میرا کند ذہن اور انقلابی مارچ

نصرت جاوید  جمعـء 18 جولائ 2014
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے محض نواز حکومت کا تختہ ہی نہیں اُلٹنا۔ اس ملک پر کئی برسوں سے مسلط سیاسی نظام کو انقلاب کے ذریعے بالکل بدل ڈالنا بھی ہے۔ وہ اگر اپنے ’’یومِ انقلاب‘‘ کی تاریخ ابھی تک طے نہیں کر پائے تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ جنگ جیتنے اور انقلاب برپا کرنے کے لیے Surprise ایک بہت بڑا ہتھیار ہوا کرتا ہے۔ روس میں لینن کی قیادت میں جو انقلاب برپا ہوا تھا اس کے لیے کئی دہائیوں کی جدوجہد کے بعد Cadres تیار کیے گئے تھے۔

وہ ریاستی مخبروں کو غچہ دینے کے لیے اپنے نام اور ٹھکانے مسلسل بدلتے ر ہے۔ سوائے انقلاب کی تیاری کے ان کا کوئی اور کام ہی نہیں تھا۔ لینن نے 1905ء میں What Is To Be Done  لکھ کر اپنی تنظیم کا خاکہ تیار کیا تھا۔ اس خاکے کے مطابق ’’پیشہ وارانہ انقلابیوں‘‘ کا ایک گروہ تیار کیا گیا جو تنظیم کے کل وقتی ملازم ہوا کرتے تھے۔ 1917ء میں جب ان کی تیاریاں مکمل ہو گئیں تو وہ اپنے قائدِ انقلاب کے حکم کا انتظار کرتے رہے۔ بالآخر لینن نے تنِ تنہا دن 27 دسمبر کا ’’یومِ انقلاب‘‘ طے کیا اور اس تاریخ کا تعین کرتے ہوئے یہ تاریخی فقرہ بھی کہہ ڈالا کہ 26 دسمبر ’’بہت جلدی‘‘ دِکھے گا اور 28 دسمبر ’’بہت دیر‘‘ ہو جائے گی۔

علامہ صاحب نے دن رات کی محنت ِشاقہ سے کل وقتی انقلابیوں کا ایک جتھہ تیار کر رکھا ہے۔ اس جتھے نے اپنے قائد سے وفاداری 2013ء کے انتخابات سے پہلے والے موسم سرما کے انتہائی سرد دِنوں میں پوری دُنیا کے سامنے ثابت کر دی تھی۔ ان کے قائد سردی، یخ بستہ ہوائوں اور بموں سے محفوظ ایک کنٹینر میں بیٹھے رہے مگر ان کے جانثار اسلام آباد کی سڑکوں پر موسم کی سختیاں برداشت کرتے رہے۔ چوہدری شجاعت حسین کی معاونت سے آصف علی زرداری کے دربار میں جمع ’’ظالموں‘‘ نے مگر ان کے ساتھ ہاتھ کر دیا۔

کسی زمانے میں خود کو ’’انقلابی‘‘ کہلانے والی پیپلز پارٹی کے کئی جید رہ نما انقلاب روکنے کے لیے علامہ صاحب کے کنٹینر پہنچ گئے۔ وہیں ایک معاہدہ تیارہوا جسے ایک ایسے کمپیوٹر اور پرنٹرپر تیار کیا گیا تھا جو ملک کی ایک مخیر اور زرداری کے قریب سمجھے جانے والی شخصیت نے اس کنٹینر میں عجلت سے پہنچایا تھا۔ ان آلات کے ساتھ ہی ساتھ ایک Fax بھی فراہم کی گئی تا کہ طے شدہ معاہدے کے نکات صدر اور وزیر اعظم تک ان کی رائے لینے کے لیے فی الفور پہنچائے جا سکیں۔ اپنی سادگی میں علامہ صاحب ان کھلونوں سے بہل گئے۔ بے آسرا یتیموں کی کفالت کے لیے انھیں ایک بھاری رقم بھی فراہم کر دی گئی اور وہ فاتحانہ انداز میں کینیڈا واپس لوٹ گئے۔

اب کی بار علامہ صاحب اسی سوراخ سے دوبارہ اپنی انگلیوں پر زخم لگوانے کو تیار نہیں۔ ویسے بھی چوہدری برادران بجائے انھیں غچہ دینے کے ان دنوں بڑے خلوص سے ہلا شیری دینے میں مصروف ہیں۔ ہمارے لال حویلی کے دیدہ ور انقلابی بھی اپنے گرانقدر مشوروں سے انھیں مسلسل نواز رہے ہیں۔ مسئلہ ہے تو صرف ایک اور وہ یہ کہ چوہدریوں اور شیخ صاحب کی شدید تمنا ہے کہ علامہ صاحب نواز حکومت کو ہٹانے کے لیے اسلام آباد کی طرف اکیلے مارچ نہ کریں۔ زیادہ بہتر ہے کہ علامہ صاحب 14 اگست کے دن عمران خان کے ہم رکاب ہو جائیں۔ عقلی حوالوں سے تجزیہ کریں تو چوہدریوں اور شیخ صاحب کی خواہش بہت مناسب اور Strategically زبردست نظر آتی ہے۔

پنجابی کا ایک محاورہ مگر یاد دلاتا ہے کہ سانپ جب غصے میں آ کر اپنا پھن پھیلاتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف چل پڑے تو اس کی پھنکار کے سامنے کوئی دیا جل ہی نہیں سکتا۔ انقلاب کا ویسے بھی قائد صرف ایک فرد ہوا کرتا ہے۔ روس کا انقلاب لینن کے نام ہوا۔ چینی انقلاب کے مائوزے تنگ مرتے دم تک یکتا و تنہا رہنما رہے۔ حالیہ تاریخ میں یہی صورت حال امام خمینی کے ایران میں نظر آئی۔ کپتان یا علامہ صاحب میں سے کسی ایک کو ہی قطعی اور فیصلہ کن قیادت کا حق نصیب ہو سکتا ہے۔ کپتان کسی وقتی مصلحت کے تحت بیک سیٹ پر بیٹھنے کو شاید تیار ہو جائیں۔ مگر ان کے ’’جنونی‘‘ چاہنے والے اسے گوارہ نہ کریں گے۔

نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں کچھ عرصے کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو اور علامہ طاہر القادری، مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کی کوششوں سے اپوزیشن جماعتوں کے ایک اتحاد میں یک جا ہوئے تھے۔ ہوتا مگر یہ تھا کہ جیسے ہی علامہ صاحب اس اتحاد کے کسی جلسے میں پہنچتے، ان کے کل وقتی انقلابی ’’قادری۔ قادری‘‘ کا وِرد کرتے ہوئے پوری جلسہ گاہ کو ہائی جیک کر لیتے۔ مینار ِپاکستان میں منعقد ہونے والے ایسے ہی ایک جلسے میں پیپلز پارٹی کے ازلی جیالوں کی ’’قادری۔ قادری‘‘ کا وِرد کرتے متوالوں سے ہاتھا پائی کی نوبت آ گئی تو ہوشیار محترمہ نے نوابزادہ صاحب سے خود درخواست کر کے علامہ صاحب سے پہلے خطاب کیا اور وہاں سے رخصت ہو گئیں۔ ان کا ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ یہ جلسہ آخری بھی ثابت ہوا۔

ظاہر سی بات ہے گجرات کے چوہدری اور لال حویلی کے دیدہ ور 14 اگست 2014ء کے دن قادری صاحب کے کل وقتی انقلابیوں اور عمران خان کے جنونی پرستاروں کے مابین اسلام آباد کے ہر چوک پر ہاتھا پائی ہوتی نہیں دیکھنا چاہیں گے۔ اسی لیے کوشش یہ ہو رہی ہے کہ علامہ صاحب اپنا کارواں لے کر 14 اگست سے ایک دو روز پہلے اسلام آباد آ کر براجمان ہو جائیں۔ جب ان کی سپاہ دھرنے کی طوالت سے ذرا تھکتی نظر آئیں تو پھر کپتان اپنے تازہ دم لشکر کے ساتھ یہاں آ جائیں۔ میری مصدقہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک ایسی کوئی Understanding طے نہیں ہو پا رہی۔ 14 اگست میں لیکن ابھی بہت دن باقی ہیں۔ گجرات کے چوہدری اور لال حویلی کے دیدہ ور یقینا کوئی راستہ نکال ہی لیں گے۔

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی اپنے ’’یومِ انقلاب‘‘ کے حوالے سے بنائی حکمت عملی اور ترجیحات سے قطع نظر اسلام آباد میں مقیم کئی غیر ملکی صحافی اور سفارت کار یہ نہیں جان پارہے کہ تحریک انصاف کا 14 اگست 2014ء والا ملین مارچ One Day Affair ہو گا یا اپنے اہداف کے حصول تک عمران خان اپنے ساتھیوں سمیت اسلام آباد کے D-Chowk کو قاہرہ کا التحریر اسکوائر بنائے رکھیں گے۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ایسے متجسس خواتین و حضرات نے میرے ساتھ بھی چند ملاقاتیں کی ہیں۔ میں نے انھیں صاف بتا دیا کہ ان دنوں بطور رپورٹر میں Retired Hurt والی کیفیت میں مبتلا ہوں۔

دُنیا سے اکثر کٹا گھر کے ایک کونے میں ٹی وی اور لیپ ٹاپ کے آگے بیٹھا رہتا ہوں۔ عمران خان سے میرے ذاتی تعلقات ابھی بھی بہت خوش گوار ہیں۔ مگر ان کے پالیسی سازوں تک رسائی ہرگز حاصل نہیں۔ اپنے ملاقاتیوں کو تو میں نے یہ بات نہیں کی مگر آپ کو بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ علامہ صاحب اور کپتان کے نواز ہٹائو تحریک کے حوالے سے اصل ارادوں کو سمجھنے کے لیے میں صرف اور صرف لال حویلی کے دیدہ ور کی باتیں غور سے سنا کرتا ہوں۔

وہ ’’قلم دوات والی‘‘ اپنی الگ سے شناخت برقرار رکھنے کے باوجود علامہ صاحب اور کپتان دونوں کے راز دار اور ایک حوالے سے اتالیق بھی ہیں۔ ان کی باتوں کو سنتے ہوئے مجھے شبہ ہونا شروع ہو گیا ہے کہ نواز ہٹائو تحریک کے پالیسی سازوں کے ذہن میں یہ سوچ بیٹھ گئی ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرف چل پڑے تو جی ٹی روڈ کے کسی نہ کسی مقام پر تاریخ خود کو دہرا دے گی۔ حوالہ اس ضمن میں اس ٹیلی فون کال کا دیا جا رہا ہے جو نواز شریف کو گوجرانوالہ پہنچ جانے کے بعد وصول ہوئی جس کے نتیجے میں افتخار چوہدری بحال ہو گئے اور ان کے جانثار لاہور واپس لوٹ گئے۔

ذاتی طور پر میں اس سوچ سے ہرگز اتفاق نہیں کرتا۔ نواز شریف کے مارچ کا مقصد افتخار چوہدری کو بحال کروانا تھا آصف علی زرداری یا یوسف رضا گیلانی کا استعفیٰ لینا نہیں۔ 14 اگست کی مجوزہ تحریک کا اصل ہدف تحریک انصاف والے تو اب ’’پورے الیکشن کا آڈٹ‘‘ کے نام پر ’’مڈٹرم الیکشن‘‘ بتا رہے ہیں۔ اس کے لیے عید سے پہلے قربانی تو نواز شریف کو اپنی وزارت عظمیٰ کی دینا ہو گی۔ وہ اس پر کیوں تیار ہوں گے؟ یقینا ایک مرتبہ ’’وحید کاکڑ فارمولے‘‘ کی بدولت ایسا ہو چکا ہے۔ مگر اس کے بدلے نواز شریف نے غلام اسحاق خان کا استعفیٰ بھی حاصل کیا اور نئے انتخابات کی تاریخ بھی۔ اب ان سے استعفیٰ کیا چیز ’’دے‘‘ کر لیا جا سکتا ہے؟ میرا کند ذہن اس حوالے سے ابھی تک کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔