مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں، یہ اعتماد کا بحران بھی ہے

پاکستان میں افراطِ زر نے متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے

مہنگائی کو عموماً صرف اعداد و شمار کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک معاشی بحران سے کہیں بڑھ کر ایک اعتماد کا بحران بن چکی ہے۔

جب روزمرہ اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو صرف جیب متاثر نہیں ہوتی، ریاست اور نظام پر یقین بھی متزلزل ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں مہنگائی محض اقتصادی اصطلاح نہیں رہتی بلکہ سماجی بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مہنگائی کا اثر صرف بازار تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ اس کی آمدن جمود کا شکار رہتی ہے جبکہ اخراجات روز بروز بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کرائے، بجلی، گیس، ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایک عام شہری کے لیے باعزت زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے Reuters نے اپنی رپورٹس میں بارہا نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں افراطِ زر نے متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی اعتماد میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مہنگائی کا ایک بڑا اور اکثر نظرانداز کیا جانے والا پہلو اس کا نفسیاتی اثر ہے۔ جب ایک شخص دن کا آغاز ہی اس فکر سے کرے کہ ماہ کے آخر تک اخراجات کیسے پورے ہوں گے تو اس کی کارکردگی، سوچ اور سماجی رویہ سب متاثر ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت صرف انفرادی نہیں رہتی بلکہ اجتماعی بن جاتی ہے۔ لوگ مستقبل کی منصوبہ بندی ترک کر دیتے ہیں، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر سمجھوتے شروع ہو جاتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے، خصوصاً World Bank اور IMF، مہنگائی کو عموماً مالی نظم و ضبط، سبسڈی کے خاتمے اور پالیسی اصلاحات سے جوڑتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب عوام کو یہ احساس ہوجائے کہ فیصلے ان کی شمولیت اور مفاد کے بغیر کیے جا رہے ہیں تو عدم اعتماد جنم لیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کے اعداد و شمار چاہے وقتی طور پر بہتر بھی ہو جائیں، عوامی بے چینی کم نہیں ہوتی، کیونکہ مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ یقین کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے۔

یہ بحران اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب ریاست اور حکومت کی جانب سے بیانات اور عملی زندگی میں واضح فرق نظر آنے لگے۔ اگر سرکاری دعوے کچھ ہوں اور بازار کی حقیقت کچھ اور، تو عوام سوال اٹھانے لگتے ہیں۔

دی اکانومسٹ جیسے معتبر بین الاقوامی جریدے نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی دراصل حکمرانی اور پالیسی پر اعتماد کا امتحان ہوتی ہے، اور جب یہ امتحان بار بار ناکامی میں بدل جائے تو سیاسی نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی نے سماجی رویوں کو بھی نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ لوگ مستقبل سے خوف زدہ ہیں، بچت کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے، اور نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی معاشی تحفظ نہ دیکھے، ریاست پر اعتماد کھونے لگتا ہے۔

عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق، اگر معاشی دباؤ مسلسل رہے تو اس کا اثر صرف معیشت پر نہیں بلکہ جمہوری عمل، ووٹ کے رجحان اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد پر بھی پڑتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مہنگائی عدم مساوات کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ جب عام آدمی کے لیے بنیادی ضروریات مشکل ہو جائیں اور طاقتور طبقات نسبتاً محفوظ رہیں تو یہ احساس جنم لیتا ہے کہ قربانی کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہو رہا۔ یہی احساس معاشرے میں خاموش غصے کو جنم دیتا ہے، جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اندر ہی اندر ریاستی رشتوں کو کمزور کر دیتا ہے۔

اس صورتحال میں اصل سوال یہ نہیں کہ مہنگائی کب کم ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ اعتماد کیسے بحال ہوگا۔ اعتماد اس وقت بحال ہوتا ہے جب عوام کو فیصلہ سازی میں شامل ہونے کا احساس دیا جائے، پالیسیوں میں تسلسل ہو، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاست خود مثال قائم کرے۔ شفافیت، سچائی اور قربانی کا عملی مظاہرہ وہ عناصر ہیں جو محض اعلانات سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاشی بحران عارضی ہوتے ہیں، مگر اعتماد کا بحران اگر جڑ پکڑ لے تو اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ مہنگائی کو صرف گراف اور شرحوں میں نہ دیکھے بلکہ اس کے سماجی، نفسیاتی اور سیاسی اثرات کو بھی سمجھے۔ جب تک عوام کو یہ یقین نہیں دلایا جاتا کہ ریاست مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے، اس وقت تک مہنگائی کا مسئلہ محض معاشی نہیں رہے گا بلکہ ایک قومی اعتماد کے بحران کی صورت میں موجود رہے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

 

Load Next Story