نیا سال اور پرانا دکھ

گھروں کے اندرکیلنڈر تو بدل جاتے ہیں مگرگھروں کے باہر زندگی کی رفتار آہستہ اور زخمی ہے

نیا سال آگیا،کیلنڈر نے کروٹ بدلی، تاریخ کے ہندسے بدل گئے، مگرگلی کے کونے پر بیٹھا مزدور اب بھی سردی سے کانپ رہا ہے اور اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کرگرم کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

گھروں کے اندرکیلنڈر تو بدل جاتے ہیں مگرگھروں کے باہر زندگی کی رفتار آہستہ اور زخمی ہے۔ نیا سال آنا محض ایک رسمی اعلان ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کی حالت بھی سدھری یا اس میں کوئی بہتری آئی اور جواب اگر ایمانداری سے دیا جائے تو وہ نفی میں ہی ہے۔

ہر سال کے آغاز پر حکمرانوں کے لبوں پر امیدوں کے مصنوعی پھول کھل جاتے ہیں۔ تقریریں ہوتی ہیں، بیانات آتے ہیں، ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں مگر یہ خواب ہمیشہ ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں دیکھے جاتے ہیں جہاں بجلی کا بل مسئلہ نہیں ہوتا۔

جہاں آٹا، دال اور تیل کی قیمتیں محض اعداد و شمار ہوتی ہیں اور جہاں غربت ایک موضوع گفتگو ہے، کوئی جیتی جاگتی حقیقت نہیں۔ مگر عوام کے لیے ہر نیا سال پرانے زخموں کے ساتھ آتا ہے، مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور بے یقینی یہ سب اس کے مستقل ساتھی ہیں۔

غربت اس ملک میں کوئی حادثہ نہیں، یہ ایک منظم پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک طرف نئے سال کی خوشیوں کے نام پر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں محفلیں سج رہی ہوتیں اور دوسری طرف ماں اپنے بچوں کو یہ سمجھانے میں ناکام نہ ہوتی کہ آج وہ بھوکے پیٹ کیوں ہیں۔ اگر ریاست واقعی عوام دوست ہوتی تو نئے سال کے پہلے دن کسی مزدور کو یہ خوف نہ ہوتا کہ شاید آج کام نہ ملے اور گھر کا چولہا نہ جلے۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ غربت محض خیرات سے ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی جذباتی نعروں سے۔ غربت کا خاتمہ انصاف سے ہوتا ہے۔ ایسے انصاف سے جو تنخواہوں میں نظر آئے جو قیمتوں کے کنٹرول میں جھلکے جو تعلیم اور صحت کے دروازے واقعی سب کے لیے کھول دے۔

مگر ہمارے ہاں انصاف ایک نعرہ ہے، ایک وعدہ ہے، ایک خواب ہے۔ مگر حکومتی سطح پہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جا رہا جس سے عام انسان کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی آسکے۔

حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے غریب کی زندگی میں واقعی چین اور سکون آئے۔ سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ معیشت کا بوجھ ہمیشہ کمزورکندھوں پر ڈالنے کی روایت ختم کی جائے۔

ٹیکس کا نظام ایسا ہوکہ جس کے پاس زیادہ ہے وہ زیادہ دے اور جس کے پاس کچھ نہیں، اس سے جینے کا حق نہ چھینا جائے۔ مگر یہاں الٹا حساب چلتا ہے، روٹی پر ٹیکس، دوا پر ٹیکس، بجلی پر ٹیکس اور بڑے مگرمچھ آرام سے ٹیکس کی چوری کرتے ہیں اور قانون کی گرفت سے بچے رہتے ہیں۔

تعلیم کی بات کی جاتی ہے مگر سرکاری اسکولوں کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نیا سال آیا ہے توکیا کسی غریب بچے کے ہاتھ میں نئی کتاب آئی؟ یا وہی پرانی، پھٹی ہوئی کاپی اس کا مقدر بنی؟ تعلیم صرف نصاب کا نام نہیں، یہ امید کا نام ہے۔ جب تعلیم امیروں کی میراث بن جائے تو غریب کے حصے میں صرف مزدوری آتی ہے خواب نہیں۔

صحت کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں بسترکم اور مریض زیادہ ہیں۔ دوا لکھ دی جاتی ہے مگر وہ موجود نہیں ہوتی۔ نیا سال آیا ہے مگرکیا کسی غریب کو یہ اطمینان نصیب ہوا کہ بیماری کی صورت میں اسے علاج مل جائے گا یا وہ اب بھی بیماری اور قرض کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہے۔

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں صبر کو غریب کی سب سے بڑی خوبی بنا دیا گیا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے صبر کرو، حالات بدلیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کب؟ اورکس قیمت پر؟ کیا صبر صرف اس کے حصے میں آیا ہے؟ کیا طاقتور کبھی صبر کی آزمائش سے گزرتے ہیں؟ یا ان کے لیے ہر سال واقعی نیا ہوتا ہے۔

نیا سال ہمیں یہ یاد دلانے آیا ہے کہ وقت رک نہیں رہا مگر ہم سماجی انصاف کے معاملے میں وہیں کھڑے ہیں جہاں برسوں پہلے تھے۔ حکمران بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں مگر پالیسیاں نہیں بدلتیں اور جب پالیسیاں نہیں بدلیں گی تو عوام کی حالت کیسے بدلے گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت محض اعلانات سے آگے بڑھے۔ کم ازکم اجرت کو تو جینے کے قابل بنایا جائے۔ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ چھوٹے کسان، مزدور،گھریلو خواتین ان کی زندگی کو آسان بنایا جائے۔

جب تک محنت کرنے والے کو عزت نہیں ملے گی، چین اور سکون ایک خواب ہی رہے گا۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے اجتماعی ضمیر سے سوال کریں۔ کیا ہم واقعی ایک منصفانہ سماج چاہتے ہیں، اگر ہم نے اس سال بھی غریب کو صرف صبرکا درس دیا اور امیرکو مزید مراعات دیں تو اگلا سال بھی اسی سوال کے ساتھ آئے گا کہ تاریخ بدلی مگر زندگی میں کچھ اورکیوں نہ بدلا۔

اصلی نئے سال کی خوشی تب ہوگی، جب مزدور کے چہرے پر فکرکی جگہ اطمینان ہوگا جس دن کسی ماں کو یہ حساب نہیں لگانا پڑے گا کہ دوا لے یا دودھ، جس دن ریاست واقعی ماں کی طرح اپنے شہریوں کی فکر کرے گی، اس دن کیلنڈر بدلنا غیر ضروری ہو جائے گا کیونکہ زندگی خود بدل چکی ہوگی۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عوام کے مسائل کا حل رسمی اعلانات میں نہیں بلکہ ایسے ٹھوس اقدامات میں ہے جو عام انسان کی زندگی کو واقعی بدل سکیں۔ جب فیصلے بند کمروں میں ہوں اور ان میں عام آدمی کی آواز شامل نہ ہو تو پالیسیاں ہمیشہ طاقتور طبقے کے حق میں ہی بنتی ہیں۔

جب سماج سوال کرنا چھوڑ دے، ناانصافی سے سمجھوتا کر لے اور غربت کو قسمت مان لے تو پھرآنے والا ہر نیا سال پرانے دکھوں اور نا امیدی کے ساتھ دستک دیتا ہے۔

Load Next Story