نصاب اور صوبائی خود مختاری

نصاب کو وفاق کے حوالے کرنے کی کوشش پھر شروع ہوگئی ہے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan July 08, 2014
[email protected]

نصاب کو وفاق کے حوالے کرنے کی کوشش پھر شروع ہوگئی ہے۔ وزیر تعلیم و تربیت بلیغ الرحمٰن نے قومی نصاب کونسل بنانے کی تجویز وزارتِ تعلیم کے اجلاس میں پیش کی مگر سندھ اور خیبر پختون خوا کی مخالفت کی بناء پر یہ معاملہ مؤخر ہوا۔ خیبر پختون خوا کی تجویز ہے کہ قومی نصاب کونسل کے بجائے مشاورتی کونسل قائم کی جائے۔

سندھ حکومت کی تجویز ہے کہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے رکھا جائے۔ جب 2 سال قبل آئین میں 18ویں ترمیم کی گئی تھی تو تعلیم کو صوبوں کے حوالے کردیا گیا تھا، یوں اب نصاب کی تیاری صوبوں کی ذمے داری قرار پائی مگر 18 ویں ترمیم کی منظوری کے ساتھ ہی نصاب کو صوبوں سے چھین کر وفاق کے حوالے کرنے کی مہم شروع ہوگئی تھی۔ اس مہم میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے اراکین شامل تھے۔ اس وقت کے وزیر تعلیم سردار آصف علی بھی اس مہم میں شریک تھے۔

نصاب کا معاملہ ریاست کے انداز نظر اور بیانیہNarrative سے منسلک ہے۔ ملک کی تاریخ میں ہمیشہ وفاق نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی کی سطح تک کا نصاب تیارکیا۔ اس نصاب نے انتہاپسندی، جنونیت اور غیر جمہوری سوچ کو تقویت دی۔ پاکستان جب قائم ہوا تو یہ چار صوبوں پر مشتمل تھا اور بلوچستان کو مکمل صوبے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔ مگر اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان اور تین صوبوں کی تاریخی ثقافت کو نصاب میں نظر انداز کیا گیا۔ حتیٰ کہ قائد اعظم کی انسانی حقوق کی بالادستی،خاص طور پرآزادئ صحافت اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد کو بھی یکسر طور پر فراموش کردیا گیا۔

جب فوج نے 1958ء میں اقتدار پر قبضہ کیا تو جنرل ایوب خان نے بالغ رائے دہی کے اصول کے بجائے محدود ووٹ کا حق دے کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے اور اپنے اختیارات کو تحفظ دے کر 1962ء کا آئین جب نافذ کیا تو مختلف جماعتوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں جنرل ایوب خان کے اس آئین کی خوبیاں بیان کی گئیں۔ اس کے ساتھ سب سے بڑے صوبے مشرقی پاکستان کی ثقافت اور زبان کو پسِ پشت ڈال کر مشرقی اور مغربی پاکستان میں خلیج پیدا کی گئی۔

پڑوسی ملک بھارت اور اس کے رہنماؤں کے بارے میں ایسے ایسے خیالات نصاب میں شامل کیے گئے کہ نئی نسل کے ذہنوں میں نفرت کے علاوہ کوئی اور سوچ پیدا نہ ہوسکی۔ 1965 کی جنگ میں فوج کی کامیابی کے بارے میں ایسے مضامین شامل کیے گئے کہ نوجوان فوج کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے لگے جس کا نقصان یہ ہوا کہ عوام کی اکثریت 1971کی جنگ کے ممکنہ مضمرات کا اندازہ نہ لگاسکی اور عوام کے لیے 16 دسمبر 1971 کو ریس کورس گراؤنڈ ڈھاکہ سے آنے والی خبر ناقابلِ یقین تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل اے کے نیازی کی کمان میں 80 ہزار فوجی ہتھیار ڈال کر بھارت کی قید میں چلے گئے اور قائد اعظم کا پاکستان بٹ گیا۔

پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں تمام سیاستدانوں نے متفقہ طور پر 1973 کا آئین تیارکیا۔ اس دور میں تعلیم، صحت، صنعت اور بینکاری وغیرہ کے شعبوں میں اصلاحات کی گئیں۔ مزدوروں کے حقوق اور کسانوں کے تحفظ کے لیے زرعی اصلاحات بھی ہوئیں مگر یہ سب کچھ نصاب کی زینت نہیں بن سکا۔ جنرل ضیاء الحق کا دورِ اقتدار نصاب کے حوالے سے ہولناک دور تھا۔ اس میں اردو، انگریزی، تاریخ اور معاشرتی علوم کے علاوہ اسلامات اور سائنس کے مضامین کے نصاب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اردو کے نصاب میں میر تقی میر اور مرزا غالب کے بعض اشعار کو فحاشی کے زمرے میں ڈال کر نصاب سے خارج کیا گیا۔ اکبر الہٰ آبادی کی رجعت پسند نظموں کو ،جن میں خواتین کی تعلیم اور روزگار کے حصول کی کوششوں اور سائنسی طریقہ کار کا مذاق اڑایا گیا تھا اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں شامل کیا گیا۔ یوں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے ذہنوں میں دہرے معیار کے تصور کو مضبوط کیا گیا۔ اس دور میں مختلف فرقوں کے نظریات کو اسلامیات کے نصاب میں شامل کیا گیا جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ یونیورسٹیوں کے اسلامیات کے شعبے شیعہ اسلامیات اور سنی اسلامیات میں تقسیم ہوگئے۔

اسی طرح مذہبی تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نسل کو ابتدائی سطح سے ہی فرقہ پرستی میں جکڑ دیا گیا۔ سائنس کے تمام مضامین میں سائنسی طرزِ فکر کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس نصاب سے استفادہ کرنے والی کئی نسلیں جب عملی زندگی میں آئیں تو کچھ تو دولت کمانے لگ گئے مگر کچھ مذہبی انتہاپسندوں کے جہاد پھیلانے کے نظریے سے متاثر ہوئے، یوں بہت سے معصوم نوجوان افغانستان میں سوویت یونین کے خاتمے کے لیے جہا دمیں لگ گئے۔ ان جہادیوں میں ڈاکٹروں، انجینئروں اور کمپیوٹر کے ماہرین کی شمولیت سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ لوگ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کی بناء پر انتہاپسندوں کے دائرے میں آئے۔

اس کے ساتھ ہی افغانستان سے فارغ ہونے والے یہ نوجوان بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں جہاد کرنے میں مصروف ہوگئے۔ جب یہ لوگ افغانستان اور کشمیر سے فارغ ہوئے تو ملک میںمصروف ہوگئے۔ نائن الیون کے واقعے کے بعد سماجی سائنسدانوں نے اس کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ تعلیم یافتہ نوجوان تعلیمی اداروں میں ان انتہاپسندوں کے نرغے میں آئے، یوں جنرل پرویز مشرف کو نصاب کی خامیوں کا علم ہوا۔ پہلی دفعہ سرکاری سطح پر نصاب کی خامیوں کو محسوس کیا گیا مگر نصاب کی تبدیلی کی کوششوں کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت وفاق سے ہوئی۔

بعض سیاست دان نصاب میں تبدیلیوں کے خلاف رجعت پسند قوتوں کے آلہ کار بن گئے، ملک میں جنون کی ایک خاص سطح برقرار رہی۔ صوبائی خود مختاری کوآئینی تحفظ ملا تو صوبوں کے پاس تعلیم کا شعبہ آیا اور تعلیم کے ساتھ نصاب بھی صوبائی مسئلہ قرار پایا ۔اب نصاب میں تبدیلی کا عمل شروع ہوا۔ سندھ اور خیبر پختون خوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے نصاب میں نوآبادی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے رہنماؤں، جمہوریت کی اہمیت اور عوامی حقوق کے لیے زندگی وقف کرنے والے رہنماؤں، شاعروں، ادیبوں اور سماجی کارکنوں کے کارناموں کو نصاب کا حصہ بنایا گیا۔

غیر مسلم پاکستانی شہریوں کے عقائد کو مجروح کرنے والے مواد اور پڑوسی ملک کے خلاف نفرت پیدا کرنے والے مواد کی نشاندہی کی گئی مگر یہ نظرِثانی کا کام ابھی پہلی سے پانچویں جماعت کے نصاب تک کا ہوا، ابھی سیکنڈری، انٹرمیڈیٹ ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر پڑھائے جانے والے نصاب کا معاملہ ہنوز التواء کا شکار ہے۔

اردوکے نصاب پر نظرثانی کی گی ہے مگر ماہرین کے تیارکردہ نصاب پرعمل درآمد روک دیا گیا۔ پنجاب نصاب کونسل کے رکن پروفیسر انجم جے پال کا کہنا ہے کہ ان کی کوششوں سے پنجاب کے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں اقلیتوں کے خلاف شایع ہونے والا مواد حذف ہوا اور اقلیتوں کا تحریکِ پاکستان میں کردار اجاگر کیا گیا۔ یہ وفاق کی سطح پر ممکن نہیں تھا؟وفاقیت کے امور کے ماہر ڈاکٹر جعفر کا کہنا ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں جہاں وفاقی طرزِ حکومت پایا جاتا ہے تعلیم صوبوں ہی کے دائرئہ اختیار میں آتی ہے۔

قیامِ پاکستان سے قبل غیر منقسم ہندوستان میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935میں بھی تعلیم کو صوبوں کی ذمے داری ٹھہرایا گیا تھا۔ معروف مؤرخ اور استاد ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ تعلیم صوبائی معاملہ ہے اور نصاب کی تیاری کا فریضہ صوبوں کو انجام دینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر صوبے کی ثقافت اور تاریخی پس منظر مختلف ہے اسی بناء پر ہر صوبے کے ماہرین نصاب کے ذریعے اپنے صوبے کی ثقافت کو نئی نسل کو منتقل کرسکتے ہیں اور طلبہ کو صوبے کی تاریخ سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

مگر جب صوبے نصاب تیار کریں گے تو وہ روشن خیالی، جمہوری اصولوں، برداشت اور مذہبی آہنگی کے مطابق ہوگا۔ وفاق کے بنائے ہوئے نصاب نے انتہاپسندی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ جمہوریت پر یقین رکھنے والے اس بات کی امید کرتے ہیں کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک سندھ کے مؤقف کی حمایت کریں گے۔ آپریشن ضربِ عضب انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ہورہا ہے مگر جب تک ریاست کا Narrative تبدیل نہیں ہوگا اس آپریشن کے دور رس نتائج برآمد نہیں ہونگے۔

مقبول خبریں