اخباری کالموں کے ذریعے نوحہ گری

نصرت جاوید  منگل 15 جولائ 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

غالبؔ بے چارہ تو ’’مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‘‘ کی حسرت دل ہی میں لیے مر گیا۔ اس کے بعد آنے والے شاعر و ادیب البتہ ’’نوحہ گری‘‘ کے معاملے میں کافی خود کفیل ہو گئے۔ شروع دنوں میں اگرچہ نوحہ گری پر شاعروں کی اجارہ داری رہی۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ کی مسدس برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اجتماعی بدحالی کی ایک دل فگار داستان کی صورت ہی گلے سے لگائے رکھی۔ اقبالؔ کو ہم نے اب محض ایک زاہدِ تنگ نظر جیسا مفکر بنا رکھا ہے۔

درحقیقت وہ ایک شاعر تھا اور بے پناہ شاعر۔ اسی کی بدولت مسلمانوں میں نوحہ گری تج کر خودی میں ڈوبے شاہین کی طرح لپکنے اور جھپٹنے کی تمنا پیدا ہوئی۔ اس کے باوجود اسی اقبالؔ نے جب انجمنِ حمایت اسلام کے سالانہ مشاعرے میں طرابلس کی فاطمہ کا ذکر کیا تو بزرگ بتایا کرتے تھے لاہور کے کئی نامی گرامی معتبر افراد دھاڑیں مار مار کر رونا شروع ہو گئے۔

فیضؔ نے اپنی نجی محفلوں میں کئی بار میری موجودگی میں اصرار کیا کہ انھوں نے بلند آہنگ ہونے کے لیے میرؔ کی آہ کے بجائے سوداؔ کی واہ پر انحصار کیا اور امید پرستی کے جذبات کا اظہار اقبالؔ سے سیکھا۔ اسی فیضؔ کا ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ تھکے ہارے ترقی پسند انقلابیوں کے خون کو آج بھی کبھی کبھار گرماتا رہتا ہے۔ ان میں سے اکثر کی زندگیوں کا لیکن قریب سے مشاہدہ کریں تو ’’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘ والی دُکھ بھری داستانوں کا انبار لگ جاتا ہے۔

ہمارے نثر نگاروں نے مگر نوحہ گری سے پہلے پہل گریز کیا تھا۔ سعادت حسن منٹو نے زندگی بڑی کٹھن گزاری تھی۔ ضرورت سے کہیں زیادہ حساس بھی تھے۔ اسی لیے 1947کے فسادات کے دوران بھرپور وحشت کے ساتھ سامنے آئی درندگی کی وجہ کئی بار ہوش و حواس کھو بیٹھے۔ اپنی تحریروں میں لیکن وہ زندگی سے پیار کرنے والا صاف ستھرا انسان ہی رہے جس کی جرأت تحقیق اور ہمت انکار  حیران کن حد تک مثبت و توانا رہیں۔ نوحہ گری کا دھندا تو 1980 کی دہائی میں سامنے آنے والے چند کالم نگاروں نے شروع کیا تھا۔ ان کی نسل سے پہلے سب سے زیادہ کالم ’’فکاہیہ‘‘ ہی پڑھے جاتے تھے۔

حاجی لق لق اور مولانا چراغ حسن حسرت سے ہوتے ہوئے دور آیا مجید لاہوری اور ابن انشاء کا۔ شگفتہ تحریریں جنھیں آج بھی پڑھیں تو ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل جاتی ہے۔ 1980 تک پہنچتے ہوئے مگر ہمارے کالم نگاروں کی اکثریت ’’جہادی‘‘ ہو گئی۔ ملحد وبے دین سوویت یونین جیسی سپرطاقت سے انھیں افغانستان آزاد کروانا تھا۔ وہ اسی حوالے سے قوم کی روح کو جگانے میں یقینا کامیاب ہو گئے۔ مگر سوویت یونین کے انہدام کے بعد ’’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر‘‘ مسلم ایک نہ ہو سکے۔ 1979میں حرم کی پاسبانی تو دور کی بات ہے۔ اسے کچھ جنونیوں سے آزاد کروانا پڑا تو مدد فرانس کے کمانڈوز سے لینا پڑی۔ اب نوحے نہ لکھیں تو کیا لکھیں۔

کالم نگاروں کی نوحہ گری کو زندہ رکھنے کے لیے یہودی مذہب کے نام پر قائم ہوئے ایک نسل پرست ملک اسرائیل کی حکومتیں اور افواج اکثر وحشیانہ جنون کے مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ ان دنوں غزہ ایک بار پھر ان کے ظلم کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ ہر دوسرے منٹ مجھے SMS آ رہے ہیں۔ ان کے ذریعے غصے میں بپھرے نیک دل مسلمان میری بے حسی کی مذمت کرتے ہیں۔ انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ میں غزہ میں ہونے والے واقعات پر خاموش کیوں ہوں۔ چند ایک تو یہ بھی طے کر بیٹھے ہیں کہ صرف مردہ ضمیری ہی میری خاموشی کا باعث نہیں۔ امریکا وغیرہ سے جو ڈالر سنا ہے پاکستانی میڈیا میں میر جعفر و صادق بنانے کے لیے بانٹے گئے ہیں کیا پتہ ان میں سے کچھ مجھے بھی مل گئے ہوں۔

اپنی صفائی میں ایک کالم کیا لکھنا؟ مگر اتنی ضرور عرض کرتا ہوں کہ بچپن میں جب عید اور جمعہ کی نماز کے لیے اپنے اور محلے کے بزرگوں کے ہمراہ جاتے تھے تو نماز کے اختتام پر خطیب جو دُعا کرواتے تھے اس میں صرف کشمیر کی آزادی کے بارے میں اللہ کے حضور گریہ وزاری ہوتی تھی۔ پھر 1967 آگیا۔ عرب اسرائیل جنگ ہو گئی۔ میں اسکول کا طالب علم تھا۔ ذہن ناپختہ تھا اور جلسے جلوسوں سے پرہیز کی تربیت بھی دی گئی تھی۔ اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح مال روڈ لاہور پہنچ جاتا۔

وہاں عربوں کی حمایت میں جلوس نکلا کرتے تھے۔ اس وقت کا سب سے روح پرور نعرہ ہوا کرتا تھا: ’’ناصر یاسر یا حبیب۔ فضل فضل تل ابیب‘‘ آسان اُردو میں اس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ قدم بڑھائو صدر ناصر اور یاسر عرفات منزل ہماری تل ابیب ہے۔ اس نعرے کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے میرا حلق اکثر خشک ہو جاتا۔ مگر نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے بعد جو عید آئی اس میں خطیب صاحب نے کشمیر کی آزادی کے ساتھ بیت المقدس کو یہودیوں سے آزاد کروانے کی التجا بھی کر ڈالی۔ عرب ان دنوں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب تو کیا پہنچتے۔ صیہونی توسیع پسندوں نے پورے یروشلم کو ہتھیا کر اسے اپنا دارالخلافہ بنا دیا اور یہودیوں کو ’’اگلے برس یروشلم میں‘‘ والی دُعا مانگنے کی حاجت ہی نہ رہی۔

یاسر عرفات اور صدر ناصر بھی یک جا نہ ہو سکے۔ پھر یاسر عرفات کو بلکہ اُردن کے شاہ حسین نے بھرپور فوجی کارروائی کے ذریعے اپنے ملک سے نکال دیا۔ وہ لبنان میں پناہ گزین ہوا تو 1980کی دہائی کے آغاز میں اسرائیلی افواج نے پوری بربریت کے ساتھ صابرہ اور شتیلہ کے پناہ گزین کیمپوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ یاسر عرفات اور اس کی PLO کو بالآخر اسرائیلی سرحدوں سے کہیں دور تیونس میں پناہ لینا پڑی۔ خدارا مجھ سے یہ نہ کہلوائیے کہ شاہ حسین کو یاسر عرفات سے نجات دلوانے میں سب سے زیادہ امداد ہمارے کس ’’غازی‘‘ نے فراہم کی۔

اس کا ذکر ہوگا تو مجھے تفصیل سے آپ کو یاد یہ بھی دلانا ہو گا کہ کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرنے والے ’’میر جعفر جیسے‘‘ مصری صدر انوارالسادات کو او آئی سی میں واپس کس کی کوششوں سے لایا گیا تھا۔ بات نکلے تو پھر دور تلک چلی جاتی ہے اور یاد آ جاتا ہے حالیہ تاریخ کا وہ زمانہ بھی جب ترکی کی وساطت سے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات استوار کرنے کی ایک بہت ہی سنجیدہ کوشش ہوئی تھی۔

بجائے تاریخ پر نظر دوڑانے اور حقائق کو بیان کر کے اپنا اور آپ کا دل دُکھانے کے عرض مجھے صرف یہ کرنا ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے اور مؤثر اخبار میں اُردو کے چند کالموں کے ذریعے نوحہ گری کرتے ہوئے میرے جیسا کمزور شخص غزہ کی کربلا میں محصور ہوئے فلسطینیوں کے کوئی کام نہیں آ سکتا۔ میرے دھانسو ٹویٹ بھی اس ضمن میں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتے۔ فلسطینیوں کی مشکل فوری طور پر جو ممالک کسی نہ کسی صورت حل کر سکتے ہیں نام ہیں ان کے مصر، اُردن اور شام۔ مصر میں نام نہاد ’’عرب بہار‘‘ کے اختتام پر جنرل السیسی کی صدارت کی صورت برآمد ہوا ہے۔ وہ ان دنوں ’’اخوان المسلمون‘‘ والے ’’تخریب کاروں‘‘ کو پھانسی کی سزائیں دلوانے میں مصروف ہے۔

شام کے ’’مسلمانوں‘‘ کو بشارالاسد کی ’’کافرانہ اور ظالمانہ حکومت‘‘ سے آزاد کروانے کے لیے دُنیا بھر کے جہادی حلب کے گرد و نواح تک پہنچ چکے ہیں۔ رہا معاملہ اُردن کا تو اس کی شاہی ان دنوں اپنے قصبات میں ان خیر مقدمی نعروں اور پرچموں کی بابت بہت پریشان ہے جو ’’داعش‘‘ کی صورت میں خلافتِ اسلامیہ کے احیاء کے بارے میں نمودار ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب کا اصل مسئلہ ایران ہے اور ایران کا اصل مسئلہ عراق میں المالکی کی حکومت بچانا۔ میرے اپنے وطن میں لاکھوں بدنصیب شمالی وزیرستان سے اپنے گھر بار چھوڑ کر بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان وغیرہ میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ میں ابھی تک ان کی مدد تو کیا دلجوئی بھی نہیں کر پایا۔ غزہ میں محصور فلسطینیوں کے کیا کام آئوں گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔