناظر فلم بند ہوئے تھے۔ سعید صاحب نے اس مظاہرے کا انتظام کیا۔وہ خوش ہوکر لکھتے ہیں اور یہ اعزاز میرے حصے میں آیا کہ میں نے بھوانی جنکشن کی ہیروئن آواگارڈنر سے ہاتھ ملایا۔ آج کی نسل یہ اندازہ نہیں کرسکتی کہ آواگارڈنر سے ہاتھ ملانا سعید صاحب کی نسل کے لیے ایک ناقابل فراموش واقعہ تھا۔ میں سعید بھائی سے پوچھنا بھول گئی کہ اس کے بعد انھوں نے کتنے دنوں تک ہاتھ نہیں دھویا تھا۔وہ صدر پاکستان اسکندر مرزا کی بیگم ناہید اسکندر مرزا سے آواگارڈنر کی دوستی کا ذکر کرتے ہیں۔
برسوں بعد لندن میں ان دونوں سہیلیوں کے فلیٹ پر ہمیں اس خاتون کی بھی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے جو ایتھل اور جولیس روزن برگ کی رشتہ دار تھی۔ سرد جنگ کے مقتولین میں سے ایک یہ روزن برگ جوڑا بھی تھا جسے امریکیوں نے سزائے موت دی اور جس پر فیض صاحب نے اپنی مشہور نظم' ہم جوتاریک راہوں میں میں مارے گئے' دار کی خشک ٹہنی پر وارے گئے' لکھی تھی۔وہ اس الم ناک واقعے کا بھی ذکر کرتے ہیں جب سول ایند ملٹری گزٹ میں چھپنے والی ایک خبر جس کی اگلے دن تردید بھی کردی گئی تھی' اس کے خلاف ملک کے 16 بڑے اخبارات نے ایک مشترک اداریہ شایع کیا۔
سعید صاحب اس بات پر صدمے کا اظہار کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک پاکستان ٹائمز کے اس وقت کے مدیر فیض صاحب بھی تھے۔ اس بات کو بنیاد بناکر سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی۔ وہ بجا طور پر لکھتے ہیں کہ یوں پاکستان میں سنسر شپ کی بنیاد رکھی گئی۔
وہ دس برس کی عمر سے بھی پہلے مسلم لیگ کے سحر میں اسیر ہوئے تھے اور ایک خواب کے تعاقب میں اپنے ماں 'باپ اور جنم بھومی کو چھوڑ کر پاکستان آگئے تھے۔ انھیں آج تک اپنے اس دھندلائے ہوئے خواب سے محبت ہے۔ انھوں نے 1961 میں انگلستان اور پھر یورپ کا رخ کیا۔ زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان سے باہر گزارا۔خاندان کے لوگوں اور دوستوں سے ملنے کے لیے بار بار ہندوستان جاتے رہے اور پھر کراچی پلٹتے رہے۔ اس مصرعے کی تصویر بنے ہوئے کہ' آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں' شاید کراچی آج بھی ان کا نشیمن ہے۔
سعید صاحب کو اپنے خواب سے محبت ہے۔ 47 سے 1956 تک وہ سیاست میں سرگرم رہے۔ 58 میں مارشل لاء کے بعد جو حالات ہوئے اس کے بعد انھوں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود 20 برس تک لاہور میں ریس کورس روڈ کا گھر ان کی تحویل میں رہااور لاہور میں وہ ان کا پتا رہا اور اس کے دروازے ان کے غیر ملکی دوستوں کے لیے کھلے رہے۔1961 میں وہ انگلستان روانہ ہوئے تھے تاکہ قانون کی تعلیم حاصل کرسکیں اور یہیں سے ان کی زندگی کا رخ بدل گیا اور وہ ہندوستانی یا پاکستانی کے بجائے دنیا کے شہری ہوگئے۔
ان کی یہ داستان واقعات کا ایک ایسا صندوق ہے جس میںیادوں کی کترنیں ہیں۔ ان ہی میں سے ایک حسن ناصر کے خون سے تر بتر ہے۔ انھوں نے ایک پولیس افسر حسن مصطفی کے بارے میں لکھا ہے جو شاہی قلعے میں قید سیاسی قیدیوں کے معاملات کی نگرانی پر مامور تھااور اس افسر کی ایک گفتگو لکھی ہے جو اس رات کی ہے جب حسن ناصر بد ترین تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ حسن مصطفی کا اصرار تھا کہ اس تشدد اور قتل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ اس روز میں عدالت میں موجود تھا جب جج نے حسن ناصر کی قبر کشائی کا حکم دیا۔ متعلقہ پولیس افسر نے جج کو جواب دیا کہ حسن ناصر چونکہ کمیونسٹ اور کافر تھا اس کے لیے خدا کا حکم تھا کہ اس کی لاش کی بے حرمتی کی جائے یہ بیان سن کر وہ سناٹے میں رہ گئے تھے۔ لکھتے ہیں کہ شاید یہی وجہ تھی کہ حسن ناصر کی والدہ کو ان کی ٹوٹی پھوٹی لاش نہیں دکھائی جاسکتی تھی چنانچہ کسی لاوارث قیدی کی لاش ان کے سامنے رکھ دی گئی جسے انھوں نے اپنے بیٹے کی باقیات تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور خالی ہاتھ ہندوستان واپس لوٹ گئیں۔ (جاری ہے)
صاحبزادے کا یہ عالم کہ 8 برس کی عمر میں جب رفیع احمد قدوائی' ان کے گھر مہمان ہوئے تو انھوں نے قدوائی صاحب سے ہاتھ ملانے سے یہ کہہ کر انکارکردیا کہ یہ صاحب کانگریسی ہیں' میں ان سے ہاتھ نہیں ملاسکتا۔ چند برس بعد قدوائی صاحب جب دوسرے کانگریسی رہنمائوں کے ساتھ گرفتار ہو کر بریلی سینٹرل جیل میں رکھے گئے تو انھوں نے اپنے عزیز دوست کو پیغام بھجوایا کہ وہ جیل کا نہیں' ان کے خاص باورچی عزیز ابا کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھائیں گے۔کھانا روزانہ بریلی سینٹرل جیل بھجوایا جاتا اور وہ صرف قدوائی صاحب کے لیے نہیں درجن بھر دوسرے کانگریسی قیدیوں کے لیے بھی ہوتا۔
کھانا پہنچانے کی ذمے داری اسی نوجوان کی تھی جو چند برس پہلے کانگریسی قدوائی سے ہاتھ ملانے کا روادار نہیں ہوا تھا۔ یہ لڑکا جس کا نام سعید حسن خان تھا' اس نے اپنا سیاسی قبلہ تبدیل نہیں کیا تھا لیکن جیل کھانا پہنچا نا اس کی قدیم خاندانی روایات کا ایک جزو تھا۔ ان ہی دنوں جب مشہور اور جید دیو بندی عالم مولانا حسین احمد مدنی بریلی میں جلسے سے خطاب کررہے تھے تو چند پُر جوش مسلم لیگیوں نے سعید خان کے سپرد غلاظت سے بھرا مٹی کا ایک کوزہ کیا کہ اسے مولانا پر اچھال دو۔
مولانا مدنی کا قصور یہ تھا کہ وہ قوم پرست تھے اور کانگریس سے وابستہ تھے۔ سعید حسن نے نہایت تابعداری سے وہ کوزہ اسٹیج پر موجود مولانا پر اچھال دیا۔ ان کا نشانہ چوک گیا اور مولانا محفوظ رہے۔ اپنی کم عمری کے ان دو ناخوشگوار واقعات پر 80 برس سے زیادہ کی زندگی گزارنے والے سعید حسن خان کو آج بھی گہری ندامت ہے اور اس کا اظہار انھوں نے اپنی خود نوشت Across the Seas میں کیا ہے۔
یہ ایک نوجوان جہاں گرد کی داستان ہے جو باپ اور گھر سے ناتا توڑ کر پاکستان کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ راستہ میں ریل کی پٹریوں کے کنارے مذہبی جنون میں ہلاک کیے جانے والوں کی لاشیں دیکھتا جاتا ہے اور لٹے پٹے مسافروں کے وہ قافلے جو ایک دوسرے سے مخالف سمت میں رواں ہیں۔ لاہورپہنچ کر ان کی زندگی میں پطرس بخاری داخل ہوتے ہیں جو گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ہیں اور ان کی خراب تعلیمی سند کے باوجود انھیں کالج میں داخل کرلیتے ہیں۔
سعید حسن شہر کی سیر کرنے کے لیے ایک سائیکل خرید لیتے ہیں۔ اور اس کے بعد سے آج تک وہ سفر میں ہیں۔ سمندر کا سفر 1961 میں کراچی کی بندرگاہ سے شروع ہوتا ہے۔جہاز پر ان کی ملاقات مسز نذر سجاد حیدر اور قرۃ العین حیدر سے ہوتی ہے۔وہ بھی اسی جہاز سے لندن جارہی ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جسے قرۃ العین حیدر نے پاکستانی شہریت ترک کرنے اور دوبارہ ہندوستانی شہریت اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد کیا تھا۔ اس فیصلے کا سبب ان کا شہرۂ آفاق ناول 'آگ کا دریا' تھاجس نے پاکستان میں ہنگامہ مچا دیا تھا۔
1961 میںشروع ہونے والے اس سفر کا آج تک انت نہیں ہوا۔اور سعید صاحب ابھی تک سفر میں ہیں۔ ان کے یہ سفر انگلستان سے یورپ' جاپان ' ویتنام اور دنیا کے مختلف شہروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے بھائی چونکہ کراچی میں رہے' اسی لیے وہ بار بار پلٹ کر اس شہر میں آئے جہاں ہائوسنگ سوسائٹی میں بنا ہوا ایک وسیع گھر ان کے لیے جائے پناہ ہے۔ اس گھر کے دروازے ان کی موجودگی اور غیر موجودگی میں بھی ان کے دوستوں کے لیے کھلے ہوئے رہتے ہیں۔ دنیا کے کئی براعظموں سے آنے والی خواتین اور مرد دنوں اور ہفتوں اس گھر میں ٹھہرتے ہیں۔ ان کے اسی گھر کے بارے میں بی بی سی کے ڈیوڈ پیج کا کہنا ہے کہ یہ بریلی انٹرکانٹی نینٹل ہے۔
بریلی کے سعید حسن خان اپنے قریبی حلقۂ احباب میں' نو اب صاحب' کہلاتے ہیں۔ زندگی بھی انھوں نے نوابوں جیسی گزاری۔ نہ کبھی ملازمت کی اور نہ شادی کے جھمیلے میں پڑے۔ کبھی بھی روپوں کی ضرورت ہوئی تو والد کو تار بھیجا اور اس مشکل سے نکل گئے۔ پہلے والد اور پھر بھائی ان کے حصے کی خاندانی جائیداد کا حصہ انھیں لندن یا ویانا بھیجتے رہے۔ اگر کبھی ہاتھ تنگ ہوا تو یہ فوراً کان پر رکھ کر قلم نکلے اور انگلستان اور امریکا کے کسی اخبار کے لیے مضامین لکھ دیے۔ لندن میں ایک برٹش ڈاکومینٹری فلم Jewel of the Crown بنی تو اس کے لیے وہ مشیر رہے اور تحریری طور پر بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ انھوں نے لکھنے لکھانے کا آغاز 'پاکستان ٹائمز' سے کیا تھا۔ اب موڈ ہو تو 'ڈان' کے لیے کرٹ جیکبسن کے ساتھ شراکت میں لکھتے ہیں۔
شہرۂ آفاق' بھوانی جنکشن' کی فلم بندی ہونے والی تھی اس میں ایک مظاہرے کے مناظر فلم بند ہوئے تھے۔ سعید صاحب نے اس مظاہرے کا انتظام کیا۔وہ خوش ہوکر لکھتے ہیں اور یہ اعزاز میرے حصے میں آیا کہ میں نے بھوانی جنکشن کی ہیروئن آواگارڈنر سے ہاتھ ملایا۔ آج کی نسل یہ اندازہ نہیں کرسکتی کہ آواگارڈنر سے ہاتھ ملانا سعید صاحب کی نسل کے لیے ایک ناقابل فراموش واقعہ تھا۔ میں سعید بھائی سے پوچھنا بھول گئی کہ اس کے بعد انھوں نے کتنے دنوں تک ہاتھ نہیں دھویا تھا۔وہ صدر پاکستان اسکندر مرزا کی بیگم ناہید اسکندر مرزا سے آواگارڈنر کی دوستی کا ذکر کرتے ہیں۔
برسوں بعد لندن میں ان دونوں سہیلیوں کے فلیٹ پر ہمیں اس خاتون کی بھی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے جو ایتھل اور جولیس روزن برگ کی رشتہ دار تھی۔ سرد جنگ کے مقتولین میں سے ایک یہ روزن برگ جوڑا بھی تھا جسے امریکیوں نے سزائے موت دی اور جس پر فیض صاحب نے اپنی مشہور نظم' ہم جوتاریک راہوں میں میں مارے گئے' دار کی خشک ٹہنی پر وارے گئے' لکھی تھی۔وہ اس الم ناک واقعے کا بھی ذکر کرتے ہیں جب سول ایند ملٹری گزٹ میں چھپنے والی ایک خبر جس کی اگلے دن تردید بھی کردی گئی تھی' اس کے خلاف ملک کے 16 بڑے اخبارات نے ایک مشترک اداریہ شایع کیا۔
سعید صاحب اس بات پر صدمے کا اظہار کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک پاکستان ٹائمز کے اس وقت کے مدیر فیض صاحب بھی تھے۔ اس بات کو بنیاد بناکر سول اینڈ ملٹری گزٹ کی اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی۔ وہ بجا طور پر لکھتے ہیں کہ یوں پاکستان میں سنسر شپ کی بنیاد رکھی گئی۔
وہ دس برس کی عمر سے بھی پہلے مسلم لیگ کے سحر میں اسیر ہوئے تھے اور ایک خواب کے تعاقب میں اپنے ماں 'باپ اور جنم بھومی کو چھوڑ کر پاکستان آگئے تھے۔ انھیں آج تک اپنے اس دھندلائے ہوئے خواب سے محبت ہے۔ انھوں نے 1961 میں انگلستان اور پھر یورپ کا رخ کیا۔ زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان سے باہر گزارا۔خاندان کے لوگوں اور دوستوں سے ملنے کے لیے بار بار ہندوستان جاتے رہے اور پھر کراچی پلٹتے رہے۔ اس مصرعے کی تصویر بنے ہوئے کہ' آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں' شاید کراچی آج بھی ان کا نشیمن ہے۔
سعید صاحب کو اپنے خواب سے محبت ہے۔ 47 سے 1956 تک وہ سیاست میں سرگرم رہے۔ 58 میں مارشل لاء کے بعد جو حالات ہوئے اس کے بعد انھوں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود 20 برس تک لاہور میں ریس کورس روڈ کا گھر ان کی تحویل میں رہااور لاہور میں وہ ان کا پتا رہا اور اس کے دروازے ان کے غیر ملکی دوستوں کے لیے کھلے رہے۔1961 میں وہ انگلستان روانہ ہوئے تھے تاکہ قانون کی تعلیم حاصل کرسکیں اور یہیں سے ان کی زندگی کا رخ بدل گیا اور وہ ہندوستانی یا پاکستانی کے بجائے دنیا کے شہری ہوگئے۔
ان کی یہ داستان واقعات کا ایک ایسا صندوق ہے جس میںیادوں کی کترنیں ہیں۔ ان ہی میں سے ایک حسن ناصر کے خون سے تر بتر ہے۔ انھوں نے ایک پولیس افسر حسن مصطفی کے بارے میں لکھا ہے جو شاہی قلعے میں قید سیاسی قیدیوں کے معاملات کی نگرانی پر مامور تھااور اس افسر کی ایک گفتگو لکھی ہے جو اس رات کی ہے جب حسن ناصر بد ترین تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ حسن مصطفی کا اصرار تھا کہ اس تشدد اور قتل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ اس روز میں عدالت میں موجود تھا جب جج نے حسن ناصر کی قبر کشائی کا حکم دیا۔ متعلقہ پولیس افسر نے جج کو جواب دیا کہ حسن ناصر چونکہ کمیونسٹ اور کافر تھا اس کے لیے خدا کا حکم تھا کہ اس کی لاش کی بے حرمتی کی جائے یہ بیان سن کر وہ سناٹے میں رہ گئے تھے۔ لکھتے ہیں کہ شاید یہی وجہ تھی کہ حسن ناصر کی والدہ کو ان کی ٹوٹی پھوٹی لاش نہیں دکھائی جاسکتی تھی چنانچہ کسی لاوارث قیدی کی لاش ان کے سامنے رکھ دی گئی جسے انھوں نے اپنے بیٹے کی باقیات تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور خالی ہاتھ ہندوستان واپس لوٹ گئیں۔ (جاری ہے)