وینزویلا پر امریکی کارروائی کے بعد عالمی تشویش، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں وینزویلا میں امریکا کی فوجی کارروائی پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش اور بین الاقوامی نظام کو لاحق ممکنہ خطرات پر غور کیا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔
ان کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل اس بات پر شدید فکرمند ہیں کہ امریکا کی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
یہ اجلاس کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا، جس کی چین اور روس نے حمایت کی، جبکہ وینزویلا نے بھی باضابطہ طور پر سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔
اجلاس ’’بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات‘‘ کے ایجنڈے کے تحت ہوگا اور سیکریٹری جنرل کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔
وینزویلا نے امریکی اقدام کو اپنی خودمختاری کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی قدرتی وسائل، خصوصاً تیل کے ذخائر پر قبضے کی کوشش ہے۔
چین اور روس نے بھی امریکا کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی سکیورٹی اور جرائم سے نمٹنے کے لیے کی گئی، تاہم متعدد ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاستی سربراہ کو طاقت کے ذریعے ہٹانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں سخت اختلافات متوقع ہیں اور کسی متفقہ قرارداد کا امکان کم ہے۔