والدہ کی چھوٹی سی غلطی کیوجہ سے پولیس قاتل کو پکڑنے میں کامیاب

مجرم کو 35 سال قید کی سزا سنائی گئی

امریکا میں یونیورسٹی کا ایک محقق  قتل کے جرم سے فرار ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا لیکن ایک چھوٹی سی غلطی اس کی گرفتاری کا باعث بن گئی۔

6 فروری 2021 کو ییل کے طالب علم، کیون جیانگ کو امریکی شہر نیو ہیون میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ منظر ایک بےمقصد روڈ حادثہ اور اشتعال انگیزی میں فائرنگ کا واقعہ لگتا تھا۔

تاہم تحقیقات سے پتہ چلا کہ قتل بےمقصد نہیں تھا بلکہ اس کے بجائے جیانگ مطلوبہ ہدف تھا جس کی وجہ سے 34 سالہ اے آئی محقق کنکسوان پین کی گرفتاری عمل میں آئی۔

قتل کی واردات کو جزوی طور پر سیکیورٹی فوٹیج پر ریکارڈ کرلیا گیا جس میں ایک سیاہ رنگ کی SUV کار جیانگ کی کار سے ٹکراتے ہوئے دیکھا گیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد ایک شخص ایس یو وی سے باہر آتا ہے اور 26 سالہ طالب علم کو گولیاں مار دیتا ہے۔

پین کی گاڑی کو قتل کے بعد اسی رات کہیں پولیس کی جانب سے روکا بھی گیا تاہم پولیس چونکہ کچھ دیر قبل ہوئے قتل سے لاعلم تھی لہٰذا اسے جانے دیا۔

جب پولیس کو قتل کا علم ہوا تو تفتیش کاروں نے اس وقت سے تانے بانے جوڑنا شروع کیے جب پین کی کار میں نظر آنے والے بیگز اگلے دن کوڑے دان میں مِلے جن میں آلہ قتل موجود تھا۔ اس کی گولیاں بھی شوٹنگ کے مقام سے ملنے والے شواہد سے ملتی پائی گئیں۔

اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ پین اس معاملے میں ایک قوی مشتبہ ملزم ہے، حکام اسے ڈھونڈتے ہوئے اس کے والدین کے گھر تک پہنچ گئے لیکن وہاں کوئی نہیں ملا۔

اُس کے والدین نے گھر سے جانے سے قبل بڑی رقم بھی اکاؤنٹ سے نکلوائی تھی اور قتل کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ جنوب کی طرف چلے گئے تھے لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ بیٹا کہاں ہے تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اس کے بعد ایسا لگتا تھا کہ پین قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائے گا لیکن پھر پین کی ماں نے ایک چھوٹی سی غلطی کردی۔

ماں نے ہوٹل کے فون کا استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے رابطہ کیا اور اس طرح تفتیش کاروں نے الاباما میں پین کی کال کو ٹریس کیا۔

بعد میں اسے حکام نے گرفتار کر لیا اور جیانگ کو قتل کرنے کے جرم کے بدلے میں 35 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
 

Load Next Story