نعمان اعجاز نے شوبز انڈسٹری کی تلخ حقیقت بیان کردی
نامور پاکستانی اداکار نعمان اعجاز نے شوبز انڈسٹری کے تاریک پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری انڈسٹری میں ہر کوئی دل میں رنجش رکھتا ہے۔
حال ہی میں ایک انٹریو کے دوران سینئر پاکستانی اداکارہ نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے بارے میں ایک تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوبز شخصیات کے درمیان تعلقات کی بنیاد اکثر حسد اور رنجش پر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ نادیہ خان کے پروگرام میں ہدایت کارہ اور اداکارہ سنگیتا کی جانب سے نعمان اعجاز پر تنقید کی گئی تھی اور سینئر اداکار پر غیر پیشہ ورانہ رویے کا الزام عائد کیا تھا۔
سنگیتا کا دعویٰ تھا کہ نعمان اعجاز نے تین سال قبل ان کے ڈرامہ سیریل ’بھلّے شاہ‘ کی مکمل ادائیگی وصول کرلی تھی، مگر شوٹنگ شروع ہونے پر مختلف بہانوں سے کام کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث منصوبہ لٹکا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے پروفیشنل کریئر کے دوران یہ سیکھا ہے کہ ہماری انڈسٹری میں ہر شخص دل میں رنجش رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کسی وجہ سے یا مجبوری کے تحت کوئی پراجیکٹ کرنے سے انکار کر دیں تو لوگ اسے ذاتی مسئلہ بنا لیتے ہیں، وہ سوچتے ہیں، اس نے مجھے منع کردیا، اب میں کبھی اس کے ساتھ کام نہیں کروں گا۔
سینئر اداکار نے تسلیم کیا کہ اس ماحول نے ان کے کیریئر پر اثر ڈالا ہے، تاہم انہوں نے وقت کے ساتھ اسے قبل کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیلڈ میں میرے بہت سے دشمن ہیں، لیکن لوگ کہتے ہیں جتنے زیادہ دشمن ہوں، اللہ اتنی ہی زیادہ کامیابی دیتا ہے، تاہم میں کبھی نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا یہ سب کچھ جھیلے، ایسے لوگوں میں پھنسے جن کی سوچ اس قسم کی ہو۔
واضح رہے کہ نعمان اعجاز نے اپنے بیٹے ضویار کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان خلاف موجود رنجشیں کہیں ان کے بیٹے کے کیریئر کو متاثر نہ کریں، جنہوں نے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھ دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ضویار سے کہا ہے کہ میں دعا کرتا ہوں کہ جو لوگ مجھ سے رنجش رکھتے ہیں وہ تم پر اس کا غصہ نہ نکالیں، ان شاء اللہ، وہ ان مشکلات سے سیکھے گا، ٹھوکریں کھانا ایک اچھا اور عظیم انسان بننے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔