برطانیہ کا خلائی میدان میں بڑا قدم، خلا میں پہلی فیکٹری نے کام شروع کردیا
اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی دوڑ زمین تک محدود نہیں رہی بلکہ اب خلا بھی جدید ایجادات کا مرکز بنتا جارہا ہے۔ اسی سلسلے میں برطانیہ نے ایک غیرمعمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے خلا میں ایک باقاعدہ فیکٹری قائم کردی ہے، جو زمین سے سیکڑوں کلومیٹر بلند مدار میں اپنی پیداوار کا آغاز کرچکی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے شہر کارڈف میں قائم کمپنی اسپیس فورج نے مائیکروویو اوون کے سائز کی ایک منی فیکٹری خلا میں بھیجی ہے۔ یہ فیکٹری نہ صرف کامیابی سے مدار میں پہنچ گئی بلکہ کمپنی نے اس کی بھٹی کو فعال کرتے ہوئے ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت حاصل کرنے کا تجربہ بھی مکمل کرلیا ہے، جسے ایک اہم تکنیکی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے منصوبے کے مطابق اس خلائی فیکٹری میں اگلے مرحلے پر سیمی کنڈکٹرز کے لیے درکار خصوصی مواد تیار کیا جائے گا۔ یہ مواد بعد ازاں زمین پر لا کر الیکٹرانکس، مواصلاتی نظام، کمپیوٹنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں استعمال کیا جائے گا، جہاں اعلیٰ معیار اور خالص سیمی کنڈکٹرز کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا کا ماحول سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لیے نہایت موزوں ہے، کیونکہ وہاں وزن نہ ہونے کے باعث ایٹمز انتہائی درست ترتیب سے جڑتے ہیں جبکہ ویکیوم ماحول آلودگی کے امکانات کو بھی کم کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا میں تیار ہونے والا مواد زمین پر بننے والے مواد کے مقابلے میں کہیں زیادہ معیاری ہو سکتا ہے۔
اسپیس فورج کے چیف ایگزیکٹو جوش ویسٹرن کے مطابق خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والوں کے مقابلے میں چار ہزار گنا زیادہ خالص ہو سکتے ہیں۔ ان جدید سیمی کنڈکٹرز کو مستقبل میں فائیو جی ٹاورز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز اور جدید طیاروں سمیت حساس ٹیکنالوجی میں استعمال کیا جا سکے گا۔
اس ابتدائی کامیابی کے بعد برطانوی کمپنی اب ایک بڑی خلائی فیکٹری کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو ایک وقت میں دس ہزار چپس کے لیے سیمی کنڈکٹر مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو گی۔ واضح رہے کہ اسپیس فورج کی یہ منی فیکٹری گزشتہ موسمِ گرما میں اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجی گئی تھی، جس کے بعد سے کارڈف میں قائم مشن کنٹرول سے اس کے مختلف نظاموں کی مسلسل نگرانی اور جانچ کی جا رہی ہے۔