افغانستان ایک ایسا بدنصیب ملک ہے جسے برسوں سے استحکام نصیب نہیں ہوا۔ یہ اکثر غیرملکی جارحیت کا شکار رہا ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کی اشرافیہ ہر حملہ آورکے ساتھ سمجھوتہ کر لیتی ہے اور ان کے ساتھ چلنے لگتی ہے جب کہ افغانستان کے عوام نے کسی بھی جارح کی حکمرانی کو قبول نہیں کیا ہے۔
گزشتہ سو سالوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ یہ کبھی برطانوی جارحیت کا شکار ہوا تو کبھی روس نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، پھر امریکا نے روس کے بعد اپنا اقتدار قائم کر لیا۔
خوش قسمتی سے یہ پاکستان ہی ہے جس نے افغانستان کو روسی اور امریکی تسلط سے آزاد کرایا مگر آج وہی پاکستان جس کی کوششوں سے طالبان افغانستان کے حکمران بنے ہیں، پاکستان کے دشمن بن گئے ہیں۔
پاکستان نے اپنی بساط کے مطابق جو بھی افغان عوام کی خدمت کر سکتا تھا، کی۔ افغانستان پر روسی جارحیت ہو یا امریکی قبضہ پاکستان نے وہاں سے آئے لاکھوں پناہ گزینوں کو قبول کیا اور انھیں اپنے ہاں باوقار طریقے سے اسلامی بھائی چارے کے تحت برسوں مہمان نوازی کی۔
گوکہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ہمیشہ اپنا برادر مسلم ملک ہونے کے ناتے مضبوط برادرانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی مگر افغان حکمرانوں نے نہ جانے کیوں پاکستان کو دشمنوں کی نظر سے دیکھا اور نقصان پہنچانے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ حقیقت میں نقصان پہنچایا۔
جب کہ پاکستان نے پھر بھی اپنا برادر ملک سمجھا اور اس کے مفاد کے لیے کوشاں رہا، بدقسمتی سے افغان حکمران خود بھی پاکستان کے دشمن بنے رہے اور پاکستان کے دشمنوں سے تعلقات استوار کرکے ان کے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مذموم منصوبوں میں بھی شریک رہے۔
پاکستان سے افغانستان کی دشمنی کا معاملہ قیام پاکستان سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت پاکستان ایک نیا اسلامی ملک بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا۔ افغانستان کے لیے یہ ایک اچھا موقع تھا کہ ایک اسلامی ملک جو کروڑوں پرعزم اسلامی ثقافت رکھنے والے انسانوں کا حامل تھا، ان سے گہرے دوستانہ روابط قائم کرتا۔
مگر اسے کیا کہیے کہ افغان حکمرانوں نے پاکستان کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا اور بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں، نہ صرف پاکستان مخالف گروپوں سے تعلقات قائم کر لیے حتیٰ کہ بھارت جیسے پاکستان کے دشمن کو بھی اپنا دوست بنا لیا۔
دراصل بھارتی حکمرانوں کی طرح افغان حکمرانوں کا بھی خیال تھا کہ پاکستان بن گیا ہے مگر زیادہ دیر نہیں چلے گا، اس لیے پاکستان سے کیا دوستی بنانا، اصل تو بھارت ہے جو بڑا ملک ہے لہٰذا اس سے کیوں نہ تعلقات کو مضبوط کیا جائے اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔
افغانستان نے پاکستان کے وجود کو بادل نخواستہ تسلیم کیا، مگر تعلقات پھر بھی سردمہری کا شکار رہے۔ چند سال بعد وہاں بادشاہت ختم کر دی گئی اور سردار داوڈ نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس دوران بھی ان کا بھارت کی حمایت میں اور پاکستان مخالف رویہ برقرار رہا۔
افغانستان میں حکومتوں کے تسلسل سے تختے الٹتے رہے اور ملک سخت عدم استحکام کا شکار ہوتا رہا مگر انھیں اس کی ذرا فکر نہیں تھی۔ افغانستان کے عدم استحکام اور عوام کی حالت زار نے ملک کو اتنا کمزور کر دیا کہ روس نے موقع غنیمت جان کر افغانستان پر قبضہ کر لیا۔
روسی قبضے سے افغان عوام کی جان چھڑانے کے لیے پاکستان حرکت میں آیا اور امریکی مدد سے روس کو شکست دے کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔
اس کے بعد نائن الیون کا سانحہ پیش آ گیا۔ اس وقت افغانستان پر طالبان حکومت کر رہے تھے۔ طالبان کے سربراہ ملا عمر تھے، انھوں نے امریکی حکومت کو مطلوب اسامہ بن لادن کو اپنے ہاں مہمان بنا لیا۔
اسامہ بن لادن پر الزام تھا کہ وہی نائن الیون کے سانحے کا ذمے دار تھا، چنانچہ امریکی حکومت بضد تھی کہ اسامہ بن لادن کو فوراً افغانستان سے نکالا جائے مگر ملا عمر نے لیت ولعل سے کام لینا شروع کردیا اور پھر یہ ہوا کہ امریکا خود افغانستان پر قابض ہوگیا۔
امریکی قبضے سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے لیے افغانستان کو اپنا مرکز بنا لیا۔ بھارت ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں برابر دہشت گردی کراتا رہا، پھر امریکی افغانستان کو غیرمنافع بخش علاقہ قرار دے کر وہاں سے رخصت ہو گئے اور طالبان کو حکومت کرنے کا نادر موقع ہاتھ لگ گیا۔
پاکستان نے طالبان حکومت کی ہر ممکن مدد کی جب کہ کوئی بھی ملک امریکا کی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار نہیں تھا، اب طالبان افغانستان کے حکمران ہیں مگر پاکستان نے ان سے جو امیدیں وابستہ کی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں کیونکہ تحریک طالبان پاکستان اب بھی پاکستان میں دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کی لاکھ شکایت پر بھی طالبان ٹی ٹی پی کو پاکستان پر حملے کرنے سے نہ روک سکے اور روکتے بھی کیسے کہ وہ تو ٹی ٹی پی کو اپنا سمجھتے ہیں ۔
ٹی ٹی پی کے مسلسل حملوں کے بعد پاکستان نے طالبان حکومت کی سردمہری دیکھ کر افغان سرحد کے اندر ٹی ٹی کے ٹھکانوں کا صفایا کرنے کی کوشش کی جس کی افغانستان نے مزاحمت کی جس سے طالبان کی پاکستان دشمنی ثابت ہو گئی۔
چنانچہ پاکستان نے اصل حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے نہ صرف افغانستان سے تجارت ختم کر دی بلکہ طورخم کے راستے کو بھی بند کر دیا۔
اس وقت افغانستان سخت پریشانی میں ہے، انھوں نے بھارت سے دوستی کر لی ہے مگر مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اس وقت افغانستان کے حالات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں، طالبان مخالف گروپ پھر طالبان کے خلاف برسر پیکار ہو گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر خود طالبان میں پاکستان سے دشمنی کرنے اور بھارت کو گلے لگانے پر سخت اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
چنانچہ طالبان حکومت سخت خطرے میں ہے۔ کیا پتا کب طالبان حکومت ختم ہو جائے؟ ویسے بھی وہاں حکومتوں کا تختہ الٹا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک معمول کی بات ہے۔