جاسوسی اورڈرون حملے امریکی صدر اوباما کی مقبولیت کم ہوگئی

جاسوسی کے معاملات اور یوکرائن تنازع کی وجہ سے جرمنی اور روس میں اوباما کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے


AFP July 16, 2014
پاکستان میں7،روس15،مشرق وسطی میں 35 فیصد افراد اوباما کے اقدامات کے حامی. فوٹو: فائل

امریکی میں ایک ریسرچ گروپ نے کہا ہے کہ دنیا بھرکے شہریوں کی جاسوسی کے معاملات اور یوکرائن تنازع کی وجہ سے گزشتہ ایک سال میں جرمنی اور روس میں امریکی صدر باراک اوباماکی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کا کہناتھاکہ اس عرصے میں امریکا کی بطور ریاست مقبولیت برقرار رہی تاہم امریکا کے جاسوسی کے پروگرام اور پینٹاگان کے دوسرے ممالک میں ڈرون حملوں کے پروگرام کی دنیابھر میں مخالفت کی گئی۔پیو ریسرچ سنٹرکی جانب سے دنیاکے44ممالک میں سروے کیاگیا جس میں مجموعی طور پر56 فیصدلوگوں نے صدر اوباماکے اقدامات کی حمایت کی جو گزشتہ سال سے کم ہے۔اس سروے میں44ممالک کے48ہزار643 نوجوان افراد نے حصہ لیا۔ صدراوباماکومشرق وسطی کے علاوہ دیگر تمام ممالک میں مقبولیت حاصل ہے ۔

جہاں اسرائیل کے سوا تمام ممالک میں انکی مقبولیت35فیصدسے کم ہے۔سروے کے مطابق صرف 7فیصد پاکستانی صدر اوباما کے اقدامات کے حامی ہیں،یہ شرح تمام ممالک میں سب سے کم ہے۔اسرائیل میں اوباماکی مقبولیت10پوائنٹس اضافے کیساتھ اس سال71فیصد تک پہنچ گئی جبکہ چین میں صدر اوباما کی مقبولیت51فیصد ہے۔تین ممالک جرمنی، روس اور برازیل میں صدرباراک اوباما کی مقبولیت میں خاصی کمی ہوئی جسکی وجہ گزشتہ سال ان ممالک کیساتھ امریکہ کے تنازعات میں اضافہ ہونا ہے۔

پیو ریسرچ سنٹرکاکہنا تھاکہ جرمنوں کی ای میلوں،ٹیلیفون کالزکی نگرانی سے صدراوباماکی مقبولیت کو نقصان پہنچا۔جرمنی میں امریکی صدرکی مقبولیت17فیصدکمی کے بعد71فیصد ہوگئی،برازیل میں امریکی صدرکی مقبولیت69 فیصد سے 52فیصد تک گرگئی۔دوسری جانب روس میں اوباماکی مقبولیت صرف15فیصد رہ گئی ہے۔سروے رپورٹ کے مطابق 22ممالک میں لوگوں کو امریکی حکومت کے بارے میں اس یقین میں کمی ہوئی کہ امریکا شخصی آزادیوں کا احترام کرتا ہے۔ سروے میں ڈرون حملوں کوبھی شدیدتنقیدکانشانہ بنایاگیا۔ سروے کے مطابق44میں سے 37ممالک میں آدھی سے زیادہ آبادی نے ڈرون حملوںکی مخالفت کی،ان ممالک میں امریکی کے حلیف نیٹو ممالک برطانیہ، فرانس اور سپین بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں