ہم گرتے اور بکھرتے جا رہے ہیں

میری غریبی صحت‘ بیماری اور اس نوع کے زندگی کے دوسرے پہلو عارضی مرحلے ہیں جو آتے جاتے رہتے ہیں۔

Abdulqhasan@hotmail.com

میری غریبی صحت' بیماری اور اس نوع کے زندگی کے دوسرے پہلو عارضی مرحلے ہیں جو آتے جاتے رہتے ہیں۔ میں آپ کو مشہور لوگوں کی کتنی ہی مثالیں دے سکتا ہوں جو کل دو وقت کی روٹی کے محتاج تھے اور آج نہ جانے کتنے ان کے محتاج ہیں اور خود ان کا شمار دولت مند لوگوں میں ہوتا ہے یہی وہ حالت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس کی آزمائش سے گزارتا ہے۔

قطع نظر اس کے کہ میں کس خاندان سے تعلق رکھتا تھا لیکن جب صرف اپنی ہمت پر لاہور آیا تو پہلی ملازمت میں میری تنخواہ ایک سو بیس روپے ماہوار مقرر کی گئی اب وہی میں ہوں اور میرے گھر میں کتنے ہی ملازم آج مجھ سے بہتر تنخواہ اور ماحول میں رہتے ہیں اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے اس ایک سو بیس روپے والے ان ہاتھوں میں اتنے لوگوں کا رزق رکھا ہوا ہے۔ یہ سب دنیا کے عارضی تماشے ہیں لیکن جن اوصاف سے کوئی قوم بنتی ہے اور جنھیں کسی قوم کی علامت روایت اور تعارف سمجھا جاتا ہے اگر ان اوصاف کو نقصان ہو تو یوں سمجھیے کہ یہ وہ قومی نقصان ہے جو بڑی ہی مشکل سے پورا ہوتا ہے یا نہیں بھی ہوتا۔

آج ٹیلی وژن کے پروگراموں میں برسرعام پوری قوم کے سامنے بڑے معززین کے درمیان ہاتھا پائی ہوتی ہے یعنی کسی سیاسی بحث کے دوران اور بعض اوقات پروگرام کرنے والا بھی شرما کر پروگرام بند کر دیتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے ان معززین پر جو برسرعام ایسی حرکت کرتے ہیں بلکہ معافی چاہتا ہوں کہ میں نے ایسے لوگوں کو معزز لکھ دیا ہے جو کسی صورت بھی معزز نہیں ہیں پتہ نہیں کیا ہیں۔ یاد آتا ہے کہ کسی الیکشن میں مرحوم ملک غلام نبی اور مخدوم جاوید ہاشمی کے درمیان مقابلہ تھا۔

انتخابی مہم کے دوران جاوید ہاشمی نے اپنے حامیوں اور کارکنوں کو ہدایت کی وہ فلاں گلی میں ہر گز نہیں جائیں گے کیونکہ وہاں ملک صاحب کی بیٹی کا گھر ہے اور انتخابی مہم میں کہیں کوئی غیر شائستہ بات نہ ہو جائے۔ یہ ہمارے ابتدائی پاکستانی سیاسی آداب اور کلچر کا ایک نمونہ تھا آج ایسی کوئی بات ہو تو مخالف کسی کی بیٹی بہن کا گھر ڈھونڈ کر اس کے سامنے نعرہ بازی کریں گے اور غیر شائستہ زبان استعمال کریں گے یہی قوم کا وہ اجتماعی کردار تھا جس پر ہم زندہ تھے۔ ایک قوم تھے۔ اور ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں عزت کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھیں۔ آج کیا ہے بات کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

کوئی دن ایسا نہیں آتا جب کہیں نہ کہیں کسی پاکستانی بچی کی عزت نہ لوٹ لی گئی ہو۔ حیرت ہے کہ حکمران صرف یہ بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ ان کے نوٹس شریف میں آ گیا ہے اور بس۔ اتنا ہی کافی ہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ بات جب گھر سے باہر نکلتی ہے تو رکتی نہیں ہے اور پھر گھر گھر پہنچ جاتی ہے اور یہ المیہ ہم دیکھ رہے ہیں اس کا کوئی حوالہ نہیں دوں گا۔


اس وقت سب سے زیادہ بے ضرر عیاشی کسی بچی کی عصمت دری ہے کیونکہ نہ پولیس اس مجرم کو پکڑتی ہے اور نہ متاثرہ خاندان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنا بدلہ لے سکے۔ بس اتنا بڑا واقعہ جس سے زمین کانپ جاتی ہے ہم انسانوں پر سے آرام کے ساتھ گزر جاتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ بچی اپنا انتقام اور بدلہ خود ہی لیتی ہے خود کشی کر کے یا آگ میں جل کر کسی بھی طریقے سے وہ اپنی یہ زندگی ختم کر لیتی ہے جس کی بربادی میں اس کا قطعاً کوئی قصور نہیں ہوتا بس وہ اپنے بھائیوں کے سر پر خاک ڈال دیتی ہے۔ وہ پاکستانی بچی اس سانحہ کے بعد جیتے جی بھی مرتی ہے اور پھر جیتے جی مر بھی جاتی ہے۔ چلو قصہ تمام ہوا اور ہماری سوسائٹی اپنی لوٹ مار میں مصروف رہی۔

ان دنوں عید کا تہوار آنے والا ہے اور رمضان آ چکا ہے پوری دنیا جس میں کفار کی دنیا سرفہرست ہے تہواروں پر اشیاء کی قیمتیں کم کر دیتی ہے۔ خبریں آ رہی ہیں کہ رمضان میں بھی اس کے احترام میں یورپ کے بازاروں میں قیمتیں کم کر دی گئی ہیں لیکن بے پناہ اور بے حد و حساب شرم کی بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بازاروں میں قیمتیں الٹا پہلے سے بڑھ گئی ہیں اور دکاندار جو زیادہ تر الحاج ہیں اپنی مسلمان قوم کو لوٹ رہے ہیں اور غالباً ایک اور حج یا عمرے کا خرچ بنا رہے ہیں صرف مسلمانوں کے ہی نہیں دنیا بھر کے مُسَلّم ماہر انسانیات اور معاشرتی امور بے مثل دانشور ابن خلدون نے کہا تھا کہ کسی کاروباری شخص اور تاجر کو اقتدار مت دو' ہم نے اور دنیا نے جب بھی ایسی حرکت کی اس نے خطا کھائی۔

امریکا جیسے سرمایہ دارانہ نظام کے مرکز میں بھی جب کاروباری حکومت میں آئے تو ایسے گھپلے کر گئے کہ قوم روتی رہ گئی۔ اس مسئلہ پر پھر بات کریں گے فی الحال ہم اپنا حال دیکھ لیں۔ ہمارا یہ حال دن بدن بگڑے گا۔ کچھ ایسی اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف جیسے اداروں کے حکم پر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیچا جا رہا ہے اور اس پر کسی پاکستانی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ سب کچھ رفتہ رفتہ سامنے آتا رہے گا اور ہم آپ کچھ نہیں کر سکیں گے صرف دیکھ سکیں گے کہ

میری دنیا لٹ رہی تھی اور میں خاموش تھا

بات قومی اخلاق اور اعلیٰ روایات سے شروع ہوئی تھی جو کاروبار تک پہنچ گئی۔
Load Next Story