اورنگی ٹاؤن میں فائرنگ سے نوجوان قتل، فوٹیج سامنے آگئی

ملزمان کی واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش، مقتول بلدیہ نمبر 9 کا رہائشی تھا اور فوڈ اسٹریٹ کے ہوٹل پر ملازم تھا

کراچی:

اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے نوجوان کو قتل کردیا، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، واقعہ دشمنی کا تھا مگر اسے ڈکیتی مزاحمت پر قتل کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعرات کی صبح مومن آباد تھانے کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 10 زیڈ ایم سی آفتاب پارک کے عقب میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا جس کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں مقتول نوجوان کی شناخت 26 سالہ زین ولد عبدالحمید کےنام سے کی گئی۔

مقتول بلدیہ ٹاؤن نمبر 9 کا رہائشی تھا اور بلدیہ ٹاؤن میں فوڈ اسٹریٹ میں واقع ایک ہوٹل پر ملازمت کرتا تھا۔

ایس ایچ او مومن آباد معراج  انورنے بتایا کہ مقتول چند روز قبل ہی لاہورسے کراچی آیا تھا، ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو اورنگی ٹاؤن بلا کر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، مقتول کا موبائل فون پولیس نے قبضے میں کرلیا ہے، مقتول کا موبائل فون لاک ہے جسے کھلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مقتول کے موبائل فون لاک کھلوانے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ مقتول کو آخری مرتبہ کس کی کال آئی۔

پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی اور واقعے کی مختلف پہلوؤں پر تفتیش کررہی ہے۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس دوران مقتول کی موٹر سائیکل بھی گرجاتی ہے، مسلح ملزم مقتول نوجوان کو ایک لات مارتا ہے جس کے بعد مقتول اپنی پینٹ کی جیپ سے موبائل فون نکال کر ملزم کو دیتا ہے، مقتول نوجوان موقع پا کر مسلح ملزم کو دھکا دے کر گرانے کی کوشش کرتے ہوئے خود گرجاتا ہے، ملزم پستول کے بٹ سے مقتول کو مارنا شروع کردیتا ہے اس دوران مقتول نوجوان ملزم کے ہاتھ میں موجود پستول کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے تو دونوں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں، ملزم گولی چلا دیتا ہے اس کے نتیجے میں نوجوان زخمی ہوجاتا ہے جبکہ ملزم کچھ قدم پیدل بھاگنے کے بعد اپنے ساتھی کی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر فرارہوجاتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق نوجوان موٹر سائیکل پر موجود تھا، موٹر سائیکل پر دو ملزمان آئے، ملزمان نے نوجوان سے ہاتھا پائی کی اور فائرنگ کردی، ملزمان کی پستول کا میگزین بھی جائے وقوع پر گرگیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے مقتول سے کوئی چیز چھینی نہیں گئی، ممکنہ طور پر واقعہ کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، تفتیش میں اہم شواہد ملے ہیں، واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی۔

Load Next Story