اسرائیل ہر مسئلہ تشدد سے حل کرنا چاہتا ہے پاکستان اقوام متحدہ میں ریفرنس بھیجے ایکسپریس فورم

اسرائیل فلسطینیوں کو کونے میں لگانے کیلیے غزہ پرکنٹرول چاہتا ہے،پروفیسرسجاد نصیر، پاکستان واضح موقف اپنائے،امیرالعظیم

اسرائیل فلسطینیوں کو کونے میں لگانے کیلیے غزہ پرکنٹرول چاہتا ہے،پروفیسرسجاد نصیر، پاکستان واضح موقف اپنائے،امیرالعظیم فوٹو : ظہور الحق

نہتے فلسطینیوں پر جارحیت نے ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ قیادت دہشت گرد اور انتہا پسند ہے اور کسی بھی مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنے کی بجائے تشدد سے حل کرنا چاہتی ہے۔

بدقسمتی سے مسلم امہ کے باہمی تضاد نے اسرائیل کو ایسا کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ میں ریفرنس بھیجے اور جمعہ الوداع کو اس مرتبہ سرکاری طور پر یوم القدس سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے فلسطین میں حالیہ اسرائیلی جارحیت اور اسکے اثرات کے حوالے سے منعقدہ ایکسپریس فورم میں کیا۔ میزبانی کے فرائض اجمل ستار ملک نے سرانجام دیے۔ پنجاب یونیورسٹی شعبہ سیاسیات کے سابق چیئرمین پروفیسر سجاد نصیر نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کا تنازع تاریخی ہے ۔


جس میں اسرائیل نے ہمیشہ فلسطینی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیل کا مقصد غزہ کی پٹی کو اسرائیل کا انٹیگرل پارٹ بنانا ہے تاکہ غزہ پر کنٹرول حاصل کرکے فلسطینیوں کو کونے میں لگادیا جائے۔ عرب ممالک نے مغربی ممالک کی ترجیحات کی تابعداری کی ہے اور خود عرب ممالک کی سوچ میں یہ بات بھی ہے کہ آیا کہ وہ عرب پہلے ہیں یا مسلمان۔ پاکستان کو بھی اپنی وائیٹل انٹریسٹ (وسیع تر مفادات )سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے یہ اچانک تو نہیں ہے تسلسل سے یہی کچھ کر رہا ہے۔ اسرائیل نے سعودی تقسیم سے فائدہ اٹھایا اور دیکھا کہ اسلامی دنیا بھی انتشار کا شکار ہے۔

جس کی وجہ سے شاید وہ رد عمل نہ ہوسکے جو اسرائیلی جارحیت سے عموماً ہوتا ہے۔ فلسطین کی صورتحال دیکھ کر ہمیں دنیا کے دہرے معیار کو بھی سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ پاکستان حکومت کو واضح موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ معروف عالم دین مولانا اجمل قادری نے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت کو اس ننگی جارحیت کا حوصلہ مسلم امہ کی حکومتوں کے باہمی تضاد کی وجہ سے ملا ہے۔ مولانا اجمل قادری کا مزید کہنا تھا کہ اس مرتبہ جمعتہ الوداع کو یوم القدس کے طور پر منایا جانا چاہیے۔ ہم اس سلسلے میں ایک دو روز میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے اکابرین کے پاس جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کے میڈیا کوآرڈینٹر محمد مہدی نے کہا کہ پاکستان پہلا ملک ہے۔

جس نے اس ایشو پر اتنی موثر آواز اٹھائی اور اس بات کو گزشتہ دنوں ایک کانفرنس میں خود فلسطنیی سفیر نے بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ خود فلسطین کی حکومت میں اتحاد کی کمی ہے حماس اور الفتح اگرچہ مل کر حکومت کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ بہت سے معاملات پر ایک پیج پر نہیں ہیںاور اسرائیل اسی بات کا بھرپورفائدہ اٹھاتا ہے۔ سیاسیات کی استاد زمرد اعوان نے کہا کہ اسرائیل کی حالیہ درند گی دراصل ظاہر کرتی ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت ایک انتہا پسند حکومت ہے جو کسی بھی مسئلے کو مذاکرات کی بجائے شدت پسندی سے حل کرنا چاہتی ہے۔
Load Next Story