کیا ٹرمپ اجلاسوں میں سو جاتے ہیں؟ امریکی صدر نے خاموشی توڑ دی

حالیہ مہینوں میں ٹرمپ کے ہاتھ پر نیل، ٹخنوں کی سوجن اور اجلاسوں میں آنکھیں بند ہونے کے مناظر کے بعد سوالات اٹھائے گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہاتھ پر پڑنے والے نمایاں نیل کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ روزانہ استعمال کی جانے والی اسپرین کی وجہ سے ہیں، نہ کہ کسی چوٹ یا نیند کے دوران گرنے کے باعث ہیں۔

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ وہ سرکاری اجلاسوں کے دوران اونگھتے یا سو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔

79 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ، جو امریکا کی تاریخ کے معمر ترین صدر ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ خون کو پتلا رکھنے کے لیے روزانہ اسپرین استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث ہاتھ پر نیل پڑ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے بعض اوقات وہ ہاتھ پر میک اپ یا پٹی بھی لگاتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید وضاحت کی کہ ایک موقع پر ان کے ہاتھ پر لگنے والی چوٹ اس وقت آئی جب اٹارنی جنرل پام بونڈی نے انہیں ہائی فائیو دیتے ہوئے انگوٹھی سے ہاتھ پر ضرب لگائی۔

انٹرویو میں ٹرمپ نے اپنی طبی جانچ سے متعلق پچھلا بیان بھی تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ان کا ایم آر آئی نہیں بلکہ ایک سادہ سی ٹی اسکین ہوا تھا۔ ان کے معالج شان باربیبیلا کے مطابق یہ اسکین دل سے متعلق کسی بھی ممکنہ مسئلے کو مسترد کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کی صحت، ہاتھ پر نیل، ٹخنوں کی سوجن اور بعض اجلاسوں میں آنکھیں بند ہونے کے مناظر کے بعد سوالات اٹھائے جا رہے تھے، جن پر اب انہوں نے تفصیلی وضاحت پیش کی ہے۔

متعلقہ

Load Next Story