تعلیمی پالیسیاں اور زمینی حقائق

سب سے سنگین مسئلہ اسکول تعطیلات، خصوصاً سردیوں کی چھٹیوں کا ہے

پاکستان میں تعلیم پر ہونیوالی بحث عموماً نصاب، امتحانات اور داخلہ شرح تک محدود رہتی ہے۔ بلاشبہ یہ امور اہم ہیں، لیکن ایک نہایت بنیادی مسئلہ مسلسل نظر اندازکیا جا رہا ہے، اسکولوں کے اوقات اور تعطیلات کا نظام۔

جب پاکستان 2025 میں شدید موسمی دباؤ اور بدلتی ہوئی سماجی حقیقتوں کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، تو یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ تعلیمی شیڈول جو دہائیوں پہلے ترتیب دیے گئے تھے، آج کے حالات کے مطابق نہیں رہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت موسمی حالات نسبتاً مستحکم تھے، شہروں میں رش کم تھا اور خاندانی زندگی کا انداز بالکل مختلف تھا۔

آج صورتِحال یکسر بدل چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے سردیوں کو شدید، بارشوں کو بے ترتیب اور سیلابوں کو معمول بنا دیا ہے، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

اسی دوران شہری آبادی میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے خاندانی ڈھانچے بدل دیے ہیں، جہاں اکثر گھروں میں والدین دونوں کل وقتی ملازمت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، اسکولوں کے اوقات اور تعلیمی کیلنڈر اب بھی ماضی میں جمی ہوئی تصویر پیش کرتے ہیں۔

سب سے سنگین مسئلہ اسکول تعطیلات، خصوصاً سردیوں کی چھٹیوں کا ہے۔ موجودہ نظام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چھٹیاں سردی کے عروج سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں اور بچوں کو شدید سرد موسم میں اسکول جانا پڑتا ہے۔

بڑے شہروں میں شاید یہ مسئلہ اتنا نمایاں نہ ہو، لیکن سندھ اور دیگر دیہی و دور دراز علاقوں میں یہ ایک حقیقی اذیت بن جاتا ہے۔ بہت سے بچے آج بھی طویل فاصلے پیدل طے کر کے اسکول پہنچتے ہیں، نہ مناسب گرم لباس میسر ہوتا ہے اور نہ ہی گرم کلاس رومز۔

سردی کے باعث بیماریاں، غیر حاضری اور تعلیمی کارکردگی میں کمی عام ہو جاتی ہے۔ اس بات کی بھرپور گنجائش موجود ہے کہ اسکول تعطیلات کم ازکم ایک مکمل ماہ کی ہوں اور انھیں اس طرح ترتیب دیا جائے کہ شدید سردی شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں۔

یہ اقدام بچوں کی صحت اور سلامتی کو ترجیح دیگا اور تعلیم کو نقصان پہنچائے بغیر بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بچے باقاعدگی سے اسکول آتے ہیں اورکلاس روم میں بہتر انداز میں سیکھتے ہیں۔ اتنا ہی اہم مسئلہ اسکول شروع ہونے کے اوقات کا ہے۔

پاکستان میں بیشتر اسکول بہت صبح، اکثر 8 بجے سے بھی پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ سخت شیڈول خاص طور پر ان والدین کے لیے روزانہ کی پریشانی بن جاتا ہے جن کے دفاتر کے اوقات عموماً 9 بجے شروع ہوتے ہیں۔

اس عدم مطابقت کے باعث والدین کو جلدی، غیر محفوظ سفر یا غیر یقینی ٹرانسپورٹ انتظامات جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اگر اسکول کا آغاز صبح 9 بجے کر دیا جائے تو یہ ایک عملی اور کم خرچ اصلاح ہو سکتی ہے۔

اس سے والدین کو کام پر جاتے ہوئے بچوں کو اسکول چھوڑنے میں آسانی ہوگی، خاص طور پر سردیوں کی تاریک اور سرد صبحوں میں جہاں حفاظتی خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ تعلیمی نقطہ نظر سے بھی دنیا بھر میں تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ قدرے دیر سے شروع ہونیوالے اسکول اوقات بچوں کی توجہ، جذباتی توازن اور مجموعی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔

پاکستان کو یقیناً اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے، مگر اس شواہد کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ یہ اصلاحات سرکاری اور نجی دونوں اسکولوں پر یکساں طور پر نافذ ہونی چاہئیں۔

جب تعلیمی پالیسی معاشی بنیادوں پر تقسیم ہوجائے تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بچے کی فلاح و بہبود اس بات پر منحصر نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے یا نجی ادارے میں۔

تعطیلات اور اوقاتِ کار کے یکساں اصول پورے تعلیمی نظام میں انصاف، تسلسل اور جواب دہی کو فروغ دیں گے۔ ایک اور نہایت اہم مگر نظر انداز شدہ مسئلہ بچوں پر ڈالے جانیوالے ضرورت سے زیادہ تعلیمی بوجھ کا ہے، جس کی سب سے نمایاں مثال بھاری اسکول بیگ ہیں۔

پانچ سال کے معصوم بچے بھی ایسے بیگ اٹھائے نظر آتے ہیں، جو طبی طور پر تجویز کردہ وزن سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمر درد، عضلاتی تناؤ، جسمانی ساخت کی خرابی اور طویل مدتی جسمانی مسائل جنم لیتے ہیں۔

جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ اس کے نفسیاتی اثرات بھی نہایت تشویشناک ہیں۔ آج کے بچے نصاب، مسلسل امتحانات اور غیرحقیقی توقعات کے دباؤ میں جکڑے ہوئے ہیں۔ والدین بھی ہوم ورک، ٹیوشن اور کارکردگی کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔

یہ ماحول ذہنی دباؤ، جذباتی تھکن اور سیکھنے اور خوشی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو جنم دیتا ہے۔ جو تعلیمی نظام بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچائے، وہ بالآخر اپنے ہی مقاصد کو ناکام بنا دیتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔

قانون سازوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اسکول اوقات، تعطیلات اور تعلیمی بوجھ معمولی انتظامی امور نہیں بلکہ عوامی فلاح کے بنیادی معاملات ہیں۔ خصوصاً خواتین اراکینِ پارلیمان اس بحث کی قیادت کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں، کیونکہ وہ بطور ماں اور سماجی نمایندہ خاندانوں اور بچوں کے روزمرہ مسائل کو بخوبی سمجھتی ہیں۔

موسمی حالات کے مطابق تعلیمی کیلنڈر، مناسب اسکول اوقات، اسکول بیگ کے وزن کی حد اور ان قوانین کا سخت نفاذ، یہ سب قانون سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کی اندھی نقل نہیں کر سکتا۔ وہاں جدید انفراسٹرکچر، قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ، موسم کے مطابق کلاس رومز اور مضبوط سماجی تحفظ کے نظام موجود ہیں۔

اسکول شیڈول میں اصلاح کا مطلب معیار کم کرنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں بچے محفوظ، صحت مند اور مؤثر طریقے سے سیکھ سکیں۔ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ اس ماحول سے تشکیل پاتی ہے جس میں سیکھنے کا عمل ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، والدین کے کام کے اوقات اور بچوں کی صحت کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ اگر پاکستان واقعی اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو حال کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اسکول اوقات اور تعطیلات پر نظرِ ثانی کوئی عیش نہیں، بلکہ ایک فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔

Load Next Story