گرفتاری اور امریکا منتقلی؛ وینزویلا میں مادورو کا جانشین کون ہوگا ؟

امریکی فوجی وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

مادورو کی گرفتاری اور امریکی منتقلی کے بعد ان کے جانشین کون ہوگا؟

امریکی فورسز کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری اور پھر نیویارک منتقلی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ ان کا ممکنہ جانشین کون ہوگا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اب یہ بات سب سے اہم ہوگئی ہے کہ وینزویلا کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں آئے گی اور کیا مادورو کے بغیر چاویز ازم اقتدار میں برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکومت ہی برقرار رہتی ہے تو تین اہم شخصیات ایسی ہیں جن پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔

ان میں سب سے اوّل نمبر پر نائب صدر دلسی رودریگز ہیں، ان کے بعد وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو اور پھر وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو کا نام آتا ہے۔

امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد یہ تینوں رہنما وینزویلا کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے، جسے اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اقتدار کی منتقلی یا عبوری قیادت انہی میں سے کسی کے ہاتھ میں جا سکتی ہے۔

وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو اور وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو دونوں کو فوج کے اندر خاصا اثر و رسوخ حاصل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کی وفاداری فیصلہ کن کردار ادا کرے گی اور یہی طے کرے گی کہ اقتدار کا کنٹرول کس کے پاس جاتا ہے۔

اس کے برعکس نائب صدر دلسی رودریگز کا اثر و رسوخ زیادہ تر سول اور معاشی شعبوں میں ہے۔ انہیں فوجی قیادت تک وہ براہ راست رسائی حاصل نہیں جو کابیو اور پیڈرینو کو حاصل ہے۔

ایک اور بڑا سوال اپوزیشن کے کردار سے متعلق ہے۔ اپوزیشن کی قیادت ماریا کورینا ماچادو کر رہی ہیں، جو جولائی 2024 کے انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کر چکی ہیں۔

اپوزیشن واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ صرف مادورو کے اقتدار سے ہٹنے پر مطمئن نہیں ہوگی بلکہ حقیقی سیاسی تبدیلی چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اپوزیشن سڑکوں پر نکلتی ہے یا سیاسی دباؤ بڑھاتی ہے تو وینزویلا ایک نئے اور غیر یقینی سیاسی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے جب فوکس نیوز نے امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ آیا وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو اقتدار سنبھالنے کی حمایت دی جائے یا نہیں۔

جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے کو فی الحال دیکھا جا رہا ہے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ وینزویلا میں اس وقت ایک نائب صدر موجود ہیں تاہم انھوں نے وینزویلا میں ہونے والے الیکشن پر سخت بھی تنقید کی۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کا الیکشن تھا، تاہم مادورو کا انتخاب ایک شرمناک عمل تھا۔

 

متعلقہ

Load Next Story