آن لائن شاپنگ کا بھوت، نجات کیسے ممکن؟

آن لائن شاپنگ میں جہاں کچھ سہولتیں ہیں وہیں کئی نقصانات بھی ہیں

’’سدرہ اب بس بھی کردو، اس مہینے تم نے پہلے ہی بہت فضول خرچی کرلی ہے، اتنے سوٹ اور پرفیومز کا تم نے اچار ڈالنا ہے، جب دیکھو کسی نہ کسی ویب سائٹ پر تم آرڈر دے رہی ہوتی ہو آخر کچھ تو پیسے کا خیال کرو، بیٹا پیسے درختوں پر نہیں اگتے بہت مشکل سے کمائے جاتے ہیں اس طرح فضول خرچی سے تم اپنا ہی نقصان کر رہی ہو۔‘‘

نجمہ خاتون آج سدرہ پر بہت غصے ہو رہی تھیں، لیکن سدرہ کا کیا کہنا وہ وہی مرغے کی ایک ٹانگ کے مصداق اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی۔ اس کا موقف یہ تھا کہ وہ اچھی تنخواہ پر کام کرتی ہے اور اپنے لیے ہی محنت کرتی ہے، لہٰذا اسے خرچ کی مکمل اجازت ہونی چاہیے اور وہ چونکہ اچھے آفس میں ملازمت کرتی ہے اس لیے اس کے کپڑے، جوتے، میک اپ، پرفیومز سب اپ ٹو ڈیٹ ہونے چاہئیں۔

اس لیے وہ بار بار آن لائن شاپنگ کرتی ہے اور گھر بیٹھے ہی چیزیں منگوا لیتی ہے۔ کیونکہ اس کے پاس بازار جا کر خریداری کرنا نامکمن سا ہوتا جارہا ہے۔

یہ آج کل گھر گھر کی کہانی ہے۔ کپڑوں، جوتے اور اسی طرح کی دیگر اشیا کی آن لائن شاپنگ ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ ہر ویب سائٹ اتنی دلفریب بنا دی گئی ہے کہ بندہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی آن لائن شاپنگ کر ہی لیتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ آن لائن شاپنگ کرنا برا ہے۔ آج کل کے دور میں یہ خریداری کا آسان طریقہ ہے۔ لیکن جہاں اس کے فائدے ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ فوائد اگر دیکھے جائیں تو یہ ہیں کہ کم وقت میں اور گھر کے دروازے پر آپ کو مناسب اشیا مل جاتی ہیں۔ کوئی کرایہ نہیں اور بازار آنے جانے کی جھنجھٹ بھی نہیں۔ اکثر ویب سائٹس جو مشہور برانڈ کی ہیں وہ آن لائن کافی ڈسکاونٹ بھی دیتی ہیں اور فیشن اور ٹرینڈ کے مطابق آپ باآسانی شاپنگ کرسکتے ہیں۔

لیکن نقصانات کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ کئی برانڈز جو اچھے نہیں ہوتے وہ غیر معیاری چیزیں بھیج دیتے ہیں اور کئی دفعہ شاپنگ کسی چیز کی ہوتی ہے اور آجاتا کچھ اور ہے، یعنی خفت اور پریشانی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

یہ تو رہے عمومی مسائل لیکن آج اس موضوع کی طرف توجہ دلانے کی کوشش ہے کہ آن لائن چیزوں کی بے تحاشا اور بلاضرورت شاپنگ کیوں کی جاتی ہے؟

اگر کسی شخص کو آن لائن شاپنگ کا اتنا چسکا یا اتنی عادت ہوجائے اور یہ عادت اتنی شدید ہو کہ اس کے مالی حالات، دوسروں کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات پڑیں اور پھر بھی وہ خریداری کرتا رہے تو اس کو ایک نفسیاتی مسئلہ یا رویے میں خرابی کہا جاسکتا ہے، جیسے اسے شاپنگ ایڈیکشن اور کمپلسیو بائنگ ڈس آرڈر کہا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ماہر نفسیات سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں۔

خیال رہے کہ خریداری بلاضرورت کرنا یا اس سے ہاتھ روک نہ سکنا ایک مشکل امر ہے۔ انسان خود نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے لیکن گھر والوں اور دوستوں کو وہ فضول خرچ اور بے وقوف لگتا ہے جو درحقیقت وہ ہوتا بھی ہے۔ ایسے افراد ضرورت سے زائد چیزیں اکٹھی کرلیتے ہیں۔ شاپنگ کے بعد انہیں احساس ندامت یا شرمندگی بھی ہوتی ہے، روپیہ بھی ضائع ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ ریل اسکرول کرکے شاپنگ کرتے ہیں، یعنی جو دیکھتے ہیں وہی لینا چاہتے ہیں۔ کئی لوگ اپنی بوریت یا اداسی محسوس کرتے ہوئے شاپنگ کرتے ہیں۔ اس سب کو کنٹرول کرنے کےلیے چند باتیں ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہیں۔

  • سب سے پہلے ان اشیا کی فہرست بنائیں جو آپ کو لازمی چاہئیں۔
  • ہر ماہ کا ایک محدود بجٹ مقرر کریں اور ہر صورت اس کو فالو کریں۔
  • غیر ضروری اشیا کی الگ فہرست بنائیں اور کبھی بھی انھیں خریدنے کی کوشش نہ کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ اس طرح غیر ضروری اشیا پر لگنے والا پیسہ بچ جائے گا۔
  • اپنے فون پر شپنگ ایپس اور ریلز بند کریں اور انھیں مت دیکھیں تاکہ آپ میں شاپنگ کی شدید خواہش پیدا نہ ہو۔
  • کسی بھی آن لائن چیز کی خریداری کےلیے نقد رقم یا ڈیبیٹ کارڈ استعمال کریں۔ کیونکہ کریڈٹ کارڈ سے آسانی سے ادائیگی ہوتی ہے اور اس میں زیادہ پیسے لگ سکتے ہیں۔
  • ہر وقت آنے والی سبسکرپشن آفرز اور سیلز کا لالچ کم کریں، صرف اصل ضرورت کی چیزیں خریدیں، ڈسکاؤنٹ کا بہانہ نہیں بنائیں۔
  • شاپنگ کی خواہش ہونے یا بوریت کی صورت میں کوئی سرگرمی اپنائیں، جیسے کوئی ورزش یا جسمانی سرگرمی، مطالعہ یا ٹی وی دیکھنا وغیرہ اس سے بھی آن لائن شاپنگ کا فتور اتر جاتا ہے۔
  • اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ ان بے کار اشیا سے میرے اتنے پیسے ضائع ہوں گے جو کہیں اور بھی کام آسکتے ہیں۔
  • چوبیس گھنٹے کا اصول اپنائیں۔ چوبیس گھنٹے پہلے جو اشیا آپ کو اچھی لگ رہی تھیں ان کو چوبیس گھنٹے بعد دیکھیں تو ان کی شاپنگ بالکل عبث لگے گی، کیونکہ ایک گھنٹے بعد آپ کا موڈ ہی بدل چکا ہوگا۔

جدید دنیا جہاں بہت سی آسانیاں لے کر آئی ہے وہیں ذہنی مشکلات اور چیلنجز بھی کارفرما ہیں ہر چیز کو اپنے لیے ضروری نہ سمجھیں۔ سادگی اپنائیں اور خوش رہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story