پاکستان نے آئی ایم ایف کی 23شرائط مان لیں، اسپیشل اکنامک زون کی موجودہ مراعات کی تجدید روک دی گئی

چند ریاستی اداروں کے قوانین میں ترمیم مؤخر کی گئی، چینی کی درآمد پر استثنیٰ کی وجہ سے ایک شرط پوری نہ ہو سکی، رپورٹ

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام (سی ایف ایف) کے تحت دوسرے جائزے میں زیادہ تر اہداف پورے کر لیے جبکہ قرض پروگرام کے لیے آئی ایم ایف کی 23 شرائط بھی مان لیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق زرعی آمدن پر ٹیکس اور بجٹ اصلاحات کا کامیابی سے نفاذ کیا گیا ہے تاہم چند ریاستی اداروں کے قوانین میں ترمیم موٴخر کی گئی ہے۔ چینی کی درآمد پر استثنا کی وجہ سے ایک شرط پوری نہ ہو سکی، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی کا ہدف پورا نہ ہوا۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے قرض پروگرام کے تحت دوسرے جائزے میں زیادہ تر اہداف پورے کر لیے ہیں، گورننس اور کرپشن رپورٹ تاخیر سے شائع ہوئی۔ ایف بی آر کا خالص ٹیکس ہدف بھی حاصل ہونے سے رہ گیا، 13 میں سے 8 اسٹرکچرل اصلاحات مکمل ہوئیں، زرعی آمدن پر ٹیکس اور بجٹ اصلاحات کامیابی سے لاگو کیا گیا۔

اسی طرح، سرکاری افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے قانون میں ترمیم کی گئی ہیں۔ بجلی کے شعبے میں ادائیگیوں کا ہدف پورا کیا گیا، خصوصی اقتصادی زونز ختم کرنے کا منصوبہ بعد میں مکمل ہوا۔ 7 میں سے 6 دیگر اہم اہداف مکمل حاصل کیے گئے۔

بی آئی ایس پی کا ایک ہدف معمولی فرق سے رہ گیا۔ بی آئی ایس پی کے بنیادی پروگراموں پر زیادہ فنڈز خرچ ہوئے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر اور ٹیکس ریٹرنز کے ہدف پورے ہوئے، اسٹیٹ بینک کے ڈومیسٹک اثاثوں کا ہدف بھی مکمل ہوا۔ حکومتی پرائمری خسارہ مقررہ حد میں رہا اور حکومتی ضمانتیں آئی ایم ایف حد کے اندر رہیں۔

حکومت نے بعض رہ جانے والے اہداف پر چھوٹ مانگی البتہ صحت اور تعلیم کے اخراجات کا ہدف پورا نہ ہو سکا۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی معاشی کارکردگی میں بہتری آئی، مشکل حالات اور سیلاب کے باوجود معیشت مستحکم ہوئی۔ مالی کارکردگی مضبوط، پرائمری سرپلس 1.3 فیصد رہا، پرائمری سرپلس آئی ایم ایف ہدف کے مطابق حاصل کیا گیا، سیلاب کے بعد خوراک کی قیمتوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق مہنگائی کا دباؤ عارضی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، ایک سال میں ذخائر 9.4 ارب سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر ہوگئے، آئندہ برسوں میں ذخائر مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

پاکستان نے 14 سال بعد پہلا کرنٹ اکاوٴنٹ سرپلس حاصل کیا، مضبوط پالیسیوں نے پاکستان کو حالیہ جھٹکوں سے نکالنے میں مدد دی۔ رواں سال معاشی ترقی توقع سے بہتر رہی وار حالیہ سیلاب نے اگلے سال کی معاشی رفتار کو کچھ کم کیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل بہتری جاری ہے، سیلاب کے باوجود مہنگائی قابو میں رہی۔ ای ایف ایف پروگرام درست سمت میں جاری ہے۔

آر ایس ایف پروگرام بھی مقررہ راستے پر ہے، پہلے ریویو کے اہداف پورے ہوئے۔ پاکستان کو دونوں پروگرامز کی مد میں 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی گئی، سیلاب کے بعد اصلاحات اور پالیسی تسلسل کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ مالی سال 2025-26 کا پرائمری سرپلس ہدف قابل حصول قرار دیا گیا ہے۔

محصولات بڑھانے اور قرض کم کرنے کی اصلاحات جاری ہیں۔ آئی ایم ایف نے مہنگائی کنٹرول میں رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ شاکس کو جذب کرنے کے لیے ایکسچینج ریٹ میں لچک بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔

توانائی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے پاور سیکٹر کی بہتری میں پیش رفت ہوئی، پاور سیکٹر کو مستحکم کرنے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں میں گورننس اور سرمایہ کاری ماحول کی بہتری بھی اہم قرار دے دی گئی، تجارتی اور سرمایہ کاری اصلاحات پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

آر ایس ایف اصلاحات سے سیلابی خطرات اور پانی کے انتظام میں بہتری آئے گی۔

واضع رہے کہ پاکستان کی جانب سے مانی گئیں آئی ایم ایف کی شرائط توانائی، مالیاتی، سماجی اسٹرکچرل اور کرنسی سے متعلق ہیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ شوگر سیکٹر مکمل طور پر ریگولیشن سے آزاد ہوگا جبکہ ترقیاتی اسکیموں میں کمی لائی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شرائط میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی میں پانچ فیصد اضافہ، اعلیٰ قیمت والی میٹھی اشیا پر ایکسائز ڈیوٹی متعارف کروانا شامل ہے۔

اس کے علاوہ، کرنسی کی قدر کو لچکدار رکھا جائے گا، گندم کی خریداری کے لیے وفاقی یا صوبائی امدادی قیمت مقرر کرنے سے روک دیا ہے جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے اثاثے پبلک کیے جائیں اور اسپیشل اکنامک زون کی موجودہ مراعات کی تجدید بھی روک دی گئی ہے۔

Load Next Story