پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
تعلیم حاصل کریں، تعلیم دیں اور تعلیم کا عام کریں، آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد ان تین الفاظ کے وجود پر قائم ہوئی جس کے خاتمے کے لیے چند جماعتوں کے پالے ہوئے شرپسند عناصر نے اپنے لیے خطرہ سمجھا اور کراچی یونیورسٹی میں اس تنظیم سے وابستہ طلبہ پر حملے کے منصوبوں کو عملی شکل دے کر کچھ کو زخمی تو کچھ کو تعلیمی ادارے سے باہر رہنے پر مجبور کیا۔
جن کی گرفتاریاں ایم پی او کے تحت کی گئی تھیں ان پر تھانوں سے جیل منتقل ہونے تک دہشت گردی کے مقدمات بنائے جاچکے تھے۔ ظاہر ہے کسی نہ کسی کی پشت پناہی پر ہی کیا گیا ہوگا تاکہ یہ طبقہ اعلی تعلیم سے دور رہے۔
جب یہ تنظیم تعلیمی اداروں سے نکل کر گلی محلوں میں پہنچی تو عوام نے دل و جاں سے خیر مقدم کیا ،بس یہ ہی وہ مقام تھا کہ اس کی بربادی کے لیے تعلیم وشعور رکھنے والوں کو سماج دشمن عناصر ثابت کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی۔
ذہنوں نے مل کرتباہ و برباد کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ،اب لسانی فسادات میں بھی ہمیں ملوث کیا گیا، قتل و غارت گری بھی ہمارے ہی علاقوں میں کرواکر ہمارے ہی نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں پابند سلاسل کیا گیا اور ہماری خواتین و بچوں کو تھانوں، ٹارچر سیلوں اور جیلوں کے دروازے دکھائے گئے۔
تذلیل کا ہر حربہ استعمال کیا گیا یہاں تک کہ پورے پورے علاقوں کا محاصرہ کرکے مرد حضرات کو گھر کی خواتین و بچوں کے سامنے گرفتار کیا گیا، کئی کئی گھنٹوں سر نیچا کرکے کھلے میدانوں میں تیز دھوپ میں کسی کو کھڑا کیا گیا تو کسی کو سب کے سامنے تشدد کرکے دیگر کو ڈرایا جس کا مقصد ہمیں خوف میں مبتلا کرنا تھا اور تعلیم سے دور رکھنا مقصود تھا۔
ان تمام نشیب و فراز میں کبھی توڑا گیا تو کبھی جوڑا گیا لیکن سچا نظریہ نہ کبھی ختم ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے وجود کو کمزور کرتا ہے۔
رات کی تاریکی سائے کو ختم ضرور کرتی ہے لیکن روشن صبح کی دلیل تاریکی کو ختم کردیتی ہے۔ ہماری داستان طویل ضرور ہے لیکن رکی نہیں، تشکیل پاکستان سے لیکر آج تک سفر جاری ہے۔
میں اس کے ساتھ ساتھ چند واقعات کا ذکر کرنا یہاں ضروری سمجھتی ہوں، شیعہ سنی فسادات 1982 کے اوائل میں ایسے ہوئے کہ پورا شہر اس کی لپیٹ میں آیا تو اس وقت اسی تحریک کے نوجوان میدان میں اترے اور تمام طبقات سے گفتگو شروع کی اور بل آخر جو کامیابی انھیں ملی اس کا سہرا عوام نے 30 نومبر 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں اپنا ووٹ دے کر انھیں اپنے شہروں کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا۔
یہ وہ عمل جس کی جستجو کراچی یونیورسٹی میں قائم کی گئی طلبہ تحریک نے 1978 میں شعور و آگہی کی بنیاد پر رکھی تھی جس کا پہلا میئر پیر الٰہی بخش کالونی کی گلیوں میں پیدا ہوکر پرورش پانے والا ایک نوجوان طالب علم تھا۔
خیر اب میں بات کو آگے کی جانب لے کر چلتی ہوں جیسا کہ اس تحریک کی بنیاد ہی تعلیم تھی لہٰذا 2004 میں موقع ملتے ہی ایک پروجیکٹ تعلیم کے حوالے سے بنایا گیا جس کا نام تھا’’ پڑھو اور بڑھو‘‘ جو گلی محلوں سے شروع ہوا اور اس میں ایسی خواتین جو اپنی تعلیم کو بوجہ مجبوری ادھوری چھوڑ چکی تھیں وہ عورتیں اور اس کے ساتھ ساتھ ناخواندہ خواتین کو تعلیم کی جانب راغب کیا گیا اور پھر عمر رسیدہ عورتیں بھی اس میں شامل ہوئیں جنہوں نے میٹرک تک تعلیم مکمل کی۔
یہ پروگرام آج بھی جاری ہے لیکن اب اس میں دور جدید کی تعلیم یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکنکل تعلیم کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ کے سبجیکٹ جسے لرن ٹو ارن بھی کہتے ہیں (یعنی سیکھو اور کماؤ) شامل کیے گئے ہیں جو مختلف کورسز پر مشتمل ہیں اور کامیابی سے جاری ہیں۔
میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ جن خواتین کو ٹریننگ دی جاتی ہے ان کو ماہانہ اعزازیہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ کم از کم اپنے آنے اور جانے کے اخراجات پورے کرسکیں اس کے علاوہ انھیں ملازمت کے حوالے سے بھرپور رہنمائی بھی کی جاتی ہے۔
سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے وجود میں آنے کے بعد ناظم کراچی کا انتخاب جب ہوا تو مصطفی کمال نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر جہاں شہر کراچی کی رونقوں کو بحال کیا وہیں شہر بھر کے تمام اسکولوں اور کالجوں کی تزئین و آرائش کرواکر ایک بار پھر ثابت کیا کہ مقام تعلیم بھی ہماری ترجیحات میں صف اول کی طرح شامل ہے۔
ٹوٹی عمارتیں، غیر پختہ فرش، ناقص نکاسی آب اور رنگ و روغن سے محروم تعلیمی اداروں کو جب نئی شکل دے کر بنایا گیا تو تعلیم لینے والے اور تعلیم دینے والے دونوں کو نہ صرف خوشگوار ماحول میسر آیا بلکہ تعلیم کا معیار بھی بلند ہوا۔
یاد رہے کہ اس کے بعد نہ تو کوئی اسکول بنایا گیا اور نہ ہی دوبارہ ان کی رینوویشن کا انتظام ہوا۔ بدقسمتی سے سندھ میں سات سال تک بلدیاتی انتخابات نہ کرواکر ترقی کی دوڑ کو روک دیا گیا۔
تاہم جیسے ہی سندھ میں ہمارے گورنر کا تقرر ہوا تو ملک کی تاریخ میں یہ پہلے گورنر ہیں جنہوں نے سب سے پہلے تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح دیتے ہوئے طلبہ کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے کھول دیئے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی نسبت بھی مندرجہ بالا تحریک سے منسلک ہے انھوں نے باحیثیت گورنر اعلان کیا کہ گورنر ہاؤس کو تعلیم کا مرکز بنائیں گے اور پھر کرکے دکھایا لاکھوں کی تعداد میں طلبہ رجسٹریشن کے ساتھ آج گورنر ہاؤس کے اندر کمپیوٹر کی جدید تعلیم کے کورسز مکمل کررہے ہیں جو مستقبل کے معمار ہیں۔
موجودہ وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی جو پہلے طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے جب سے ان کو منصب تعلیم کا قلم دان سونپا گیا ہے ان کی ترجیحات تعلیم کو عام کرنا اور لاکھوں بچے جو اسکولوں سے باہر ہیں، ان کے لیے مفت بیسک اسکول قائم کرنا سب سے اہم کام ہے۔
صرف کراچی میں ابتدائی سطح پر سو سے زائد اسکول بنائے گئے ہیں جو گھروں میں ہیں اور انٹر پاس مرد اور خواتین ان کو پہلی جماعت سے پانچویں تک داخلے دے کر پرائمری مکمل کروارہے ہیں۔
اس کے علاوہ کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ، ڈرائیونگ سرٹیفکیٹ اور ٹیکنیکل تعلیم کے متعدد اداروں کو لائن اپ کرکے مفت ڈپلومہ سرٹیفکیٹ کا اجراء کیا جارہا ہے تاکہ ہماری افرادی قوت اپنے کام کی بنیادی اسکلز کی سند حاصل کرسکے اور ملک یا بیرون ملک ایک سند یافتہ ورکر کا رتبہ پاسکے۔
اس کے علاوہ کراچی میں کیمپس کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ اس پیشے سے وابستہ افراد اور طلبہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی ان پٹ براہ راست دے سکیں۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تحریک کے ابتدائی سفر میں قوانین تھے، اہلیت و مرتبے کے حساب سے اختیارات دیے جاتے تھے، علاقائی کارکن کا رتبہ ایم پی اے و ایم این اے سے اوپر کا احترام تھا جوڑ توڑ اٹھا پٹخ کے دور میں پیراشوٹ کا استعمال شروع ہوگیا جس میں نئے چہرے ابھرکر سامنے آئے۔
اس عمل سے ضرور محسوس ہوا کہ منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے لیکن میں پھر بھی واضح طور پر بتاسکتی ہوں کہ پدر شاہی سسٹم سے یہ تنظیم اب تک دور ہے اور وراثت کی سیاست کو تحریک نے روک لیا ہے، تعلیم و تربیت ہماری پہچان تھی ہے اور انشا اللہ آیندہ بھی رہے گی اسی وجہ سے تو کہتی ہوں کہ
’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘