بُک شیلف
تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد
استغفار وتعوذ
فضائل ، فوائد وثمرات
زیر تبصرہ کتاب ’’ استغفار و تعوذفضائل، فوائد و ثمرات ‘‘ ایمان کو تازگی بخشنے اور دلوں کو نورِ الٰہی سے منور کرنے، گناہوں سے بچنے اور نیکی کی طرف راغب ہونے کا ایک حسین ترین ذریعہ ہے۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے یہ کتاب ’’ استغفار وتعوذ فضائل ، فوائد وثمرات ‘‘ کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔
یہ ایمان افروز کتاب نہ صرف فرد کی ذاتی اصلاح بلکہ پورے معاشرے میں خیر و برکت کا پیغام بھی عام کرتی ہے۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نے روایتی تزک واحتشام ، خوبصورت چہار رنگ سرورق ٹائٹل کے ساتھ شائع کی ہے جبکہ اس کتاب کو دارالسلام انٹرنیشنل کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے انچارج قاری طارق جاوید عارفی اور حافظ قمر حسن نے مرتب کیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں مرتبین نے استغفار کی بنیادی ضرورت اور اس کی اہمیت کو نہایت دل نشین انداز میں بیان کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ انسان خطاؤں کا پْتلا ہے، گناہوں سے پاک کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بار بار توبہ و استغفار کی تلقین فرمائی ہے۔
استغفار بندے اور رب کے درمیان بند دروازوں کو کھولنے کی کنجی ہے۔ یہ دلوں کی صفائی، گناہوں کی معافی اور روحانی سکون کا ذریعہ ہے۔ جب انسان عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس پر برس پڑتی ہیں اور زندگی میں ایک نئی روشنی جنم لیتی ہے۔ جب بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کی کوئی نیکی ان گناہوں کا کفارہ نہیں بن پاتی تو اللہ اسے غم میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ ان گناہوں کا کفارہ بن جائے۔ مرتبین نے متعدد آیاتِ قرآنی اور سچے واقعات پیش کر کے واضح کیا ہے کہ استغفار صرف ایک عبادت نہیں بلکہ زندگی کا ایک ایسا لازمی عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یعنی استغفار رحمت و برکت، رزق میں وسعت اور مشکلات سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ قاری جب کتاب میں بیان کیے گئے واقعات کو پڑھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ استغفار نہ صرف آخرت کے لیے نجات کا راستہ ہے بلکہ دنیاوی زندگی کو بھی سکون و اطمینان سے بھر دیتا ہے۔کتاب میں وہ مسنون دعائیں بھی بیان کی گئی ہیں جن میں استغفار کے موتی جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دعائیں نہایت جامع، مختصر اور بابرکت ہیں۔ کتاب میں ان دعاؤں کے معانی و مفاہیم کو بھی نہایت آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ قاری صرف الفاظ ہی نہ پڑھے بلکہ ان کے مفہوم کو دل سے محسوس کرے۔ کتاب میں تعوذ یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ بات معلوم ہے کہ انسان ہر وقت شیطانی وساوس، نفسانی کمزوریوں اور دنیاوی فتنوں میں گھرا رہتا ہے۔
ایسے میں تعوذ ایک مضبوط قلعے کا کام دیتا ہے جو مومن کو ہر شر اور نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ سے پناہ مانگتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے حصار میں آ جاتا ہے۔کتاب کے مرتبین نے دلائل کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ شیطان مردود سے پناہ طلب کریں۔ اس لیے کہ حقیقی تحفظ صرف اللہ ہی کے دامنِ رحمت میں ہے۔
جب مومن دل سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے تو تمام شرور و فتن سے محفوظ رہتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کتاب قاری کو استغفار و تعوذ کے ذریعے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ یہ دلوں میں عاجزی، روح میں انکساری اور زندگی میں روشنی پیدا کرتی ہے۔ جس شخص نے استغفار کو اپنی عادت اور تعوذ کو اپنی ڈھال بنا لیا، وہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے زینے چڑھ سکتا ہے۔ایمان افروز اس کتاب کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے روحانی نعمت ثابت ہو سکتا ہے جو اپنے رب کے قریب ہونا چاہتا ہے، گناہوں سے نجات پانے کا خواہش مند ہے اور دل کی گہرائیوں سے امن، سکون اور برکت کی تلاش میں ہے۔
یہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کو سنوارنے کا ایک راستہ ہے۔اپنے موضوع پر یہ نہایت ہی اہم کتاب ہے۔ یہ اللہ سے قرب اور شیطان سے بچائو کا ایک مضبوط ترین قلعہ ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر شخص کے لیے چاہے وہ بزرگ ہے یا نوجوان بے حد ضروری ہے۔ کتاب کی قیمت 300روپے ہے۔ یہ خوبصورت کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شو روم لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
قیامت
زیر تبصرہ کتاب کانام ہے ’’ قیامت ‘‘۔ یہ کتاب ایک عظیم روحانی اور فکری جھنجھوڑ دینے والا پیغام ہے جس کا عنوان ہی اپنے اندر ایک لرزہ خیز حقیقت کو سمیٹے ہوئے ہے قیامت، یعنی فانی زندگی کا حسرت ناک انجام۔ اس کتاب کے مصنف، ممتاز عالمِ دین عبداللہ بن جار اللہ بن ابراہیم الجار اللہ ہیں، جبکہ اسے نہایت معیاری طباعت و دیدہ زیبی کے ساتھ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے۔
یہ کتاب محض ایک عام دینی مطالعہ نہیں بلکہ ایک ایسی بیدارکن صدا ہے جو انسان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اور دنیا کے فانی حسن پر فریفتہ انسان کو اس کی ابدی حقیقت یاد دلاتی ہے۔کتاب کا آغاز انسانی زندگی کے اس بنیادی تصور سے ہوتا ہے کہ دنیا ایک عارضی اور فانی ٹھکانہ ہے۔ یہاں کا ہر لمحہ، ہر سانس، ہر لذت اور ہر رنج ایک دن ختم ہو جائے گا۔ انسان چاہے کتنی ہی طاقتور سلطنتیں قائم کر لے، کیسے ہی عالی شان محلات بنا لے، یا کیسی ہی پرتعیش زندگی گزار لے آخر کار اسے مٹی کے نیچے جانا ہے۔ مصنف نے نہایت مؤثر اور واضح انداز میں یہ حقیقت بیان کی ہے کہ دنیا پر فریفتہ ہونے والا انسان دراصل ایک دھوکے میں مبتلا ہے۔
وہ سراب کے پیچھے بھاگتا ہے، مگر حقیقت کے ریگستان میں پیاسا ہی رہ جاتا ہے۔یہ کتاب موت کے بعد کے سفر پر مبنی ہے جو پڑھنے والے کے دل میں گہرے اثرات چھوڑ تی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موت ایک دروازہ ہے جس سے ہر انسان کو گزرنا ہے۔ اس کے بعد قبر کا مرحلہ ہے جہاں انسان کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا۔ یہاں مصنف نے قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت ایمان افروز انداز میں بتایا ہے کہ قبر سکون و رحمت کا باغ بھی بن سکتی ہے اور عذاب و تنگی کا گڑھا بھی۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ انسان نے دنیا میں کیا اعمال کیے، کن راہوں کو اختیار کیا اور کس مقصد کے لیے زندگی گزاری۔کتاب کا ایک نہایت مؤثر اور لرزہ خیز حصہ قیامت کے ہولناک مناظر سے متعلق ہے۔ مصنف نے قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی روشنی میں قیامت کے دن پیش آنے والے وہ مناظر بیان کیے ہیں جنہیں پڑھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔
سورج سوا نیزے پر ہوگا، زمین لوہے کی طرح گرم ہوگی، انسان اپنی جان بچانے کے لیے تڑپیں گے، مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی، دوست دشمن بن جائیں گے اور ہر نفس اپنی نجات کی فکر میں ہو گا۔ اس دن مال، دولت، عہدے اور تعلقات سب کچھ بے معنی ہو جائیں گے۔ صرف ایمان اور نیک اعمال ہی انسان کے کام آئیں گے۔اس کے بعد مصنف نے جنت کے اوصاف اور نعمتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ مصنف نے جنت کا ایسا حسین اور روح پرور نقشہ کھینچا ہے کہ دل اس کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔ جنت وہ مقام ہے جہاں نہ غم ہے، نہ درد، نہ بیماری، نہ تھکن۔ وہاں ہمیشہ کی راحت، سکون اور مسرت ہے۔ نہ وہاں موت ہے نہ جدائی۔کتاب میں جنتیوں اور دوزخیوں کے اعمال کا تقابلی ذکر بھی نہایت بصیرت افروز انداز میں کیا گیا ہے۔ نیک اعمال کرنے والے، تقویٰ اختیار کرنے والے، صبر کرنے والے اور اپنے رب سے ڈرنے والے لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔
وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ظلم کیا، گناہوں میں ڈوبے رہے، غرور و تکبر میں مبتلا رہے اور آخرت کو بھلا دیا، ان کے لیے جہنم کی ہولناکیاں بیان کی گئی ہیں۔ مصنف نے جہنم کے ایسے عبرت ناک مناظر کا نقشہ پیش کیا ہے جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ آگ کے شعلے، کھولتا ہوا پانی، زنجیریں اور تنگ و تاریک جگہیں یہ سب کچھ محض قصے نہیں بلکہ وہ اٹل حقیقت ہے جو نافرمانوں کا مقدر بنے گی۔مصنف کا اندازِ بیان نہ صرف علمی و تحقیقی ہے بلکہ انتہائی دل نشین اور وعظ و نصیحت سے بھرپور بھی ہے۔ وہ محض واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ ہر مقام پر قاری کے دل کو جھنجھوڑتے ہیں، اسے سوچنے، توبہ کرنے اور اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ کتاب کا مطالعہ انسان کے اندر اللہ کا خوف اور فکر آخرت کے جذبات کو بیدار کرتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی دنیاوی جاہ و جلال میں نہیں بلکہ آخرت میں جنت کے حصول میں ہے۔
اس کتاب کی ایک بڑی خوبی اس کا حوالہ جات پر مبنی ہونا ہے۔ مصنف نے قرآن و سنت سے استدلال کرتے ہوئے ہر نکتے کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض جذباتی تحریر نہیں بلکہ ایک مستند اور معتبر علمی و دینی سرمایہ ہے۔یہ کتاب نہ صرف مطالعہ کے لائق بلکہ ہر مسلمان کے لیے باعثِ ہدایت و نجات ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد انسان کے دل میں ایک گہری کیفیت جنم لیتی ہے خوفِ آخرت اور امیدِ جنت کی کیفیت جو اس کے عمل و کردار کو بدلنے کا باعث بن سکتی ہے۔کتاب کی قیمت 380روپے ہے ، یہ فکر انگیز کتاب دارالسلام انٹر نیشنل کے مرکزی شو روم نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لوئر مال لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل فون نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
تبصرہ نگار : سید عاصم محمود
ننھی منی جاسوس
مصنفہ: شائستہ انجم۔ ناشر: نیشنل بک فائونڈیشن، اسلام آباد۔ قیمت 985 روپے
بچوں کے ادب میں کہانیوں اور نظموں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ دونوں اصناف بچوں کی ذہنی نشوونما اور نت نئی باتیں سیکھنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ادب بچوں کو بڑھنے، تخیل کرنے اور سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے بچپن کی تعلیم اور نگہداشت میں بچوں کا ادب پڑھنا بہت ضروری ہے۔
کہانیاں اور نظمیں کم عمر سیکھنے والوں کو الفاظ کے بھرپور ذخیرے، جملوں کی ساخت اور زبان کے مختلف انداز سے روشناس کراتی ہیں ۔ بچوں کو پڑھ کر کہانیاں سنانا اْن کی سماعت اور گفتگو کی صلاحیتیں بہتر کرتا ہے، الفاظ کا ذخیرہ بڑھاتا اور زبان سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
کہانیوں اور کتابوں سے منسلک ہونا بچوں کی ذہنی صلاحیتیںمتحرک کرتا ہے۔ وہ کہانیوں کا بہاؤ سمجھتے ، اندازے لگاتے اور سبب و نتیجہ کے تعلق کو جانتے ہیں۔ یہ عمل تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی اہلیت اور فہم و ادراک کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ بچوں کا ادب تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے۔ روشن تصویروں اور دلکش کہانیوں کے ذریعے بچے مختلف دنیاؤں، کرداروں اور حالات دریافت کرتے ہیں۔ یہ تخیلاتی مشغولیت اْن کی تخلیقی سوچ کو مہمیز کرتی اور اپنی کہانیاں تخلیق کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔
کتابیں بچوں کو اپنی جذباتی کیفیت سمجھنے کے لیے بھی محفوظ ماحول فراہم کرتی ہیں۔ کہانیوں میں اکثر ایسے کردار ہوتے ہیں جو مختلف چیلنجوں اور تجربات کا سامنا کرتے ہیں۔ بچے ان کرداروں سے خود کو جوڑتے اور ہمدردی، شفقت اور جذباتی سمجھ بوجھ پیدا کرتے ہیں۔ کہانیاں بچوں کو مختلف ثقافتوں، روایات اور نقطہ نظر سے روشناس کراتی ہیں ۔ انہیں دوسروں کی قدر کرنا سکھاتی اور شمولیت کو فروغ دیتی ہیں ۔ مختلف پس منظر والے کرداروں والی کہانیاں پڑھ کر بچے وسیع تر نقط نظر اور دوسروں کو قبول کرنے کا جذبہ سیکھتے ہیں۔اکٹھے پڑھنا بچوں اور نگہداشت کرنے والوں کے درمیان معنی خیز تعلقات قائم کرتا ہے۔ یہ رشتے مضبوط کرتا ، گفتگو بہتر بناتا اور باہمی لطف اندوزی اور معیاری وقت گزارنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
زیرتبصرہ کتاب میں شامل کہانیاں بھی درج بالا عوامل مدنظر رکھ کر عمدگی و خوبصورتی سے لکھی گئی ہیں۔ زبان شستہ اور تحریر رواں ہے جس باعث نہ صرف بچہ بخوبی کہانیاں پڑھ لیتا بلکہ ان میں موجود سبق بھی جان لیتا ہے۔ کتاب میں 134 صفحات کی اس کتاب میں انتیس کہانیاں شامل ہیں جو بچوں کو ایسی دنیا میں لے جاتی ہیں جہاں نیکی اور بدی کے مابین ازلی کشمکش جاری ہے۔ کہانیوں کے ہیرو اچھائیوں کا سہارا لے کر برائیوں کو شکست دیتے اور یوں دنیا کو امن ومحبت کا گہوارہ بنانے بنانے کی سعی کرتے ہیں۔
مصنفہ کی یہ خوبی ہے کہ انھوں نے تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار لا کر ہر کہانی میں دلچسپی وتجسّس برقرار رکھا ہے تاکہ نوخیز ذہن کا مالک اس سے جڑا رہے۔ کہانی کی بنت اس انداز میں کی گئی ہے کہ بچہ ایک دفعہ پڑھنا شروع کرے تو اسے ختم کر کے ہی دم لے۔ یوں کہانی بچے میں خیر کے جذبات ابھارنے میں کامیاب رہتی ہے اور وہ شر سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ والدین سے اپیل ہے کہ وہ یہ کہانیاں اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں تاکہ تیزی سے بدلتی دنیا میں وہ اخلاقیات اور اپنے اعلی مذہبی اصولوں سے روشناس ہو سکیں۔ یہی وہ ہتھیار ہیں جو مادہ پرستی سے پھوٹتے لالچ، حسد، جلد بازی جیسی برائیوں کے سامنے ڈھال بن کر انسان کو حیوان بننے سے روک دیتے ہیں۔
جناب محمد عثان جامعی کا جامع و عمدہ تعارف کتاب کی زینت ہے۔یہ آرٹ پیپر پر خوبصورت انداز میں شائع کی گئی ہے۔ ہر صفحے پر چاررنگی طباعت ہے۔ اس پیشکش نے کتاب کو دیدہ زیب ضرور بنا دیا مگر اس اہتمام میں قباحت یہ ہے کہ قیمت خاصی بلند ہو گئی۔لہذا ایک غریب یا متوسط گھرانے کا بچہ بھی بہ مشکل کتاب خرید سکے گا۔ سرکاری بجٹ رکھنے والے ناشرسے التماس ہے، وہ کتاب کا کم قیمت پیپربیک ایڈٰشن بھی شائع کرے تاکہ لاکھوں پاکستانی بچے ان کہانیوں سے لطف اندوز ہوں اور سب سے بڑھ کر اپنے سوچ وعمل میں مثبت تبدیلیاں بھی لے آئیں۔یہ پُراثر کتاب آپ کی لائبریری کی شان بڑھا دے گی، اس سے ضرور استفادہ کیجیے۔
تبصرہ نگار: محمد عثمان جامعی
ٹیڑھے شہر کی ٹیڑھی کہانیاں
وہ کتاب میری گرفت میں تھی، اور کچھ دیر بعد میں اس کتاب کی گرفت میں۔۔۔
یہ ہے اقبال خورشید کے افسانوں کا مجموعہ ’’چِھنال اور دیگر افسانے‘‘ جو اپنی گہرائی کی طرف بڑھتی رات مصنف نے میری طرف بڑھایا تو سوچا، سرسری نظر ڈال کر اگلے دن ایک ریستوراں کی روشنیوں میں جب ہم دوستوں کی چوپال لگے گی تو تیزی سے سرکتے اور سرسراتے صفحات جو دے جائیں گے وہ تاثر اور رائے کی صورت ’’نمٹا‘‘ دوں گا۔ یہ محفل اقبال کے دو دستیوں میں بندھے افسانوں پر بات کرنے کے لیے ہی جمائی جارہی تھی۔
کتاب کھولی، اور میں بندھ گیا۔ الگ سے، اچھوتے اسلوب میں پروئی کہانیاں۔۔۔ بیانیے کا اور ہی ڈھب، لگتا ہے جیسے لیکھک پورے لاابالی پن کے ساتھ افسانے کی مانوس ساخت کو توڑتا مروڑتا اپنے ٹیڑھے سبھائو کی کہانیوں کے لیے راستہ بنارہا ہے۔۔۔۔ ٹیڑھ پن کیوں نہ ہو، یہ کراچی کی کہانیاں ہیں، وہ شہر جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔
ان افسانوں میں تصویر بنتی سطریں ہیں، لفظ بنی تصویریں ہیں۔ ہر کہانی میں کراچی اپنی گلیوں اور گالیوں سمیت سمویا ہوا ہے، اس بری طرح کہ ملک کے کسی بھی گوشے میں دن سے رات کرتا قاری ان کہانیوں کے ماجرے، واقعے اور مکالمے پڑھتے ہی ایمان لے آئے کہ یہ سب کراچی ہی میں ہوا ہوگا، کیوں کہ یہ کراچی ہی میں ہوسکتا تھا۔ اقبال نے اپنے افسانوں میں سمندر کنارے بے پروائی سے پڑے شہر کے اس دور کی جھلکیاں ازسرنو تخلیق کی ہیں، جو دور کراچی کی پہچان کر اس کے مزاج سے رواج تک سب کچھ بدل گیا۔ انتظار حسین، قرۃ العین حیدر، فہمیدہ ریاض اور پچھلی پیڑھی کے دیگر ادیبوں نے کراچی آنے والوں کے قصے کہے تھے، ہمارے اقبال نے ہم کراچی والوں کی کہانیاں پنوں پر اتاری ہیں۔ جو اب آنکھوں میں اترنے کے انتظار میں ہیں۔۔۔ پھر دل میں تو اتر ہی جائیں گی۔
سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور کی شایع کردہ 178 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 1400روپے ہے۔