ہندوستان اور پاکستان کے معرکے کے بعد جہاں دنیا بھر میں ہندوستان کی سبکی ہوئی ہے، وہاں پاکستان کی نہ صرف سفارتی تنہائی یک دم ختم ہوگئی بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی قدر و منزلت میں گرانقدر اضافہ ہوا ہے۔
بچپن میں اگرکسی کی کوئی چڑ ہوتی تھی جیسے کریلا، کدو یا کوئی اور تو بار بار اس کو وہ کہہ کر زچ کیا جاتا تھا۔ اسی طرح لگتا ہے کہ سات طیاروں کا گرنا، ہندوستان کی چڑ بن گئی ہے اور صدر ٹرمپ بار بار اس کو یاد دلا کر ہندوستان کے زخموں کا تازہ رکھ رہے ہیں اور ہمیں خوشی کے مواقعے فراہم کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ انگریز سو سال آگے کا سوچتا ہے، ہندو پچاس سال آگے کا سوچتا ہے اور مسلمان ہونے کے پچاس سال بعد سوچتا ہے۔
بنگلہ دیش میں بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کے وفد کے قائد سردار ایاز صادق کی نشست پر خود آنا، مصافحہ کرنا، اپنا تعارف کروانا اور یہ کہنا کہ میں آپ سے واقف ہوں، یہ کوئی حادثاتی نہیں تھا بلکہ دنیا کے بدلتے حالات میں پاکستان کی اہمیت اورکردار کا اعتراف تھا۔
عسکری محاذ پر پاکستانی فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قیادت میں بالخصوص پاک فضائیہ نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا تو کرکٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہندوستان کی اجارہ داری کو تسلیم کرنے سے انکارکیا اور برابری کی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کروایا۔
ہم برابری کا دعویٰ تو بہت پہلے سے کرتے تھے مگر ہر دفعہ ہندوستان کے دباؤ کے آگے جھک کر ہندوستان چلے جاتے تھے۔ پہلی بار ہمارے الفاظ اور ہمارے عمل میں ہم آہنگی تھی تو ہم نے حسب منشا نتیجہ حاصل کیا۔
پاکستان نے ہندوستان کی افغانستان میں مداخلت کا بھرپور جواب بنگلہ دیش میں دیا، چونکہ یہ ریاستی معاملہ ہے، اس لیے اس سے زیادہ نہیں لکھا جاسکتا۔ یہ وہ تمام عوامل ہیں جو ہندوستانی وزیر خارجہ کو سردار ایاز صادق کی نشست پر لائے ہیں۔
یہ ابتداء ہے انتہا نہیں، اگر پاکستان نے آنے والے دنوں میں اپنے کارڈز دانش مندی سے کھیلے تو آپ بہت تیزی سے برف کو پگھلتے دیکھیں گے۔
آپ سوچ سکتے ہیں، 2024 کے آخر میں پاکستان کہاں تھا؟ اور 2025 کے آخر میں پاکستان کہاں ہے؟ اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو2026 کے شاندار ہونے کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔
اب ہم متحدہ عرب امارات کے صدر کے پہلے اور’’ اچانک‘‘ دورے پر آتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ عالمی تناظر میں کچھ بھی اچانک اور یکایک نہیں ہوتا، بہت سوچ سمجھ کر عالمی بساط پر مہرے بچھائے جاتے ہیں اور چالیں چلی جاتی ہیں۔ کہتے کہ دنیا کی سیاست میں کوئی مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتا۔
اس طالب علم کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے، اگر وہ کرنا بھی چاہتا تھا تو وہ بہت جلدی کرگیا۔
اس کے لیے بہتر ہوتا کہ پہلے وہ کسی طاقتور حلیف کو اپنے ساتھ شامل کرلیتا۔ ہوسکتا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی بڑی طاقت متحدہ عرب امارات کے پیچھے نہیں آتی تو اس کے اپنے ملک میں غیر ملکی تارکین وطن اس کے لیے مسئلہ ہوسکتے ہیں۔
سعودیہ کی بہت بڑی سرمایہ کاری ہندوستان میں ہے اور متحدہ عرب امارات میں پچاس فیصد سے زائد غیر ملکی تارکین وطن ہندوستانی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان اپنا وزن کس کے پلڑے میں ڈالتا ہے وہ بہت اہم ہے۔ پاکستان نے اپنا وزن سعودی عرب کے پلڑے میں ڈال دیا ہے ۔
اب اگر اس تناظر میں آپ بھارتی وزیر خارجہ کا مصافحہ دیکھیں گے تو عالمی بساط پر چلتی چالیں دکھائی دینے لگے گی۔
آنے والے دن دنیا کے لیے اور بالخصوص پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں اور جن عالمی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کی گئی تھی، حالات ان کی جانب پیش قدمی کرتے نظر آرہے ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کی واحد کمزوری اس کے داخلی حالات ہیں اور یہی وہ زنجیرکی کمزورکڑی ہے کہ جہاں ہمارا دشمن ہم پر حملہ آور ہے۔
ہماری دعا ہے کہ ہماری قیادت اس اہم موقعہ پر بصیرت کا ثبوت دے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کو اس کا صحیح مقام حاصل ہوں اور پاکستان کے عوام کی زندگی میں خوشیوں کا بسیرا ہوں۔ ابھی ابھی دوہزار چھبیس کا آغاز ہوا ہے۔ آیے! سب مل کر دعا کریں یہ سال پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور امن کا سال ہوں۔ (آمین)