ہانگ کانگ میں چین مخالف میڈیا ٹائیکون ملک دشمنی کا مجرم قرار؛ عمر قید ہوسکتی ہے

جمی لائی نے 2019 میں جموریت نواز تحریک چلائی تھی جس کی پاداش میں انھیں عمر قید بھی ہوسکتی ہے

چین مخالف اور جمہوری نواز میڈیا ٹائیکون جمی لائی کو آئندہ ماہ سزا سنائی جائے گی

جمی لائی ہانگ کانگ میں آزادیِ اظہار رائے اور جمہوریت کے علمبردار کے طور پر ابھرے جنھیں 2019 کے چین مخالف احتجاجی مظاہروں کا مرکزی منصوبہ ساز بھی سمجھا جاتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میڈیا ٹائیکون جمی لائی چین اور ہانگ کانگ پر انسانی حقوق ک خلاف ورزیوں پر پابندی لگوانے کے لیے بھی سرگرم رہے ہیں۔

جس پر وہ 5 سال سے بغیر سزا کے قید کاٹ رہے ہیں تاہم آج ہانگ کانگ کی ہائی کورٹ نے جمی لائی کو غیر ملکی قوتوں سے ملی بھگت کی سازش کا مجرم قرار دے دیا۔

جمی لائی کو عدالت نے غیر ملکی قوتوں سے ملی بھگت کی دو سازشی دفعات اور بغاوت آمیز مواد شائع کرنے کی ایک سازش میں قصوروار ٹھہرایا۔

جمی لائی پہلے ہی پانچ برس سے جیل میں ہیں اور قومی سلامتی قانون کے تحت متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے بتایا کہ جمی لائی کو ان جرائم پر سزا 12 جنوری 2026 کو ہونے والی سماعت میں سنائی جائے گی جس میں وہ سزا میں نرمی کی درخواست کرسکتے ہیں۔

جمی لائی کے وکیل اسٹیون کا کہنا ہے کہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سزا سنائے جانے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ چین کی جانب سے نافذ کردہ قومی سلامتی قانون کے تحت اب تک کا سب سے نمایاں اور ہائی پروفائل مقدمہ ہے جس کے نتیجے میں 78 سالہ لائی کو عمر قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

یہ متنازع فیصلہ ہانگ کانگ میں عدالتی آزادی پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

جہاں 2019 کی جمہوریت نواز احتجاجی تحریک کو چین اپنی حکمرانی کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے حقوق اور آزادیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے جج نے بھری عدالت میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمی لائی کئی دہائیوں سے چین کے خلاف ناراضگی اور نفرت رکھتے تھے۔

تین رکنی بینچ میں ججز ایلیکس لی اور سوزانا ڈی المیڈا ریمیڈیوس بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات میں جمی لائی کا معاملہ بھی اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ انھیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

جمی لائی کے اہل خانہ نے بتایا کہ 1,800 دن سے زائد عرصے سے تنہائی میں قید ہیں اور انھیں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بے ترتیبی جیسے سنگین مسائل لاحق ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ہانگ کانگ حالیہ مہینے میں ایک ہولناک رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے کم از کم 160 افراد کی ہلاکت پر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس سانحے کو استعمال کرکے 2019 جیسا انتشار پھیلانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

 

 

Load Next Story